تیل کی قیمتوں پر پھر اضافہ
پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے
ہر ہفتے ہونے والے اضافے سے قبل لاکھوں لیٹر پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی سے کروڑوںروپے کمائے جارہے ہیں۔ فوٹو: فائل
حکومت نے اتوار کو ڈیزل کے سوا تمام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی۔
یوں ایک ماہ میں تیل کی قیمتوں میں دوسری بار اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق اتوار اور پیر کی درمیانی شب 12 بجے سے ہو گیا ہے۔اب پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پٹرول فی لیٹر 6 روپے 82 پیسے مہنگا کیا گیا ہے ، ہائی اوکٹین کی قیمت ڈیڑھ روپے فی لیٹر بڑھائی گئی ہے جب کہ مٹی کا تیل 62 پیسے فی لیٹر مہنگاکر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 106.72 تک پہنچ گئی ہے۔ ہائی اوکٹین137.96 اور مٹی کے تیل کی 104.68 روپے فی لیٹرہوگئی،لائٹ ڈیزل 14 پیسے سستا ہونے کے بعد 99.27 روپے لیٹر فروخت ہوگا۔
ادھر سی این جی سیکٹر کے لیے بھی قیمتوںمیں 6روپے 26پیسے فی کلوکا اضافہ کیاگیا ہے۔ تیل قیمتوں کا اعلان 7 روز کے لیے کیاگیا ہے ۔ پہلے ہر پندرہ روز بعد قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ، اب یہ ہفتہ وار ہوگیا۔اس صورتحال سے عام آدمی کے لیے مسائل بڑھ گئے ہیں جب کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلروں کی چاندی ہوگئی ہے۔
ہر ہفتے ہونے والے اضافے سے قبل لاکھوں لیٹر پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی سے کروڑوںروپے کمائے جارہے ہیں۔ ہفتے کے آخر پر پٹرول پمپس سے پٹرول غائب ہونا معمول بن گیاہے۔ جس سے کار اور موٹر سائیکل سواروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
حکومت نے 10 ستمبر کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا تھا ، اس وقت پٹرول کی قیمت میں تھوڑی کمی جب کہ ڈیزل اورہائی اوکٹین کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا لیکن اب ڈیزل میں معمولی نوعیت کی کمی کی گئی ہے جب کہ پٹرول کی دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یوں دیکھا جائے توردوبدل کے نام پر پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مسلسل بلندی کی طرف جارہے ہیں۔
پچھلے دنوں یہ خبر اخبارات میں آئی تھی کہ حکومت پٹرول پر 23.78 روپے جب کہ ڈیزل پر 30روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے دن کے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ارکان کمیٹی نے کہا تھا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو روک سکتی ہے مگر اس نے تمام تر بوجھ عوام پر ڈال دیا۔اس بار بھی حکومت کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کو ظلم و زیادتی قرار دیا ہے۔مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان برپا جس سے غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ادھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے تو مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دی جائے اور عوام کے لیے اصلاحی پیکیج لایا جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے کل پرزے ہوں یا عوامی نمایندے انھیں صورت حال کا علم ہے۔اس کے باوجود کچھ نہیں ہو رہا تو اسے کیا نام دیا جا سکتاہے۔ تیل کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کا بڑھنا لازمی ہے۔سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے باعث تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں از خود ہی اضافہ ہو جاتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ اگر ان کی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ بھی ہوتا ہے تو اس کا اثر تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں پڑتا ہے جب کہ دوسری اشیاء میں اضافہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے نہیں ہوتا بلکہ ٹرانسپورٹر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کرایوں میں من مانا اضافہ کر دیتے ہیں۔
جب کہ دیگر کاروباری طبقہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اپنی مرضی کا اضافہ کر دیتا ہے حتیٰ کہ گوداموں میں پڑے مال کی قیمتیں بھی بڑھا دی جاتی ہیں جن کو یا تو کوئی پوچھنے والا نہیں اور اگر کوئی ہے تو غالباً مک مکا ہو جاتا ہو گا۔
اس کا جواز بھی خود حکومت انھیں مہیا کرتی ہے۔ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں وقتاً فوقتاً اضافہ کرنے کے بجائے کچھ مناسب مدت کے لیے قیمتوں کو منجمد کر دے تو اس طرح دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تاجروں کی طرف سے من مانے اضافے کا جواز نہیں رہے گا۔اگر حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے تیل کی قیمتوں میں استحکام لانا ہوگا۔
ہر ہفتے نرخوں میں ردوبدل سے بے یقینی میں اضافہ ہوگا جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ماضی میں تیل کی قیمتیں سالانہ بجٹ میں متعین کی جاتی تھیں۔ اس کے بعد سارا سال تیل کی قیمتوں میں استحکام رہتا تھا۔ اس کا اثر معیشت کے دوسرے شعبوں پر بھی پڑتا تھا۔ مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ تو ہوتا تھا لیکن اس کی رفتار خاصی سست ہوتی تھی۔ لیکن بتدریج یہ سسٹم تبدیل ہوتا رہا ۔
پھر وہ وقت آ گیا جب ہر ماہ تیل کی قیمتوں میں ردوبدل ہونے لگا۔ اس صورت حال سے معیشت کو زبردست جھٹکا لگا اورمہنگائی تیزی سے بڑھنے لگی ۔ اس کے بعد تیل کی قیمتیں متعین کرنے کے لیے پندرہ روزہ نظام سامنے آ گیا۔ اس سے معاملات مزید بگڑ گئے ۔ اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ ہر ہفتے تیل کی قیمتوں میں ردوبدل ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں معیشت کو مزید غیر یقینی میں مبتلا کر دیا۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں کے حوالے سے ایک مربوط سسٹم بنانا تقریباً نہ ممکن ہو گیاہے۔ ٹرانسپورٹر اپنی جگہ پریشان ہیں تو دوسری طرف عوام مشکل میں گرفتار ہیں۔ پاکستان چونکہ ایک غریب ملک ہے ۔ اس کی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل اور توانائی کے دوسرے ذرایع کی قیمتوں میں استحکام رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ توانائی کی قیمت بڑھے گی تو اس کا اثر ایک عام آدمی سے لے کر مینوفیکچرر تک پڑے گا۔
مینو فیکچرر کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی۔ جب بازار میں چیزیں مہنگی ہوں گی تو عام آدمی کی آمدنی کم پڑ جائے گی جس سے غربت میں اضافہ ہو گا۔ حکومت چلانے والے اور منتخب ایوانوں میں بیٹھے اراکین اسمبلی اس صورت حال سے یقیناً آگاہ ہیں ۔انھیں عوام کے مسائل کو مد نظر رکھ کر اس حوالے سے کوئی مربوط اور ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
محض بیان بازی کرنے سے وہ اپنی سیاسی ساکھ تو قائم رکھ سکتے ہیں لیکن ملکی معیشت کو بربادی سے نہیں بچا سکتے۔ ملکی معیشت مستحکم ہو گی تو سیاست بھی ہو گی۔ امید ہے حکومت اور پارلیمانی سیاسی جماعتیں اس پہلو کو ضرور مدنظر رکھے گی۔
یوں ایک ماہ میں تیل کی قیمتوں میں دوسری بار اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق اتوار اور پیر کی درمیانی شب 12 بجے سے ہو گیا ہے۔اب پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پٹرول فی لیٹر 6 روپے 82 پیسے مہنگا کیا گیا ہے ، ہائی اوکٹین کی قیمت ڈیڑھ روپے فی لیٹر بڑھائی گئی ہے جب کہ مٹی کا تیل 62 پیسے فی لیٹر مہنگاکر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 106.72 تک پہنچ گئی ہے۔ ہائی اوکٹین137.96 اور مٹی کے تیل کی 104.68 روپے فی لیٹرہوگئی،لائٹ ڈیزل 14 پیسے سستا ہونے کے بعد 99.27 روپے لیٹر فروخت ہوگا۔
ادھر سی این جی سیکٹر کے لیے بھی قیمتوںمیں 6روپے 26پیسے فی کلوکا اضافہ کیاگیا ہے۔ تیل قیمتوں کا اعلان 7 روز کے لیے کیاگیا ہے ۔ پہلے ہر پندرہ روز بعد قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ، اب یہ ہفتہ وار ہوگیا۔اس صورتحال سے عام آدمی کے لیے مسائل بڑھ گئے ہیں جب کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلروں کی چاندی ہوگئی ہے۔
ہر ہفتے ہونے والے اضافے سے قبل لاکھوں لیٹر پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی سے کروڑوںروپے کمائے جارہے ہیں۔ ہفتے کے آخر پر پٹرول پمپس سے پٹرول غائب ہونا معمول بن گیاہے۔ جس سے کار اور موٹر سائیکل سواروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
حکومت نے 10 ستمبر کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا تھا ، اس وقت پٹرول کی قیمت میں تھوڑی کمی جب کہ ڈیزل اورہائی اوکٹین کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا لیکن اب ڈیزل میں معمولی نوعیت کی کمی کی گئی ہے جب کہ پٹرول کی دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یوں دیکھا جائے توردوبدل کے نام پر پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مسلسل بلندی کی طرف جارہے ہیں۔
پچھلے دنوں یہ خبر اخبارات میں آئی تھی کہ حکومت پٹرول پر 23.78 روپے جب کہ ڈیزل پر 30روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے دن کے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ارکان کمیٹی نے کہا تھا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو روک سکتی ہے مگر اس نے تمام تر بوجھ عوام پر ڈال دیا۔اس بار بھی حکومت کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کو ظلم و زیادتی قرار دیا ہے۔مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان برپا جس سے غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ادھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے تو مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دی جائے اور عوام کے لیے اصلاحی پیکیج لایا جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے کل پرزے ہوں یا عوامی نمایندے انھیں صورت حال کا علم ہے۔اس کے باوجود کچھ نہیں ہو رہا تو اسے کیا نام دیا جا سکتاہے۔ تیل کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی کا بڑھنا لازمی ہے۔سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے باعث تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں از خود ہی اضافہ ہو جاتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے یہ بات قابل غور ہے کہ اگر ان کی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ بھی ہوتا ہے تو اس کا اثر تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں پڑتا ہے جب کہ دوسری اشیاء میں اضافہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے نہیں ہوتا بلکہ ٹرانسپورٹر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کرایوں میں من مانا اضافہ کر دیتے ہیں۔
جب کہ دیگر کاروباری طبقہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اپنی مرضی کا اضافہ کر دیتا ہے حتیٰ کہ گوداموں میں پڑے مال کی قیمتیں بھی بڑھا دی جاتی ہیں جن کو یا تو کوئی پوچھنے والا نہیں اور اگر کوئی ہے تو غالباً مک مکا ہو جاتا ہو گا۔
اس کا جواز بھی خود حکومت انھیں مہیا کرتی ہے۔ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں وقتاً فوقتاً اضافہ کرنے کے بجائے کچھ مناسب مدت کے لیے قیمتوں کو منجمد کر دے تو اس طرح دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تاجروں کی طرف سے من مانے اضافے کا جواز نہیں رہے گا۔اگر حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے تیل کی قیمتوں میں استحکام لانا ہوگا۔
ہر ہفتے نرخوں میں ردوبدل سے بے یقینی میں اضافہ ہوگا جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ماضی میں تیل کی قیمتیں سالانہ بجٹ میں متعین کی جاتی تھیں۔ اس کے بعد سارا سال تیل کی قیمتوں میں استحکام رہتا تھا۔ اس کا اثر معیشت کے دوسرے شعبوں پر بھی پڑتا تھا۔ مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ تو ہوتا تھا لیکن اس کی رفتار خاصی سست ہوتی تھی۔ لیکن بتدریج یہ سسٹم تبدیل ہوتا رہا ۔
پھر وہ وقت آ گیا جب ہر ماہ تیل کی قیمتوں میں ردوبدل ہونے لگا۔ اس صورت حال سے معیشت کو زبردست جھٹکا لگا اورمہنگائی تیزی سے بڑھنے لگی ۔ اس کے بعد تیل کی قیمتیں متعین کرنے کے لیے پندرہ روزہ نظام سامنے آ گیا۔ اس سے معاملات مزید بگڑ گئے ۔ اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ ہر ہفتے تیل کی قیمتوں میں ردوبدل ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں معیشت کو مزید غیر یقینی میں مبتلا کر دیا۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں کے حوالے سے ایک مربوط سسٹم بنانا تقریباً نہ ممکن ہو گیاہے۔ ٹرانسپورٹر اپنی جگہ پریشان ہیں تو دوسری طرف عوام مشکل میں گرفتار ہیں۔ پاکستان چونکہ ایک غریب ملک ہے ۔ اس کی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل اور توانائی کے دوسرے ذرایع کی قیمتوں میں استحکام رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ توانائی کی قیمت بڑھے گی تو اس کا اثر ایک عام آدمی سے لے کر مینوفیکچرر تک پڑے گا۔
مینو فیکچرر کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی۔ جب بازار میں چیزیں مہنگی ہوں گی تو عام آدمی کی آمدنی کم پڑ جائے گی جس سے غربت میں اضافہ ہو گا۔ حکومت چلانے والے اور منتخب ایوانوں میں بیٹھے اراکین اسمبلی اس صورت حال سے یقیناً آگاہ ہیں ۔انھیں عوام کے مسائل کو مد نظر رکھ کر اس حوالے سے کوئی مربوط اور ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
محض بیان بازی کرنے سے وہ اپنی سیاسی ساکھ تو قائم رکھ سکتے ہیں لیکن ملکی معیشت کو بربادی سے نہیں بچا سکتے۔ ملکی معیشت مستحکم ہو گی تو سیاست بھی ہو گی۔ امید ہے حکومت اور پارلیمانی سیاسی جماعتیں اس پہلو کو ضرور مدنظر رکھے گی۔