عوام کتنا صبر کریں
عوام بجلی بحران پر تھوڑا صبر سے کام لیں، بحران سے نمٹنے کے لیے فوری کام شروع کردیا
عوام بجلی بحران پر تھوڑا صبر سے کام لیں، بحران سے نمٹنے کے لیے فوری کام شروع کردیا فوٹو؛فائل
وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں لیکن یہ ایک دن میں حل ہونے والا مسئلہ نہیں ۔ عوام بجلی بحران پر تھوڑا صبر سے کام لیں، بحران سے نمٹنے کے لیے فوری کام شروع کردیا ۔ دس گیارہ ماہ کی محنت کا یہ ثمر ہے کہ اب ہم بڑی تیزی سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے لگا رہے ہیں ۔ ملک کے اندر حکومت انتہاپسندی، توانائی اور معیشت کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہے ۔ جنوبی ایشیا میں بنیادی ڈائنامکس محاذ آرائی نہیں تعاون ہونا چاہیے ان خیالات کا اظہار انھوں نے پورٹ قاسم (کراچی) کے مقام پر چینی کمپنی چائنا پاور اور قطر کے المرقاب گروپ کے اشتراک وتعاون سے 1320میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے کول پاور پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے اور اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
مشہور روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا کہ دو ہی عظیم شہسوار ہیں ، وقت اور صبر ۔ اس بلیغ اشارہ کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جتنے صابر و شاکر پاکستانی عوام ثابت ہوئے ہیں اس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملے گی۔اہل پاکستان نے وقت کے رحم و کرم پر رہتے ہوئے جو دکھ سہے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں، جو غیروں کے دیے ہوئے نہیں بلکہ اپنے فرسودہ نظام ، نوکرشاہی،اور اشرافیہ کے ہاتھوں اسے ملے ہیں ۔ توانائی بحران ، اضافی بلنگ ، مہنگائی، بیروزگاری، بد امنی اور ملک گیر لوڈ شیڈنگ نے وقت کا جبر شہریوں پر مسلط کیا جس کا ادراک وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کیا ہے۔ عوام بلاشبہ اذیت ناک ''وقت '' گزار رہے ہیں اب وہ اس کا ازالہ چاہتے ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے ''صبر'' کی صائب و بروقت تلقین زمینی حقیقت ہے مگر ساتھ ہی ایک چشم کشا سوالیہ نشان بھی ہے کیونکہ ایک طرف ملک کو توانائی بحران کے ساتھ خطے کی سیاسی و تزویراتی حرکیات کے اعصاب شکن خارجی اور داخلی چیلنجز کا سامنا ہے ، ہمسائیگی کے ناگزیر اور متوازن تقاضوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے جب کہ صنعتی ترقی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی عدم پیداوار کے باعث توانائی بحران کے مستقل حل کے لیے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کی تکمیل کو اولین حکومتی اور ریاستی ترجیح بنانا ہے ۔ اطلاع یہ ہے کہ وزیراعظم نے بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر وزارت کے حکام کی سخت سرزنش کرتے ہوئے 24گھنٹے میں لوڈشیڈنگ میں کمی سے متعلق قابل عمل پلان طلب کرلیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے اعداد و شمار نہیں نتیجہ چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دور میں جب انھوں نے لاہور اسلام آباد موٹروے بنانا شروع کی تو بڑا واویلا ہوا ۔ بعد میں وقت نے ثابت کیا کہ منصوبہ ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہے ، وزیراعظم نے یکے بعد دیگرے کئی منصوبوں کے حوالہ سے مناسب امید دلائی ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک جتنی بجلی پیدا کی گئی ہے آیندہ پانچ سے دس سالوں کے دوران ہم اس سے بھی زیادہ بجلی پیدا کرنے کے سفر پر گامزن ہیں۔ پورٹ قاسم میں شروع کیے گئے دو منصوبوں میں کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کی جائے گی ، اس میں لاگت بھی کم آئیگی اور یہ عام آدمی کی قوت خرید کے مطابق ہوگی۔ گڈانی میں 6600میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر مرحلہ وار کام شروع ہے، وہاں ایک جیٹی بھی بنائی جائے گی ، باہر سے درآمد کیا جانے والا کوئلہ یہاں سے فیڈ کیا جائے گا۔
6600 میگاواٹ کے چار منصوبے رحیم یار خان ، جھنگ ،ساہیوال اور مظفرگڑھ میں علیحدہ شروع کیے جا رہے ہیں ۔ جام شورو میں 1320میگاواٹ، بہاولپور میں شمسی توانائی کے منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے ۔خیبرپختونخوا میں داسو کے مقام پر چار سو میگاواٹ کا منصوبہ دریائے سندھ پر بنایا جا رہا ہے ۔گلگت بلتستان کے علاقے میں دیامر بھاشا ڈیم بنایا جائے گا جس سے 4500میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی ۔ وہاں پاکستان کاسب سے بڑا پانی کا ذخیرہ بنائیں گے۔ گزشتہ 65 سالوں کے دوران پاکستان میں 23ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے حکومت اس میں آیندہ آٹھ سے دس سالوں کے دوران 21ہزار میگاواٹ کا اضافہ کرے گی جب کہ تین سے پانچ سال کے دوران چار سے پانچ ہزار میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی جائے گی۔
تاہم ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے ، قبل ازیں دفتر خارجہ میں مشرق وسطیٰ سے متعلق پاکستانی سفیروں کی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم نے دوٹوک طور پر کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و آشتی کا خواہاں ہے اور وہ ملکوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہے گا ۔ مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے پرامن حل کی کوشش کی جانی چاہیے۔ مشرق وسطیٰ کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی برقرار رہنی ملکی مفاد میں ہے تاہم اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت اپنے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10گھنٹے تک محدود نہ کرسکی، ملک بھر میں گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی بجلی کا شارٹ فال 4ہزار 500میگاواٹ تک پہنچ گیا، جس سے غیرعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا۔
این ٹی ڈی سی کے ذرایع کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار 10ہزار 700اور طلب 15ہزار 200میگاواٹ تک ہے، منگل کو بھی ملک کے مختلف شہری علاقوں میں 12سے 14جب کہ دیہی علاقوں میں 18سے 20گھنٹے لوڈ شیڈنگ ریکارڈ کی گئی ، کئی علاقوں میں پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی ، دیہی علاقوں میں مسلسل 3،3 گھنٹے بھی بجلی بند کی جا رہی ہے، ادھر پشاور کے نواحی علاقہ بڈھ بیر اور اس کے قرب و جوار میں نصب واپڈا ٹرانسمیشن لائن کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے ۔ واپڈا ذرایع کے مطابق ٹاورز کو اڑانے سے پورے پشاور میں کم وولٹیج کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیارکرگیا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کو صورتحال کو سنبھالنے اور تخریب کاری میں ملوث عناصر کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے بجلی کے منصوبوں کی جہاں جلد تکمیل وقت کا تقاضا ہے وہاں کوشش ہونی چاہیے کہ امن بحال ہو، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم ہو۔عوام اور کتنا صبرکریں ۔
مشہور روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا کہ دو ہی عظیم شہسوار ہیں ، وقت اور صبر ۔ اس بلیغ اشارہ کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جتنے صابر و شاکر پاکستانی عوام ثابت ہوئے ہیں اس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملے گی۔اہل پاکستان نے وقت کے رحم و کرم پر رہتے ہوئے جو دکھ سہے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں، جو غیروں کے دیے ہوئے نہیں بلکہ اپنے فرسودہ نظام ، نوکرشاہی،اور اشرافیہ کے ہاتھوں اسے ملے ہیں ۔ توانائی بحران ، اضافی بلنگ ، مہنگائی، بیروزگاری، بد امنی اور ملک گیر لوڈ شیڈنگ نے وقت کا جبر شہریوں پر مسلط کیا جس کا ادراک وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کیا ہے۔ عوام بلاشبہ اذیت ناک ''وقت '' گزار رہے ہیں اب وہ اس کا ازالہ چاہتے ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے ''صبر'' کی صائب و بروقت تلقین زمینی حقیقت ہے مگر ساتھ ہی ایک چشم کشا سوالیہ نشان بھی ہے کیونکہ ایک طرف ملک کو توانائی بحران کے ساتھ خطے کی سیاسی و تزویراتی حرکیات کے اعصاب شکن خارجی اور داخلی چیلنجز کا سامنا ہے ، ہمسائیگی کے ناگزیر اور متوازن تقاضوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے جب کہ صنعتی ترقی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی عدم پیداوار کے باعث توانائی بحران کے مستقل حل کے لیے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کی تکمیل کو اولین حکومتی اور ریاستی ترجیح بنانا ہے ۔ اطلاع یہ ہے کہ وزیراعظم نے بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ پر وزارت کے حکام کی سخت سرزنش کرتے ہوئے 24گھنٹے میں لوڈشیڈنگ میں کمی سے متعلق قابل عمل پلان طلب کرلیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے اعداد و شمار نہیں نتیجہ چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دور میں جب انھوں نے لاہور اسلام آباد موٹروے بنانا شروع کی تو بڑا واویلا ہوا ۔ بعد میں وقت نے ثابت کیا کہ منصوبہ ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہے ، وزیراعظم نے یکے بعد دیگرے کئی منصوبوں کے حوالہ سے مناسب امید دلائی ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک جتنی بجلی پیدا کی گئی ہے آیندہ پانچ سے دس سالوں کے دوران ہم اس سے بھی زیادہ بجلی پیدا کرنے کے سفر پر گامزن ہیں۔ پورٹ قاسم میں شروع کیے گئے دو منصوبوں میں کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کی جائے گی ، اس میں لاگت بھی کم آئیگی اور یہ عام آدمی کی قوت خرید کے مطابق ہوگی۔ گڈانی میں 6600میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر مرحلہ وار کام شروع ہے، وہاں ایک جیٹی بھی بنائی جائے گی ، باہر سے درآمد کیا جانے والا کوئلہ یہاں سے فیڈ کیا جائے گا۔
6600 میگاواٹ کے چار منصوبے رحیم یار خان ، جھنگ ،ساہیوال اور مظفرگڑھ میں علیحدہ شروع کیے جا رہے ہیں ۔ جام شورو میں 1320میگاواٹ، بہاولپور میں شمسی توانائی کے منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے ۔خیبرپختونخوا میں داسو کے مقام پر چار سو میگاواٹ کا منصوبہ دریائے سندھ پر بنایا جا رہا ہے ۔گلگت بلتستان کے علاقے میں دیامر بھاشا ڈیم بنایا جائے گا جس سے 4500میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی ۔ وہاں پاکستان کاسب سے بڑا پانی کا ذخیرہ بنائیں گے۔ گزشتہ 65 سالوں کے دوران پاکستان میں 23ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے حکومت اس میں آیندہ آٹھ سے دس سالوں کے دوران 21ہزار میگاواٹ کا اضافہ کرے گی جب کہ تین سے پانچ سال کے دوران چار سے پانچ ہزار میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی جائے گی۔
تاہم ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے ، قبل ازیں دفتر خارجہ میں مشرق وسطیٰ سے متعلق پاکستانی سفیروں کی کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم نے دوٹوک طور پر کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و آشتی کا خواہاں ہے اور وہ ملکوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہے گا ۔ مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے پرامن حل کی کوشش کی جانی چاہیے۔ مشرق وسطیٰ کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی برقرار رہنی ملکی مفاد میں ہے تاہم اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت اپنے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10گھنٹے تک محدود نہ کرسکی، ملک بھر میں گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی بجلی کا شارٹ فال 4ہزار 500میگاواٹ تک پہنچ گیا، جس سے غیرعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا۔
این ٹی ڈی سی کے ذرایع کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار 10ہزار 700اور طلب 15ہزار 200میگاواٹ تک ہے، منگل کو بھی ملک کے مختلف شہری علاقوں میں 12سے 14جب کہ دیہی علاقوں میں 18سے 20گھنٹے لوڈ شیڈنگ ریکارڈ کی گئی ، کئی علاقوں میں پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی ، دیہی علاقوں میں مسلسل 3،3 گھنٹے بھی بجلی بند کی جا رہی ہے، ادھر پشاور کے نواحی علاقہ بڈھ بیر اور اس کے قرب و جوار میں نصب واپڈا ٹرانسمیشن لائن کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے ۔ واپڈا ذرایع کے مطابق ٹاورز کو اڑانے سے پورے پشاور میں کم وولٹیج کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیارکرگیا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کو صورتحال کو سنبھالنے اور تخریب کاری میں ملوث عناصر کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے بجلی کے منصوبوں کی جہاں جلد تکمیل وقت کا تقاضا ہے وہاں کوشش ہونی چاہیے کہ امن بحال ہو، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم ہو۔عوام اور کتنا صبرکریں ۔