قومی ہاکی ٹیم کی رواں سال شیڈول ایشین گیمز میں شرکت غیر یقینی

پی ایچ ایف کی جانب سے ارسال کردہ نامکمل انٹری وجہ، 16کے بجائے15پلیئرزکا ایکریڈیشن کرایا۔

پی ایچ ایف کی جانب سے ارسال کردہ نامکمل انٹری وجہ، 16کے بجائے15پلیئرزکا ایکریڈیشن کرایا۔ فوٹو: فائل

TRIPOLI:
پی ایچ ایف کی جانب سے ارسال کردہ نامکمل انٹری کے سبب قومی ہاکی ٹیم کی رواں سال شیڈول ایشین گیمز میں شرکت یقینی نہیں رہی، مقابلے19ستمبر سے 4 اکتوبر تک جنوبی کوریا کے شہر انچیون میں ہو رہے ہیں،گرین شرٹس کو بطوردفاعی چیمپئن شریک ہونا ہے۔

آئی او سی سے تسلیم کردہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عارف حسن نے میڈیاکو بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے30اپریل کی ڈیڈلائن سے قبل25 نام بھیجے، پاسپورٹس، تصاویر اور دیگر کاغذات مکمل نہ ہونے کے سبب انٹری واپس کر دی گئی،اس کے بعد پی ایچ ایف نے 15 کھلاڑیوں کے نام اور پاسپورٹس ارسال کیے،پی او اے نے ان کا ایکریڈیشن کرا دیا لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بین الاقوامی مقابلوں میں16کھلاڑیوں اور6آفیشلز کو شرکت کرنا ہوتی ہے، فیڈریشن نے اس کے بعد کوئی جواب نہیں دیا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ 15 کھلاڑی فرسٹ الیون میں شامل ہیں یا نہیں۔ عارف حسن نے کہاکہ اولمپک یوتھ گیمز میں بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے تاحال انٹری نہیں بھیجی جس پر ایف آئی ایچ خفا ہے۔


انھوں نے کہا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ڈیڈلائن گزرنے کے بعد ملک کے وسیع تر مفاد میں ایشین گیمز اور اولمپک یوتھ گیمز کے منتظمین سے ایک ہفتے کی مہلت مانگی،البتہ اگر دونوں نے مثبت جواب نہ دیا تو پاکستانی ہاکی ٹیم ان ایونٹس میں شرکت سے محروم ہوجائے گی۔عارف حسن نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس تاخیر کی وجہ ٹرائلز اور حکومتی اجازت کو قرار دے رہی ہے، حالانکہ قومی کھیل اور دفاعی چیمپئن ہونے کے ناطے فیڈریشن کو اپنا تمام ہوم ورک بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایشین گیمز میں ہاکی ٹیم کی انٹری میری زیرسربراہی قائم پی او اے کے توسط سے بھیج کر پی ایچ ایف نے اس کی قانونی اور آئینی حیثیت تسلیم کر لی ہے۔

عارف حسن نے بین الصوبائی رابطے کے وفاقی وزیر کی جانب سے اکرم ساہی کی پی او اے کو تسلیم کیے جانے کے بیان پر کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت دو کشتیوں میں سوار ہے، وہ ایک جانب بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت یقینی بنانے کیلیے آئی او سی کی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا سہارا تلاش کر رہی ہے تو دوسری جانب اپنی پی اواے کے حق میں بیان دے رہی ہے، یہ غلط ہے کیونکہ آئی او سی اس بار پاکستان کو آخری وارننگ دی چکی،اگر حکومت نے اولمپک چارٹر پر عمل نہ کیا تو پاکستانی اولمپک رکنیت معطل کردی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ آئی او سی نے21 مئی کو حکومتی نمائندے کو بلایا تھا لیکن حکومت نے اس ضمن میں اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کردی ہے۔ عارف حسن نے واضح کر دیا کہ پی ایچ ایف کے سیکریٹری رانا مجاہد پر 10سال کی پابندی برقرار ہے، اسی وجہ سے ان کے دستخط سے آنے والی ہاکی کھلاڑیوں کی انٹریز کو پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے مسترد کرتے ہوئے واپس کر دیا تھا۔
Load Next Story