ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا 2156 ارب سے زائد سر پلس بجٹ منظور
انتظامی اخراجات کم کرکے ورکرز کی فلاح و بہبود، ترقیاتی کاموں، تعلیم کے بجٹ میں اضافہ
آمدنی 38 ارب 10 کروڑ، اخراجات کا تخمینہ 16 ارب 54 کروڑ 57 لاکھ روپے لگایا گیا۔ فوٹو: فائل
ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا 21.56 ارب سے زائد سر پلس بجٹ منظور کرلیا گیا۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا مالی سال 2023-24 کے لیے 21 ارب 56 کروڑ 18 لاکھ روپے کا ریکارڈ اضافی بجٹ منظور کر لیا گیا ہے، جس میں انتظامی اخراجات کم کرکے ورکرز کی فلاح و بہبود، ترقیاتی کاموں اور تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، یہ بجٹ سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی کے چیئرمین سعید غنی کی صدارت میں ہونے والے گورننگ باڈی کے اجلاس میں منظور کیا گیا۔
اجلاس میں گزشتہ گورننگ باڈی کے فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مالی سال 2023-24 کے لیے بورڈ کے بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ 38 ارب 10 کروڑ 75 لاکھ روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 16 ارب 54 کروڑ 57 لاکھ روپے لگایا ہے، اس طرح بورڈ کا سرپلس بجٹ ریکارڈ 21 ارب 56 کروڑ 18 لاکھ روپے ہے۔
بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں انتظامی اخراجات میں ایک ارب ایک کروڑ 66 لاکھ روپے کی کٹوتی کی گئی ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران انتظامی اخراجات کا تخمینہ 4 ارب ایک کروڑ 56 لاکھ روپے لگایا تھا جبکہ نظرثانی شدہ بجٹ ایک ارب 39 کروڑ روپے تھا، رواں مالی سال کے لیے انتظامی اخراجات کا تخمینہ 2 ارب 99 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ریکارڈ ایک ارب 36 کروڑ 36 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، گزشتہ مالی سال میں فلاحی اخراجات کا تخمینہ 2 ارب 16 کروڑ 44 لاکھ روپے لگایا گیا تھا جبکہ رواں مالی سال کے لیے یہ بجٹ 3 ارب 52 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھا گیا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 39 کروڑ 66 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیاہے۔
گزشتہ سال ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 4 ارب 34 کروڑ 92 لاکھ روپے تھا جبکہ رواں سال ترقیاتی اخراجات کی مد میں 4 ارب 74 کروڑ 58 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، انتقال کر جانے والے ورکرز کی ڈیتھ گرانٹس کے لیے 90 کروڑ روپے، ورکرز کی بیٹیوںکی شادی کے لیے گرانٹ کے لیے 80 کروڑ روپے ، ورکرز کے بچوں کو میرٹ پر اسکالر شپ کے لیے 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں جاری ترقیاتی اسکیموں کے لیے 65 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اس بجٹ سے ٹنڈو محمد خان میں ورکرز کے لیے 256 فلیٹس جبکہ لیبر کالونی کوٹڑی میں 1504 چار فلیٹس کی تعمیر مکمل کی جائے گی، بجٹ میں 19 نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 3 ارب 73 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، ان نئی ترقیاتی اسکیموں میں ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے مختلف اسکولز اور کالجوں کی بحالی اور مرمت ، نیو لیبر کالونی حیدر آباد میں 1504 فلیٹس کے لیے پانی کی فراہمی اور دیگر اسکیمیں شامل ہیں، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ کے افسران کی ٹریننگ کے لیے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے گی۔
صوبائی وزیر و چیئرمین گورننگ باڈی سعید غنی نے کہاکہ میں تمام گورننگ باڈی کے ارکان کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انھوں نے اپنی اس مدت کے دوران ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے ہونے والے تمام اجلاسوں میں اپنی بھرپور شرکت کی۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا مالی سال 2023-24 کے لیے 21 ارب 56 کروڑ 18 لاکھ روپے کا ریکارڈ اضافی بجٹ منظور کر لیا گیا ہے، جس میں انتظامی اخراجات کم کرکے ورکرز کی فلاح و بہبود، ترقیاتی کاموں اور تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، یہ بجٹ سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت اور ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی کے چیئرمین سعید غنی کی صدارت میں ہونے والے گورننگ باڈی کے اجلاس میں منظور کیا گیا۔
اجلاس میں گزشتہ گورننگ باڈی کے فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مالی سال 2023-24 کے لیے بورڈ کے بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ 38 ارب 10 کروڑ 75 لاکھ روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 16 ارب 54 کروڑ 57 لاکھ روپے لگایا ہے، اس طرح بورڈ کا سرپلس بجٹ ریکارڈ 21 ارب 56 کروڑ 18 لاکھ روپے ہے۔
بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں انتظامی اخراجات میں ایک ارب ایک کروڑ 66 لاکھ روپے کی کٹوتی کی گئی ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران انتظامی اخراجات کا تخمینہ 4 ارب ایک کروڑ 56 لاکھ روپے لگایا تھا جبکہ نظرثانی شدہ بجٹ ایک ارب 39 کروڑ روپے تھا، رواں مالی سال کے لیے انتظامی اخراجات کا تخمینہ 2 ارب 99 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ریکارڈ ایک ارب 36 کروڑ 36 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، گزشتہ مالی سال میں فلاحی اخراجات کا تخمینہ 2 ارب 16 کروڑ 44 لاکھ روپے لگایا گیا تھا جبکہ رواں مالی سال کے لیے یہ بجٹ 3 ارب 52 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھا گیا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 39 کروڑ 66 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیاہے۔
گزشتہ سال ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 4 ارب 34 کروڑ 92 لاکھ روپے تھا جبکہ رواں سال ترقیاتی اخراجات کی مد میں 4 ارب 74 کروڑ 58 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، انتقال کر جانے والے ورکرز کی ڈیتھ گرانٹس کے لیے 90 کروڑ روپے، ورکرز کی بیٹیوںکی شادی کے لیے گرانٹ کے لیے 80 کروڑ روپے ، ورکرز کے بچوں کو میرٹ پر اسکالر شپ کے لیے 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں جاری ترقیاتی اسکیموں کے لیے 65 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اس بجٹ سے ٹنڈو محمد خان میں ورکرز کے لیے 256 فلیٹس جبکہ لیبر کالونی کوٹڑی میں 1504 چار فلیٹس کی تعمیر مکمل کی جائے گی، بجٹ میں 19 نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 3 ارب 73 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، ان نئی ترقیاتی اسکیموں میں ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے مختلف اسکولز اور کالجوں کی بحالی اور مرمت ، نیو لیبر کالونی حیدر آباد میں 1504 فلیٹس کے لیے پانی کی فراہمی اور دیگر اسکیمیں شامل ہیں، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ کے افسران کی ٹریننگ کے لیے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے گی۔
صوبائی وزیر و چیئرمین گورننگ باڈی سعید غنی نے کہاکہ میں تمام گورننگ باڈی کے ارکان کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انھوں نے اپنی اس مدت کے دوران ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے ہونے والے تمام اجلاسوں میں اپنی بھرپور شرکت کی۔