شہری قتل کیس مقتول کی بیوہ کو اشتہاری قرار دینے کیلیے نوٹس جاری

ملزم رینجرز اہلکار رحم نور کی عبوری ضمانت میں بھی توسیع کردی،احاطہ عدالت میں جھگڑے میں ملوث ملزمان ضمانت پر رہا

ملزم رینجرز اہلکار رحم نور کی عبوری ضمانت میں بھی توسیع کردی،احاطہ عدالت میں جھگڑے میں ملوث ملزمان ضمانت پر رہا. فوٹو: فائل

شہری قتل کیس میں ملوث مفرور ملزمہ اور مقتول کی بیوہ کو اشتہاری قرار دینے کے لیے عدالت نے نوٹس جاری کردیے، عدالت نے ملزم رینجرز اہلکار رحم نور کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی راشدہ صدیقی نے شہری ذیشان الدین قتل کیس میں ملوث ملزم رینجرز اہلکار رحم نورکی عبوری ضمانت میں 2 روز کی توسیع کردی ، ملزم کے خلاف تھانہ نیو کراچی میں مقتول کی بہن تسنیم شاہد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی فداحسین عباسی نے ناگن چورنگی پر شہری ذیشان الدین کی اہلیہ شافعیہ بیگم کو مقدمے میں اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کرنے کیلیے نوٹس جاری کردیے،آئندہ سماعت پر مفرور ملزمہ کو اشتہاری قرار دے دیا جائے گا۔


استغاثہ کے مطابق 28 فروری کو ناگن چورنگی پرواقع مسجد صدیق اکبر کے نزدیک مقتول ذیشان الدین اور اہلیہ شافعہ بیگم کے درمیان جھگڑا ہورہا تھا، رینجرز اہلکار نے فائرنگ کردی جس سے وہ ہلاک ہوگیا جس کے بعد عدالت عالیہ کے حکم پر مقتول کی بہن تسنیم شاہد نے رینجرز اہلکار اور بھابھی شافعہ بیگم کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا،علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی رضا محمد نے نقص امن کے الزام میں گرفتار3 ملزمان کو فی کس15ہزار روپے اور متاثرہ2 ملزمان کو فی کس5 ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا ہے، منگل کو سٹی کورٹ پولیس نے نقص امن کے الزام میں گرفتار ملزمان سراج، شاہد حمید، یاسر، نور دین اور غلام فرید کو فاضل عدالت میں پیش کیا۔

اس موقع پر وکیل محمد حنیف سما نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پر عدالت میں موجود تینوں ملزمان اور ان کے ساتھیوں نے حملہ کردیا تھا جس کے باعث وہ زخمی ہوگئے تھے ان کے موکل متاثرہ ہیں، عدالت نے نور دین اور غلام فرید کو فی کس 5 ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کیا دیگر 3 ملزمان پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور انھیں قابل ضمانت سیکشن ہونے کے باعث فی کس 15ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کردیا، بعدازاں متاثرہ ملزمان نے تھانہ سٹی کورٹ میں حملہ آوروں سلطان، سراج، مہر محمد، غلام قاسم، شاہد حمید، یاسراور ثنااﷲ کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواست دائر کی تاہم پولیس نے شام گئے تک مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔
Load Next Story