یوٹیوب سے پابندی ہٹانے کی قرارداد منظور

ارکان اسمبلی نے یوٹیوب پر پابندی ختم کرنے کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ...

ارکان اسمبلی نے یوٹیوب پر پابندی ختم کرنے کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ فوٹو: فائل

منگل کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں یوٹیوب سے پابندی ہٹانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ یاد رہے پاکستان میں یوٹیوب پر مذکورہ پابندی ویب سائٹ پر توہین رسالت پر مبنی مواد اپ لوڈ کرنے کے بعد لگائی گئی تھی۔ متنازعہ مواد کے خلاف نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا شدید احتجاج سامنے آیا تھا اور حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی کا صائب فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ متنازعہ مواد سے ہٹ کر یوٹیوب بہرحال ایک کارآمد پلیٹ فارم ہے جہاں نہ صرف دنیا بھر سے ویڈیو اپ لوڈ کی جاتی ہیں بلکہ طلبا کے لیے خصوصی کلاسز اور معلومات پر مبنی مواد بھی ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی بڑی یونیورسٹی کے پروفیسرز کے لیکچرز کے علاوہ کئی ٹیوٹوریل بھی موجود ہوتے ہیں جو فنون لطیفہ کی ہر شاخ سے وابستہ افراد کی معلومات میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔


یہی وجہ تھی کہ ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ متنازعہ مواد ہٹا کر یوٹیوب پر سے پابندی ختم کردی جائے تاکہ علمی مواد سے استفادہ کیا جاسکے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں شازیہ مری نے یوٹیوب ویب سائٹ پر سے پابندی اٹھانے کی قرارداد پیش کی۔ حکومت کی طرف سے تجویز دی گئی کہ معاملہ سلجھانے کے لیے ایوان کی کمیٹی تشکیل دی جائے، عارف علوی نے کہا کہ حکومت فلٹریشن لگا کر پابندی اٹھائے تاکہ ناپسندیدہ مواد کا خاتمہ کیا جائے، وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ حکومت بھی یوٹیوب پر پابندی کے حق میں نہیں ہے لیکن یہ معاملہ اس وقت عدالت میں ہے اور اس حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

اس کے بعد ارکان اسمبلی نے یوٹیوب پر پابندی ختم کرنے کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ بہرحال یہ معاملہ عام نوعیت کا نہیں کیونکہ اس سے کروڑوں مسلمانوں کے احساسات جڑے ہوئے ہیں ۔ یوٹیوب پر توہین رسالت پر مبنی مواد مسلمانوں کے جذباتی اشتعال کا باعث بنا ہے اس لیے متنازعہ مواد ہٹائے بغیر اور فلٹر لگا کر ہی یوٹیوب پر پابندی ختم کی جائے۔ فیصلہ عوامی امنگوں اور احساسات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔
Load Next Story