آسام میں مسلمانوں پر پرتشدد حملے
بھارت میں ایک عرصے سے مسلمان کمیونٹی کے ساتھ انتہاپسندانہ رویہ رکھا جارہا ہے
مختلف مذہبی جنونیوں اور انتہاپسند پارٹیوں کی جانب سے مسلمانوں پر تشدد اور قتل و غارت کے واقعات ملک بھر میں جاری ہیں۔فوٹو:اے ایف پی/فائل
بھارتی ریاست آسام میں باغیوں کے حملوں میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کے لواحقین نے احتجاجاً میتوں کو دفنانے سے انکار کردیا ہے۔ واضح رہے کہ آسام میں ماؤ باغیوں نے انتخابات میں اپنی تنظیم کو ووٹ نہ دینے پر بنگالی مسلمانوں پر رات کے وقت حملے شروع کردیے تھے اور گزشتہ 3 دن کے دوران قتل ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 35 ہوگئی ہے، جب کہ سو سے زائد گھر جلا دیے گئے ہیں اور ہزاروں خاندان علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی کرگئے ہیں۔ حملوں کے وقت گھروں میں خواتین، بچے اور بڑے سورہے تھے جب ان پر فائرنگ کی گئی۔ متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ رویہ سیکولر ریاست ہونے کے دعوے دار بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے۔
بھارت میں ایک عرصے سے مسلمان کمیونٹی کے ساتھ انتہاپسندانہ رویہ رکھا جارہا ہے، مختلف مذہبی جنونیوں اور انتہاپسند پارٹیوں کی جانب سے مسلمانوں پر تشدد اور قتل و غارت کے واقعات ملک بھر میں جاری ہیں اور عالمی سطح پر تنقید کے باوجود بھارتی حکومت ان واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات نہیں کر پائی ہے یا شاید مسلمانوں کے درد کا مداوا کرنا بھارتی حکومت کے ایجنڈے میں ہی شامل نہیں ہے۔ آسام میں جمعرات اور جمعے کی رات ہونے والے ان حملوں کی ذمے داری مقامی پولیس بودو قبائل پر ڈال رہی ہے۔ مقامی میڈیا نے بھی بتایا کہ بودو قبائل کے لوگوں نے مسلم کمیونٹی کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ انھوں نے انتخابات میں ان کے امیدوار کو سپورٹ نہیں کیا جب کہ بی جے پی نے کانگریس کی ریاستی حکومت کو امن و امان کی خراب صورتحال کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ واضح رہے کہ حملے میں متاثر ہونے والے مسلمان ہمسایہ ملک بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آسام میں آباد ہوئے ہیں لیکن مذکورہ حملوں کے بعد مسلم کمیونٹی کے اسٹوڈنٹ یونین رہنما عبدالرحیم کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد گھربار چھوڑ کر بنگلہ دیش اور بھوٹان کے سرحدی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہوں کی طرف نکل گئے ہیں۔
آسام کے وزیراعلیٰ ترون گوگی کا کہنا ہے کہ ذمے داروں کو سزا ضرور ملے گی جب کہ فوجیوں سمیت سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں بکسا اور کوکراجھاڑ کو گھیرے میں لے رکھا ہے، گوگی کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی کے اقدامات سخت کردیے ہیں اور اب تک 30 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ لیکن علاقے میں مزید سیکیورٹی کے باوجود مسلم رہنما ابراہمی علی کے مطابق ''یہاں بڑا خوفناک اور پردرد منظر ہے''۔ بکسا میں مسلمانوں نے 18 شہدا کی تدفین سے انکار کردیا ہے۔ آل بنگالی مسلم اسٹوڈنٹس یونین کے صدر لفیق الاسلام نے کہا ہے کہ ''ریاستی حکومت انھیں تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے، ہم اس وقت تک جنازے نہیں پڑھیں گے جب تک وزیراعلیٰ خود جائے وقوع کا دورہ نہیں کریں گے اور احتجاج جاری رکھیں گے''۔ پولیس نے الزام لگایاکہ بودولینڈ کی کالعدم نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ نے مسلم کشی کی ہے کیونکہ نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ عشروں سے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔
ادھر بھارتی حکومت نے مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن کیا معصوم اور بے گناہوں کا خون بہانے کے بعد عوامی اشتعال کو کم کیا جاسکتا ہے؟ واقعے کا افسوسناک پہلو یہی ہے کہ زیادہ تر مسلمان عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔ کیا ان کے لواحقین مرد اپنے پیاروں کی موت یوں آسانی سے فراموش کرسکیں گے۔ کشمیر میں برسوں سے جاری بھارتی جارحیت سے کون واقف نہیں لیکن بھارت کا تنگ نظر رویہ ہمیشہ مسلمانوں کی جانب ہی رہا۔گجرات کے قتل عام کو کون فراموش کرسکتا ہے جن نریندر مودی وزیراعلیٰ تھے۔ بھارتی مسلمان ویسے بھی 'پرامن' زندگی ہی گزار رہے ہیں اور پرتشدد کارروائیوں کی ابتدا ہمیشہ بھارت کی انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے کی جاتی ہے۔ بھارتی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور نفرت کی اس فضا کو ختم کرنے کے لیے صائب اقدامات کرنے چاہئیں ۔
بھارت میں ایک عرصے سے مسلمان کمیونٹی کے ساتھ انتہاپسندانہ رویہ رکھا جارہا ہے، مختلف مذہبی جنونیوں اور انتہاپسند پارٹیوں کی جانب سے مسلمانوں پر تشدد اور قتل و غارت کے واقعات ملک بھر میں جاری ہیں اور عالمی سطح پر تنقید کے باوجود بھارتی حکومت ان واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات نہیں کر پائی ہے یا شاید مسلمانوں کے درد کا مداوا کرنا بھارتی حکومت کے ایجنڈے میں ہی شامل نہیں ہے۔ آسام میں جمعرات اور جمعے کی رات ہونے والے ان حملوں کی ذمے داری مقامی پولیس بودو قبائل پر ڈال رہی ہے۔ مقامی میڈیا نے بھی بتایا کہ بودو قبائل کے لوگوں نے مسلم کمیونٹی کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ انھوں نے انتخابات میں ان کے امیدوار کو سپورٹ نہیں کیا جب کہ بی جے پی نے کانگریس کی ریاستی حکومت کو امن و امان کی خراب صورتحال کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ واضح رہے کہ حملے میں متاثر ہونے والے مسلمان ہمسایہ ملک بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آسام میں آباد ہوئے ہیں لیکن مذکورہ حملوں کے بعد مسلم کمیونٹی کے اسٹوڈنٹ یونین رہنما عبدالرحیم کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد گھربار چھوڑ کر بنگلہ دیش اور بھوٹان کے سرحدی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہوں کی طرف نکل گئے ہیں۔
آسام کے وزیراعلیٰ ترون گوگی کا کہنا ہے کہ ذمے داروں کو سزا ضرور ملے گی جب کہ فوجیوں سمیت سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں بکسا اور کوکراجھاڑ کو گھیرے میں لے رکھا ہے، گوگی کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی کے اقدامات سخت کردیے ہیں اور اب تک 30 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ لیکن علاقے میں مزید سیکیورٹی کے باوجود مسلم رہنما ابراہمی علی کے مطابق ''یہاں بڑا خوفناک اور پردرد منظر ہے''۔ بکسا میں مسلمانوں نے 18 شہدا کی تدفین سے انکار کردیا ہے۔ آل بنگالی مسلم اسٹوڈنٹس یونین کے صدر لفیق الاسلام نے کہا ہے کہ ''ریاستی حکومت انھیں تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے، ہم اس وقت تک جنازے نہیں پڑھیں گے جب تک وزیراعلیٰ خود جائے وقوع کا دورہ نہیں کریں گے اور احتجاج جاری رکھیں گے''۔ پولیس نے الزام لگایاکہ بودولینڈ کی کالعدم نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ نے مسلم کشی کی ہے کیونکہ نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ عشروں سے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔
ادھر بھارتی حکومت نے مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن کیا معصوم اور بے گناہوں کا خون بہانے کے بعد عوامی اشتعال کو کم کیا جاسکتا ہے؟ واقعے کا افسوسناک پہلو یہی ہے کہ زیادہ تر مسلمان عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔ کیا ان کے لواحقین مرد اپنے پیاروں کی موت یوں آسانی سے فراموش کرسکیں گے۔ کشمیر میں برسوں سے جاری بھارتی جارحیت سے کون واقف نہیں لیکن بھارت کا تنگ نظر رویہ ہمیشہ مسلمانوں کی جانب ہی رہا۔گجرات کے قتل عام کو کون فراموش کرسکتا ہے جن نریندر مودی وزیراعلیٰ تھے۔ بھارتی مسلمان ویسے بھی 'پرامن' زندگی ہی گزار رہے ہیں اور پرتشدد کارروائیوں کی ابتدا ہمیشہ بھارت کی انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے کی جاتی ہے۔ بھارتی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور نفرت کی اس فضا کو ختم کرنے کے لیے صائب اقدامات کرنے چاہئیں ۔