وکلاپر حملے لمحہ فکریہ
یہ صورتحال کسی بھی وقت قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے
یہ صورتحال کسی بھی وقت قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے. فوٹو:ایکسپریس
ہیومن رائٹس کمیشن کے رہنما اور ممتاز قانون دان راشد رحمن ایڈووکیٹ کو نماز جنازہ کے بعد ملتان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔مقتول نے پوری زندگی انسانیت کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے کام کیا اور مظلوم انسانوں کی آواز بن کر جدوجہد کی، ہیومن رائٹس کمیشن کے حوالے سے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، نماز جنازہ میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔بلاشبہ ان کے قتل میں وہی بے چہرہ اور نامعلوم عناصر ملوث بتائے جاتے ہیں ۔
جنھوں نے ریاست کو یرغمال بنانے اور انسانی حقوق کی مہم میں سرگرم وکلا،اور این جی اوز کو قتل و ہراساں کرنے کے لیے سندھ ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کو اپنا مرکز نگاہ بنا لیا ہے ۔مارچ 2014 ء کواسلام آباد کچہری میں ایڈیشنل سیشن جج سمیت 10 افراد کی ہلاکت اور دیگر شہروں میں رونما ہونے والے سانحے ابھی لوگوں کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں ۔ منی پاکستان سمیت دیگر صوبوں میں بھی وکلا پر قاتلانہ حملے شدو مد سے کیے گئے ۔روز بے گناہ عام شہری بھی مارے جارہے ہیں ، پولیس کی طرف سے گرفتاریوں کا غلغلہ بھی ہے مگر بدامنی اور قتل وغارت رکنے کا نام نہیں لے رہی۔
یہ صورتحال کسی بھی وقت قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ گذشتہ روز کراچی پریس کلب کے سامنے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ اس کی رپورٹ ایم کیوایم کے خلاف عالمی سطح پرسازش کا حصہ ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کوکراچی میں ہونے والی قتل و غارت اور مظالم نظر نہیں آئے ۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک کے طول و عرض میں وکلا مخالف دہشت گردی اور بدامنی کے باعث جتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اس سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ حکومت اور انٹیلی جنس کی کارکردگی اور فعالیت بھی سوالییہ نشان بن گئی ہے جب کہ ملزمان کی بہیمانہ ٹارگٹ کلنگ کے بعد آسانی سے راہ فرار اختیار کرنے کی روایت بھی برقرار ہے ۔
ادھرراشد رحمان ایڈووکیٹ کے قتل کے الزام میں 2 نامعلوم افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ، تاہم سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کب کیفر کردار کو پہنچیں گے اور کب ٹارگٹ کلنگ کے بہیمانہ رجحان کی روک تھام کے لیے ملک گیر سطح پر موثر ریاستی اور حکومتی اقدامات کے دعوے حقیقت کا روپ دھاریں گے۔
جنھوں نے ریاست کو یرغمال بنانے اور انسانی حقوق کی مہم میں سرگرم وکلا،اور این جی اوز کو قتل و ہراساں کرنے کے لیے سندھ ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کو اپنا مرکز نگاہ بنا لیا ہے ۔مارچ 2014 ء کواسلام آباد کچہری میں ایڈیشنل سیشن جج سمیت 10 افراد کی ہلاکت اور دیگر شہروں میں رونما ہونے والے سانحے ابھی لوگوں کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں ۔ منی پاکستان سمیت دیگر صوبوں میں بھی وکلا پر قاتلانہ حملے شدو مد سے کیے گئے ۔روز بے گناہ عام شہری بھی مارے جارہے ہیں ، پولیس کی طرف سے گرفتاریوں کا غلغلہ بھی ہے مگر بدامنی اور قتل وغارت رکنے کا نام نہیں لے رہی۔
یہ صورتحال کسی بھی وقت قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ گذشتہ روز کراچی پریس کلب کے سامنے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ اس کی رپورٹ ایم کیوایم کے خلاف عالمی سطح پرسازش کا حصہ ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کوکراچی میں ہونے والی قتل و غارت اور مظالم نظر نہیں آئے ۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک کے طول و عرض میں وکلا مخالف دہشت گردی اور بدامنی کے باعث جتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اس سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ حکومت اور انٹیلی جنس کی کارکردگی اور فعالیت بھی سوالییہ نشان بن گئی ہے جب کہ ملزمان کی بہیمانہ ٹارگٹ کلنگ کے بعد آسانی سے راہ فرار اختیار کرنے کی روایت بھی برقرار ہے ۔
ادھرراشد رحمان ایڈووکیٹ کے قتل کے الزام میں 2 نامعلوم افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ، تاہم سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کب کیفر کردار کو پہنچیں گے اور کب ٹارگٹ کلنگ کے بہیمانہ رجحان کی روک تھام کے لیے ملک گیر سطح پر موثر ریاستی اور حکومتی اقدامات کے دعوے حقیقت کا روپ دھاریں گے۔