وزیر اعظم کا لوڈشیڈنگ کم کرنے کا حکم
موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں میں توانائی کی قلت دور کرنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا ...
موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں میں توانائی کی قلت دور کرنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا فوٹو : فائل
وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے لوڈشیڈنگ کی موجودہ صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آیندہ چند روز میں شہروں میں لوڈشیڈنگ کم کر کے6 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں7 گھنٹے کی سطح پر لائی جائے۔
یہ احکامات انھوں نے وزیر اعظم ہائوس میں بجلی کی پیداوار کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے اور کہا کہ بجلی کے منصوبے جلد مکمل کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ جہاں تک کسی حکمران کے حکم جاری کرنے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی زور نہیں لگتا اصل مسئلہ اس حکم پر عملدرآمد کے موقع پر پیدا ہوتا ہے۔ حکم جاری کرتے وقت یہ جاننے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی کہ آیا یہ حکم قابل عمل ہے بھی یا نہیں۔ اس کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے کا پتہ اس کو رو بہ عمل لانے کے دوران چلتا ہے۔ اب جناب وزیر اعظم نے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کا حکم تو جاری کر دیا ہے لیکن کیا اس حکم کو ممکن بنایا جا سکے گا اس کا علم اس پر عمل درآمد کی کوششوں کے دوران ہی چل سکے گا۔ اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو حکم حاکم اور انتخابی وعدے میں بڑی مماثلت ہوتی ہے۔
موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں میں توانائی کی قلت دور کرنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود وہ اولین ترجیح والا وعدہ ایفا نہیں ہو سکا۔ اب اگر جناب وزیر اعظم ویسا ہی حکم جاری کر رہے ہیں جیسا کہ ان کا انتخابی وعدہ تھا تو وہ اس حکم پر عمل کس طور کرائیں گے۔ گو کہ وزیر اعظم نے سسٹم میں 592 میگاواٹ اضافی بجلی کے لیے کھاد کی صنعت سے بجلی کے شعبے کو گیس کی فوری منتقلی اور سی این جی شعبے کو جزوی طور پر گیس کی فراہمی کم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اس اہم اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ11 مئی 2014ء کو ہائیڈل ذرایع سے ایک ہزار میگاواٹ اضافی بجلی حاصل ہو جائے گی اور رواں ماہ کے آخر تک ہائیڈل وسائل سے مزید 3500 میگاواٹ بجلی کا بھی اضافہ ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے وزارت خزانہ، وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایندھن کی قلت کا مسئلہ آیندہ چند روز میں حل ہو جائے۔ بہر حال وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے جو قدم اٹھایا ہے' وہ درست سمت میںہے' امید کی جانی چاہیے کہ آنے والے ہفتوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کسی حد تک کمی آ جائے گی۔ اگر لوڈشیڈنگ 6یا 7 گھنٹے تک آ جاتی ہے تو یہ عوام کے لیے قابل قبول ہو گی اور حکومت کا ایک اچھا اقدام تصور ہو گا۔
یہ احکامات انھوں نے وزیر اعظم ہائوس میں بجلی کی پیداوار کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے اور کہا کہ بجلی کے منصوبے جلد مکمل کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ جہاں تک کسی حکمران کے حکم جاری کرنے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی زور نہیں لگتا اصل مسئلہ اس حکم پر عملدرآمد کے موقع پر پیدا ہوتا ہے۔ حکم جاری کرتے وقت یہ جاننے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی کہ آیا یہ حکم قابل عمل ہے بھی یا نہیں۔ اس کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے کا پتہ اس کو رو بہ عمل لانے کے دوران چلتا ہے۔ اب جناب وزیر اعظم نے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کا حکم تو جاری کر دیا ہے لیکن کیا اس حکم کو ممکن بنایا جا سکے گا اس کا علم اس پر عمل درآمد کی کوششوں کے دوران ہی چل سکے گا۔ اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو حکم حاکم اور انتخابی وعدے میں بڑی مماثلت ہوتی ہے۔
موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں میں توانائی کی قلت دور کرنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود وہ اولین ترجیح والا وعدہ ایفا نہیں ہو سکا۔ اب اگر جناب وزیر اعظم ویسا ہی حکم جاری کر رہے ہیں جیسا کہ ان کا انتخابی وعدہ تھا تو وہ اس حکم پر عمل کس طور کرائیں گے۔ گو کہ وزیر اعظم نے سسٹم میں 592 میگاواٹ اضافی بجلی کے لیے کھاد کی صنعت سے بجلی کے شعبے کو گیس کی فوری منتقلی اور سی این جی شعبے کو جزوی طور پر گیس کی فراہمی کم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اس اہم اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ11 مئی 2014ء کو ہائیڈل ذرایع سے ایک ہزار میگاواٹ اضافی بجلی حاصل ہو جائے گی اور رواں ماہ کے آخر تک ہائیڈل وسائل سے مزید 3500 میگاواٹ بجلی کا بھی اضافہ ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے وزارت خزانہ، وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایندھن کی قلت کا مسئلہ آیندہ چند روز میں حل ہو جائے۔ بہر حال وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے جو قدم اٹھایا ہے' وہ درست سمت میںہے' امید کی جانی چاہیے کہ آنے والے ہفتوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کسی حد تک کمی آ جائے گی۔ اگر لوڈشیڈنگ 6یا 7 گھنٹے تک آ جاتی ہے تو یہ عوام کے لیے قابل قبول ہو گی اور حکومت کا ایک اچھا اقدام تصور ہو گا۔