نیب کا ڈائریکٹوریٹ اسکولز ایجوکیشن کے دفتر پر چھاپہ ریکارڈ قبضے میں لے لیا

فنڈز اور ٹینڈرز کے اجرا میں خردبرد کی شکایت پر کارروائی، معطل اکاؤنٹ افسر بھی موجود تھے

ڈائریکٹوریٹ اسکولز ایجوکیشن کے دفتر سے ریکارڈ حاصل کیا گیا ہے، چھاپہ نہیں مارا،نیب۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
قومی احتساب بیورو (نیب) سندھ نے کراچی کے سرکاری اسکولوں کے فنڈز اورٹینڈزکے اجرا میں بدترین مالی خردبردکی شکایت پرڈائریکٹوریٹ اسکولز ایجوکیشن کے دفترپرجمعرات کوچھاپہ مارکرریکارڈقبضے میں لے لیا۔

نیب کے اہلکار مالی سال2007سے 2010تک کے تمام فنڈز،ان کے استعمال اورٹینڈزکے اجرا کاریکارڈ اپنے ہمراہ لے گئے، نیب ترجمان کے مطابق ڈائریکٹوریٹ اسکولز ایجوکیشن کے دفتر سے ریکارڈ حاصل کیا گیا ہے تاہم انھوں نے چھاپہ مارنے کی تردید کی ہے، واضح رہے کہ قومی احتساب بیوروکے حکام کو ڈائریکٹوریٹ اسکولز ایجوکیشن کے اکائونٹ آفیسرلیاقت سولنگی کے خلاف سرکاری اسکولوں کے فنڈزمیں کئی کروڑروپے کوخردبرد کرنے اورفرضی ٹینڈزکے ذریعے رقم اپنے اکائونٹ میں منتقل کرنے کی شکایت موصول ہوئی تھیں اورچھاپے کے وقت معطل اکائونٹ افسرلیاقت سولنگی نیب اہلکاروں کے ہمراہ موجود تھے تاہم جوریکارڈنیب کے حکام نے اپنے قبضے میں لیاہے وہ تمام کاتمام اسی روزصبح لیاقت سولنگی نے اپنی تحویل سے ڈائریکٹوریٹ اسکولز ایجوکیشن کے حوالے کیاتھا۔


قبل ازیں وہ یہ ریکارڈ اپنے ہمراہ ہی لے گئے تھے اورامکان ہے کہ اس ریکارڈمیں بھی کسی قسم کی ردوبدل کی گئی ہو، بتایاجارہاہے کہ ڈائریکٹوریٹ اسکولزایجوکیشن کی فائلوں کے ریکارڈ پرکراچی کے سرکاری اسکولوں میں سال2007 سے 2010 تک کروڑوں روپے کے فرنیچر(ڈیکس، میز، کرسی) بجلی کاسامان (پنکھے ،لائٹس) اورسائنسی آلات کی خریداری ظاہرکی گئی تھی تاہم اس اثناء میں اسکولوں کو فرنیچر دیا کیا گیا اورنہ ہی سائنسی آلات فراہم کیے گئے، کراچی کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ ٹوٹی پھوٹی ڈیکس پربیٹھ کرتعلیم حاصل کرتے رہے جبکہ کئی اسکول ایسے بھی تھے جہاں طلبہ دریوں پربیٹھ کرتعلیم حاصل کرتے ہیں تاہم مذکورہ اکائونٹ افسرفائلوں کاپیٹ بھرکرفرضی ٹینڈرزکے ذریعے رقم اپنے اکائونٹ میںمنتقل کرتے رہے۔

واضح رہے کہ اس وقت سندھ کے صوبائی وزیرتعلیم پیرمظہرالحق جبکہ ای ڈی اواسکول ایجوکیشن یاڈائریکٹراسکولز کی اسامی پرابراہیم کمبھراوربعدازاں ساجن ملاح تعینات تھے اورمعطل کیے گئے اکائونٹ افسراس پورے عرصے میں مذکورہ اسامی پرتعینات رہے، لیاقت سولنگی کوایک سال قبل موجودہ سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہونے کراچی کے سرکاری اسکولوں میں میرٹ کے برعکس اوربرخلاف کی جانے والی بھرتیوں کے الزام میں معطل کیا تھا جبکہ حال ہی میں انھیں حکومت سندھ کی جانب سے ملازمت سے برطرفی کیلیے اظہاروجوہ کانوٹس بھی جاری کیاجاچکاہے۔

جمعرات کو نیب حکام نے سوک سینٹرکی پانچویں منزل پرموجود ڈائریکٹوریٹ اسکولز ایجوکیشن کے دفترپرچھاپہ مارا اور مذکورہ برسوں میں سرکاری اسکولوں میں فنڈزکے استعمال، فرضی ٹینڈرزکے اجرا اور اسکولوں میں فرنیچرکی فراہمی کاریکارڈ قبضے میں لے لیا، اس سلسلے میں نیب کی ترجمان نے چھاپہ مارے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی محکمہ تعلیم میں بے قاعدگیوں کے الزامات کی تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں اور اس سلسلے میں نیب کی جانب سے جمعرات کو انھیں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کیلیے بلایا گیاتھا، اس موقع پر نیب نے ان سے متعلقہ ریکارڈ بھی طلب کیا جس پر انھوں نے رضامندی ظاہر کی اور نیب کی ٹیم ان کے ہمراہ سوک سنٹر میں واقع ان کے دفتر گئی اور متعلقہ ریکارڈ حاصل کرلیا۔
Load Next Story