جوہری عدم پھیلاؤ اور عالمی طاقتیں

پاکستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کی بھی مکمل حمایت کی ہے ۔۔۔۔

پاکستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کی بھی مکمل حمایت کی ہے فوٹو:فائل

سینٹر فار پاکستان اینڈگلف اسٹڈیزاورجرمن فائونڈیشن کونارڈ ایڈنورسٹفٹنگ کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے جوہری عدم پھیلائو،تخفیف وتحدید اسلحہ،معاصر چیلنجز وامکانات کے موضوع پرعالمی سیمینار سے خطاب کے دوران پاکستانی اور عالمی ماہرین نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے تحفظ وسلامتی کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات پرمکمل اعتمادکااظہارکرتے ہوئے زوردیاہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا ختم کرنا،پرامن جوہری تعاون کاآغازاورنیوکلیئرسپلائرزگروپ میںشامل کرناہوگا۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اورامریکا کے مابین قانونی سول جوہری تعاون ممکن ہے جب کہ چین نے پاکستان کوجوہری توانائی پلانٹس کی تنصیب اورجوہری تعاون جاری رکھنے کے عزم کااظہارکیاتاہم اخباری خبر کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹا گان کے سابق عہدیدار پیٹرلیوی نے پاک امریکا جوہری ڈیل کے امکان کو مسترد کیا ہے تاہم انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملک ڈائیلاگ کے ذریعے ان معاملات پر بحث کریں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان دنیا کی ایک مسلمہ ایٹمی قوت ہے اور اس کی ایٹمی تنصیبات محفوظ اور عالمی معیار کے مطابق ہیں۔پاکستان میں کبھی کوئی جوہری حادثہ نہیں ہوا اس کے برعکس روس میں کئی بار تابکاری پھیل چکی ہے۔بھارت میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی گاہے بگاہے ایسا ہوتا رہتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پاکستان کی ایٹمی تنصیبات محفوظ ترین ہیں اور یہاں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی جدید ترین ہے۔دوسری جانب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا فلسفہ جارحیت نہیں بلکہ دفاع ہے یعنی پاکستان نے صرف اپنے دفاع کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کی ہے۔


پاکستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کی بھی مکمل حمایت کی ہے، گزشتہ روز عالمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے بھی واضح کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ جنوبی ایشیاء کوجوہری ہتھیاروںسے پاک خطہ بنانیکی تجاویزپیش کیںلیکن بھارت نے مسترد کردیں،جوہری توانائی میںپاکستانی تجربہ اِس بات کاغمازہے کہ عالمی برادری بلاامتیازسول جوہری تعاون فراہم اور پاکستان مخالف امتیازی سلوک کاخاتمہ یقینی بنائے، اُنھوں نے اُمیدظاہرکی کہ سیمینارعالمی سطح پرقومی مقدمے کو پرزور اندازمیںپیش کرنے کے لیے روڈ میپ کی تیاری میںاہم محرک ثابت ہوگا۔

ایٹمی عدم پھیلائو کے حوالے سے بحث خاصے عرصے سے جاری ہے لیکن اس دوران کئی ممالک نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی جن میں پاکستان' بھارت' شمالی کوریا اور ایران بھی شامل ہیں۔ عالمی میڈیا میں ایسی خبریں بھی اکثر آتی رہتی ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ اسرائیل اور جنوبی افریقہ بھی ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ملک ہیں۔برازیل کا بھی نام لیا جاتا ہے۔عراق اور لیبیا کو تو ایٹمی معاملات کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ اس صورت حال کو دیکھ جائے تو ایٹمی عدم پھیلائو کا نظریہ قابل عمل نہیں رہا' اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں جن میں امریکا' روس' چین' برطانیہ اور فرانس شامل ہیں' وہ اپنی ایٹمی صلاحیت اور ایٹمی اسلحے کو درست' جائز اور برحق سمجھتے ہیں اور جوہری عدم پھیلائو کا شکنجہ دوسرے ممالک کے گرد کسنا چاہتے ہیں۔

اس سلسلے میں بھی استثنا ہے' بھارت کو بھی رعایتی نمبر دیے جاتے ہیں اور اسرائیل کے بارے میں تو کچھ کہا ہی نہیں جاتا' پاکستان کے ایٹمی معاملات پر بھی گاہے گاہے مغربی ذرایع ابلاغ میں شور مچتا ہے۔ ایران پر بھی پابندیاں ہیں' دوسری جانب امریکا نے بھارت کے ساتھ سول نیو کلیئر تعاون کا معاہدہ کر لیا ہے۔عالمی ایٹمی طاقتیں آج بھی جدید ترین ایٹمی ہتھیار بنانے میں مصروف ہیں۔ عالمی طاقتوں کا یہی دہرا معیار تخفف اسلحہ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ عالمی سیمینار سے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے جرمن فائونڈیشن کونارڈایڈنورسٹفٹنگ کے پاکستان میںسربراہ رونی ہائین کاکہناتھاکہ جرمنی دنیاکوجوہری ہتھیاروں سے پاک دیکھناچاہتاہے تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پرامن دنیاکے لیے جوہری طاقتوں کے مابین مذاکرے اورجوہری عدم پھیلائوسمیت تمام اُمور پر گفتگو کا سلسلہ جاری رکھاجائے۔

ایٹمی عدم پھیلائو کے حوالے سے جرمنی اور جاپان دو ایسے ملک ہیں جو پوری مخلصی اور سنجیدگی سے یہ مہم چلا رہے ہیں لیکن یہ مہم اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب دنیا کی طاقتور ایٹمی قوتیں اپنا دہرا معیار ترک کریں۔خاص طور پر امریکا اور روس اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔برطانیہ ' فرانس اور چین بھی اس کی پیروی کریں۔ اس طریقے سے دیگر ممالک کو اچھا پیغام ملے گا۔یہ بات طے ہے کہ دنیا کی کوئی قوم بھی یہ نہیں چاہتی کہ ایٹمی ہتھیاروں سے تباہی پھیلے ۔جب کمزور اقوام کو تحفظ کا احساس ہو گا تو وہ کبھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار نہیں کریں گی۔
Load Next Story