یہی مینار میری زندگی ہے
ہمارے حکمران بے فکر ہو کر خوابوں کے خود ساختہ جزیروں میں گھوم رہے ہیں۔
Abdulqhasan@hotmail.com
ہمارے حکمران بے فکر ہو کر خوابوں کے خود ساختہ جزیروں میں گھوم رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے مدح خوانوں کی ایک ٹولی ترتیب دے لی ہے جو ان کی شخصیت کو مسلسل سنوارتی اور آراستہ و پیراستہ کرتی رہتی ہے اور مزید برآں کسی شاطر کی طرح ان کی صبح کو بھی بدمزہ نہیں ہونے دیتی۔ میں نے ایک بار نیشنل پریس ٹرسٹ کے ایک ایڈیٹر سے پوچھا کہ کیا حکمرانوں کو اس کا علم نہیں کہ ان کے تنخواہ دار ہر روز ان کی تعریف چھاپ رہے ہیں، اس کا جواب بڑا واضح تھا کہ صبح جب وہ اخبار کھولتے ہیں تو ان کی کسی تقریر کی لیڈ اسٹوری ہوتی ہے جو پہلے صفحے پر چھائی ہوئی ہوتی ہے دوسری خبریں بھی اس کی تائید میں ہی ہوتی ہیں اور اس طرح حکمران کی صبح کسی تلخی کے بغیر شروع ہوتی ہے اور یہ بڑی بات ہے۔
اس سلسلے میں یہ واقعہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ایک جرات مند افسر نے سیاسی اضطراب کے دنوں میں اپوزیشن کا ایک پورا اخبار ہی جعلی چھاپ دیا تھا، اخبار کا نام ایڈیٹر کا نام سب جعلی تھے اور ظاہر ہے کہ خبریں بھی ایسی ہی من پسند تھیں۔ لوگوں نے انتہائی حیرت میں یہ بات سنی اور چند لوگوں نے یہ تاریخی اخبار محفوظ بھی کر لیا۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا اور آخری تاریخی اخبار تھی۔ جناب بھٹو کے زمانے میں بھی ایسی ہی ایک دلچسپ تجویز پیش کی گئی۔ تجویز یہ پیش کی گئی کہ اپوزیشن کے واحد اخبار نوائے وقت کو قومی تحویل میں لے لیا جائے۔ مولانا کوثر نیازی کی یہ تجویز تھی جو وزیر اطلاعات تھے۔ بھٹو صاحب نے پوچھا کہ اس کا ایڈیٹر کون ہو گا کیا مجید نظامی ہو گا تو جواب ملا کہ یہ تو نہیں ہوگا تو پھر اس اخبار کو تحویل میں لے کر جگ ہنسائی کرانے کا کیا فائدہ۔ میں عرض یہ کر رہا تھا کہ پسند کا اخبار کسی حکمران کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ ہم صحافی سیاسی حکمرانوں کی اسی کمزوری پر عیش کرتے ہیں جن صحافیوں نے قارئین کی نظروں میں اپنی عزت بچا کر رکھی ہوئی ہے اور ان کی تحریر کی لوگ عزت بھی کرتے ہیں انھوں نے صحافت کو ایک باعزت پیشہ بنا کر رکھا ہوا ہے جس سے تعلق باعث عزت سمجھا جاتا ہے۔
ایک کارکن اخبار نویس ہونے کی وجہ سے میں خوب جانتا ہوں کہ صحافت میں عزت کی حفاظت کتنی مشکل ہوتی ہے، الفاظ کی اس دنیا میں بچ بچا کر چلنا کس قدر مشکل اور بعض اوقات نا ممکن ہوتا ہے لیکن وہ صحافی خوش قسمت ہیں جو عزت نفس کے چکر میں نہیں پڑتے۔ عمر بھر کی درجہ اول کی صحافت کے بعد اگر اب برسوں بعد جا کر کہیں دو وقت کی روٹی آرام کے ساتھ مل رہی ہے تو اس کی وجہ نہ جانے کیا ہے۔ میں نے صحافت کے معاشی ماہرین سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ میڈیا کی دنیا میں معاشی بہتری عروج پر ہے اور اس اچانک عروج کے کئی اسباب ہیں جن کے کچھ چھینٹے میرے جیسے مال و زر سے محروم صحافی پر بھی گر پڑے ہیں اور میں نے یہ داغ اور چھینٹے محفوظ کر لیے ہیں۔ دفتر والوں نے تنخواہ میں اضافے کے ساتھ سواری بھی دے دی ہے اس کا پٹرول اور مرمت بھی سرکاری خرچ پر یعنی میں، میری گاڑی اور میرے دوسرے اخراجات یہ سب روزنامہ ایکسپریس کے سپرد ، میں البتہ قارئین کے سپرد وہ جب تک پسند کریں گے میں ان کو تنگ کرتا رہوں گا لیکن ان پر اپنی خواہشات کا بوجھ نہیں لادوں گا جیسے میرے دوسرے دوست نے اپنے پورے ادارے کو داؤ پر لگا دیا ہے اور بھارتی بھی ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں۔
جو قوم محلے کی مسجد میں سفیدی پر گھبرا جاتی ہو وہ ہمیں بندوقوں سے ڈرا رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ بھارت میں کسی نو طاقتے کی حکومت آنے والی ہے اور وہ ابھی سے بے قرار ہو رہا ہے، خوشی کے یہ چند دن وہ دھومیں مچالے پاکستان میں وہ وہی ہی ہے جو الیکشن سے پہلے تھا۔ ہمارے گاؤں میں ایک محاورہ ہے کہ عزت بے عزتی ہر ایک کی اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے، حامد اگر اپنی عزت بچانا چاہتے ہیں تو بچا لیں۔ کسی وزیراعظم کی بیماری پرس تو خود وزیراعظم کے لیے ہو سکتا ہے ایک آزمائش بن جائے کیونکہ ان کے گرد و نواح میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بھٹو کے لیے لوگوں کو خود سوزی پر اکسایا کرتے تھے۔ جناب وزیراعظم نے ایک بار ٹی وی پر اچھے اور موثر لہجے میں تقریر کر ڈالی۔ اب ان کے دو خوشامدی جو متعلقہ بھی تھے اور ہوشیار بھی دونوں نے اس تقریر پر وزیراعظم کی تعریف کا فیصلہ کیا۔ الفاظ یہ تھے کہ سر! آج تو آپ کی خوشامد کرنے کو جی چاہتا ہے۔
جو لوگ کسی بھی طرح حکومت میں پہنچ جاتے ہیں وہ عام لوگ نہیں ہوتے اس لیے نادان لوگ ہی حکمرانوں کو مشورے دیا کرتے ہیں، یہی کیا کم ہے کہ ہماری موجودہ حکومت کی کوئی اپوزیشن نہیں ہے اور جو ہے وہ کسی معاہدے کے تحت خاموش ہے۔ اس وقت حکومت کی اپوزیشن خود اس کے اپنے وزراء اور ان کی پالیسیاں ہیں اور بازار کی مہنگائی ہے جو اس وقت حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن ہے۔ بجلی کے بارے میں حکمرانوں نے اعلان کر دیا ہے کہ آیندہ تین ماہ تک اس کی قلت رہے گی یعنی یہ موسم گرما اب لوگ پنکھوں پر گزارنے کی کوشش کریں اور پنکھے بھی دستی کیونکہ دوسرے پنکھے تو بجلی سے چلتے ہیں۔ ہمارے دوست حامد میر نے تو محض زحمت کی ہے بازار تیار تھا۔ مہنگائی اور نایابی دونوں موجود اگر حامد میر کی کسر باقی تھی تو وہ تو پوری ہو گئی اب حامد میر اپنے دوستوں سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنا پرانا غصہ پورا کرنے کے لیے تیاری کر لیں اور پاکستان کو سبق سکھا دیں۔
بھارت کے پاکستانی دوستوں سے کون کہے کہ غداری صرف خفیہ سراغرسانی اور جاسوسی میں نہیں ہوتی، سوال یہ ہوتا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے اور اس کا وزن کہاں ہے۔ کسی مسجد کے مینار کو بچانا ہے یا کسی مندر کی دیوار کو۔ میدان جنگ میں جب ہر سمت گولے برس رہے تھے اور دائیں بائیں ہرطرف موت تھی تو ایک سپاہی سے کسی نے پوچھا کہ اب تم کس کے لیے لڑ رہے ہو۔ سیاسی نے کہا ادھر آئیں وہ مسجد دیکھ رہے ہیں جس کا ایک مینار ہمارے سامنے ہے۔ میں اسی مینار کو بچانے کے لیے لڑ رہا ہوں، یہ بچے نہ بچے لیکن میں تو اس کے لیے جان لڑا دوں گا۔ بس یہی مینار میری زندگی ہے جس کے لیے میں اب جی رہا ہوں۔
پاکستان کے خواتین و حضرات سارا مسئلہ ہی اس مینار کا ہے اور یہی مینار حامد اور ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ کوئی اسے ہر قیمت پر ایستادہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہاں سے اذان کی آواز بلند ہوتی رہے اور کسی کو اس کے گرنے کی پروا نہیں۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کی حفاظت کرے گا۔ جنرل راحیل یہ وعدہ ضرور یاد کریں اور اس کی پروا نہ کریں کہ کون کس کی عیادت کرتا ہے۔ یہ سب عارضی لوگ ہیں آتے جاتے رہتے ہیں جو کوئی پاکستانی نظریات پر اعتماد اور یقین رکھتا ہے بس وہی پاکستانی ہے۔ باقی سب ہمارے جیسے وقت گزارنے والے لوگ ہیں جو میناروں کو صرف دیکھتے ہیں۔
اس سلسلے میں یہ واقعہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ایک جرات مند افسر نے سیاسی اضطراب کے دنوں میں اپوزیشن کا ایک پورا اخبار ہی جعلی چھاپ دیا تھا، اخبار کا نام ایڈیٹر کا نام سب جعلی تھے اور ظاہر ہے کہ خبریں بھی ایسی ہی من پسند تھیں۔ لوگوں نے انتہائی حیرت میں یہ بات سنی اور چند لوگوں نے یہ تاریخی اخبار محفوظ بھی کر لیا۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا اور آخری تاریخی اخبار تھی۔ جناب بھٹو کے زمانے میں بھی ایسی ہی ایک دلچسپ تجویز پیش کی گئی۔ تجویز یہ پیش کی گئی کہ اپوزیشن کے واحد اخبار نوائے وقت کو قومی تحویل میں لے لیا جائے۔ مولانا کوثر نیازی کی یہ تجویز تھی جو وزیر اطلاعات تھے۔ بھٹو صاحب نے پوچھا کہ اس کا ایڈیٹر کون ہو گا کیا مجید نظامی ہو گا تو جواب ملا کہ یہ تو نہیں ہوگا تو پھر اس اخبار کو تحویل میں لے کر جگ ہنسائی کرانے کا کیا فائدہ۔ میں عرض یہ کر رہا تھا کہ پسند کا اخبار کسی حکمران کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ ہم صحافی سیاسی حکمرانوں کی اسی کمزوری پر عیش کرتے ہیں جن صحافیوں نے قارئین کی نظروں میں اپنی عزت بچا کر رکھی ہوئی ہے اور ان کی تحریر کی لوگ عزت بھی کرتے ہیں انھوں نے صحافت کو ایک باعزت پیشہ بنا کر رکھا ہوا ہے جس سے تعلق باعث عزت سمجھا جاتا ہے۔
ایک کارکن اخبار نویس ہونے کی وجہ سے میں خوب جانتا ہوں کہ صحافت میں عزت کی حفاظت کتنی مشکل ہوتی ہے، الفاظ کی اس دنیا میں بچ بچا کر چلنا کس قدر مشکل اور بعض اوقات نا ممکن ہوتا ہے لیکن وہ صحافی خوش قسمت ہیں جو عزت نفس کے چکر میں نہیں پڑتے۔ عمر بھر کی درجہ اول کی صحافت کے بعد اگر اب برسوں بعد جا کر کہیں دو وقت کی روٹی آرام کے ساتھ مل رہی ہے تو اس کی وجہ نہ جانے کیا ہے۔ میں نے صحافت کے معاشی ماہرین سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ میڈیا کی دنیا میں معاشی بہتری عروج پر ہے اور اس اچانک عروج کے کئی اسباب ہیں جن کے کچھ چھینٹے میرے جیسے مال و زر سے محروم صحافی پر بھی گر پڑے ہیں اور میں نے یہ داغ اور چھینٹے محفوظ کر لیے ہیں۔ دفتر والوں نے تنخواہ میں اضافے کے ساتھ سواری بھی دے دی ہے اس کا پٹرول اور مرمت بھی سرکاری خرچ پر یعنی میں، میری گاڑی اور میرے دوسرے اخراجات یہ سب روزنامہ ایکسپریس کے سپرد ، میں البتہ قارئین کے سپرد وہ جب تک پسند کریں گے میں ان کو تنگ کرتا رہوں گا لیکن ان پر اپنی خواہشات کا بوجھ نہیں لادوں گا جیسے میرے دوسرے دوست نے اپنے پورے ادارے کو داؤ پر لگا دیا ہے اور بھارتی بھی ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں۔
جو قوم محلے کی مسجد میں سفیدی پر گھبرا جاتی ہو وہ ہمیں بندوقوں سے ڈرا رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ بھارت میں کسی نو طاقتے کی حکومت آنے والی ہے اور وہ ابھی سے بے قرار ہو رہا ہے، خوشی کے یہ چند دن وہ دھومیں مچالے پاکستان میں وہ وہی ہی ہے جو الیکشن سے پہلے تھا۔ ہمارے گاؤں میں ایک محاورہ ہے کہ عزت بے عزتی ہر ایک کی اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے، حامد اگر اپنی عزت بچانا چاہتے ہیں تو بچا لیں۔ کسی وزیراعظم کی بیماری پرس تو خود وزیراعظم کے لیے ہو سکتا ہے ایک آزمائش بن جائے کیونکہ ان کے گرد و نواح میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بھٹو کے لیے لوگوں کو خود سوزی پر اکسایا کرتے تھے۔ جناب وزیراعظم نے ایک بار ٹی وی پر اچھے اور موثر لہجے میں تقریر کر ڈالی۔ اب ان کے دو خوشامدی جو متعلقہ بھی تھے اور ہوشیار بھی دونوں نے اس تقریر پر وزیراعظم کی تعریف کا فیصلہ کیا۔ الفاظ یہ تھے کہ سر! آج تو آپ کی خوشامد کرنے کو جی چاہتا ہے۔
جو لوگ کسی بھی طرح حکومت میں پہنچ جاتے ہیں وہ عام لوگ نہیں ہوتے اس لیے نادان لوگ ہی حکمرانوں کو مشورے دیا کرتے ہیں، یہی کیا کم ہے کہ ہماری موجودہ حکومت کی کوئی اپوزیشن نہیں ہے اور جو ہے وہ کسی معاہدے کے تحت خاموش ہے۔ اس وقت حکومت کی اپوزیشن خود اس کے اپنے وزراء اور ان کی پالیسیاں ہیں اور بازار کی مہنگائی ہے جو اس وقت حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن ہے۔ بجلی کے بارے میں حکمرانوں نے اعلان کر دیا ہے کہ آیندہ تین ماہ تک اس کی قلت رہے گی یعنی یہ موسم گرما اب لوگ پنکھوں پر گزارنے کی کوشش کریں اور پنکھے بھی دستی کیونکہ دوسرے پنکھے تو بجلی سے چلتے ہیں۔ ہمارے دوست حامد میر نے تو محض زحمت کی ہے بازار تیار تھا۔ مہنگائی اور نایابی دونوں موجود اگر حامد میر کی کسر باقی تھی تو وہ تو پوری ہو گئی اب حامد میر اپنے دوستوں سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنا پرانا غصہ پورا کرنے کے لیے تیاری کر لیں اور پاکستان کو سبق سکھا دیں۔
بھارت کے پاکستانی دوستوں سے کون کہے کہ غداری صرف خفیہ سراغرسانی اور جاسوسی میں نہیں ہوتی، سوال یہ ہوتا ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے اور اس کا وزن کہاں ہے۔ کسی مسجد کے مینار کو بچانا ہے یا کسی مندر کی دیوار کو۔ میدان جنگ میں جب ہر سمت گولے برس رہے تھے اور دائیں بائیں ہرطرف موت تھی تو ایک سپاہی سے کسی نے پوچھا کہ اب تم کس کے لیے لڑ رہے ہو۔ سیاسی نے کہا ادھر آئیں وہ مسجد دیکھ رہے ہیں جس کا ایک مینار ہمارے سامنے ہے۔ میں اسی مینار کو بچانے کے لیے لڑ رہا ہوں، یہ بچے نہ بچے لیکن میں تو اس کے لیے جان لڑا دوں گا۔ بس یہی مینار میری زندگی ہے جس کے لیے میں اب جی رہا ہوں۔
پاکستان کے خواتین و حضرات سارا مسئلہ ہی اس مینار کا ہے اور یہی مینار حامد اور ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ کوئی اسے ہر قیمت پر ایستادہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہاں سے اذان کی آواز بلند ہوتی رہے اور کسی کو اس کے گرنے کی پروا نہیں۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کی حفاظت کرے گا۔ جنرل راحیل یہ وعدہ ضرور یاد کریں اور اس کی پروا نہ کریں کہ کون کس کی عیادت کرتا ہے۔ یہ سب عارضی لوگ ہیں آتے جاتے رہتے ہیں جو کوئی پاکستانی نظریات پر اعتماد اور یقین رکھتا ہے بس وہی پاکستانی ہے۔ باقی سب ہمارے جیسے وقت گزارنے والے لوگ ہیں جو میناروں کو صرف دیکھتے ہیں۔