پولیو کا حملہ
جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا مگر ان دونوں حکومتوں نے بچوں کی زندگی بچانے والی اس مہم کی اہمیت کا ادراک نہیں کیا
tauceeph@gmail.com
پاکستان پولیو کے مرض پر قابو نہ پا سکا، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان سے سفر کرنے والوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اب پاکستان میں 10 دن سے زائد عرصے تک قیام کرنے والوں کو پولیو کے مرض کے خاتمے کے لیے قطرے پینے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا۔ بھارت چند ماہ قبل ایسی ہی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ یوں پاکستان دنیا کے ان 3 ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کا وائرس بچوں کو اپاہج کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ان پابندیوں کے ملک کے لیے منفی اثرات مرتب ہونگے۔
عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ صدی کے آخری دو عشروں میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں اس مرض کے وائرس کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم شروع کی تھی۔ عالمی ادارہ صحت نے ان ممالک میں خاص طور پر پولیو کے خاتمے کی دوائی فراہم کی تھی اور دوائی پلانے والے ویکسینیٹرز کی خصوصی تربیت کے انتظامات کیے گئے، دوائیوں اور ویکسینیٹرز کی تربیت، تنخواہوں اور دوا کو ٹھنڈا اور محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجریٹر ڈبلیو ایچ او نے فراہم کیے تھے، اس وقت پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی نگرانی کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کا تقرر کیا گیا تھا۔
ڈبلیو ایچ او کی حکمت عملی اور بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومت کی اچھی طرز حکمرانی کی پالیسی کی بناء پر ان ممالک میں پولیو کا مرض ختم ہو گیا مگر پاکستان میں یہ مرض پھیلتا چلا گیا۔ اس وقت سماجی ماہرین کا کہنا تھا کہ علماء اور مذہبی جماعتوں کے کارکن پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے حق میں نہیں ہیں۔ کچھ محدود ذہن رکھنے والے مذہبی علماء نے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو امریکا اور یہودیوں کی پالیسی سے منسلک کر دیا اور ایسی کتابیں اور کتابچے شایع کیے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا ، یورپ اور یہودی ایک سازش کے تحت بچوں کو نامرد بنانے کے لیے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی سرپرستی کر رہے ہیں، یہ خیالات صرف قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ کراچی اور لاہور کے بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کے ایک سینئر سرجن ایسی ہی مہم کی نگرانی کے لیے قبائلی علاقے میں گئے تھے مگر ایک اچانک حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ پھر جب سوات میں ملا فضل ریڈیو کے نام سے مشہور ہوئے تو انھوں نے اس مہم کو اسلام کے اصولوں کے خلاف قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان وبائی بیماری سے بچنے کے لیے وہ علاقہ چھوڑ سکتے ہیں مگر خدا کی طرف سے آنے والی بیماری کی روک تھام نہیں کرنی چاہیے۔ ا س زمانے میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت تھی ۔
1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا مگر ان دونوں حکومتوں نے بچوں کی زندگی بچانے والی اس مہم کی اہمیت کا ادراک نہیں کیا، نائن الیون کے بعد مذہبی انتہا پسندی میں شدت آ گئی۔ ان انتہا پسندوں نے پولیو کے خاتمے کی مہم کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا، یوں بہت سے پڑھے لکھے لوگ اس مہم کا حصہ بن گئے۔ اب باقاعدہ عسکری قوت کے استعمال کے ذریعے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو سبوتاژ کیا جانے لگا۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ایبٹ آباد میں ہیپاٹائٹس سی کا پتہ چلانے کے لیے گھر گھر خون کے سیمپل لینے کی مہم شروع کی، اس مہم کا حقیقی مقصد اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے خون کا سیمپل لینا تھا۔
اگرچہ ڈاکٹر آفریدی کی نگرانی میں چلائی جانے والی یہ مہم اپنے اصل ہدف میں کتنی کامیاب ہوئی اس بارے میں تو امریکی خاموش ہیں مگر 2 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں امریکی میرین دستوں کے آپریشن میں اسامہ کے گھر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے بعد امریکی ذرایع ابلاغ میں ایبٹ آباد میں ہیپاٹائٹس سی کے لیے خون کے سیمپل جمع کرنے کی مہم کا ذکر ہوا۔ پولیو کے قطرے پلانے والی ویکسینیٹرز کی زندگی ایک نئے خطرے سے دوچار ہو گئی، انتہا پسندوں نے قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے شروع کر دیے، صورتحال اس حد تک خراب ہوئی کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں میں رضاکار ٹیموں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں، صرف کراچی میں مختلف اوقات میں ان حملوں میں خواتین سمیت مرنے والوں کی تعداد 10 سے بڑھ گئی۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں اس صورتحال کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگا سکیں۔
پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور جب ان ٹیموں پر حملوں کا بین الاقوامی ذرایع ابلاغ پر بار بار ذکر ہونے لگا تو ایسے موقعے پر پولیس فورس فراہم کرنے کے اعلانات ہوئے مگر کراچی سمیت تمام علاقوں میں پولیس والے اپنی ڈیوٹیوں پر موجود نہیں ہوتے تھے۔ گزشتہ سال کراچی میں وعدے کے مطابق ان ٹیموں کو پولیس فورس فراہم نہیں کی گئی، یوں قیوم آباد جیسے شہری علاقے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اچانک فائرنگ کر کے تین خواتین اہلکاروں کو قتل کر دیا۔ جب ڈبلیو ایچ او اور پڑوسی ممالک نے پاکستان میں پولیو کے مرض کے پھیلاؤ پر پابندیوں کے بارے میں سوچ بچار شروع کیا تو پھر حکومت نے فوج کو ان ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد عمران خان نے جب یہ محسوس کیا کہ سعود ی عرب اور خلیجی ممالک جانے والے خیبر پختونخواکے مزدوروں کو نئی پابندیوں کا سامنا کرنے پڑے گا او وہ روزگار سے محروم ہو جائیں گے تو انھوں نے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی سرپرستی شروع کی۔ اس بناء پر اس مہم کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کی گئی، گھروں، تعلیمی اداروں، سڑکوں، بس اسٹاپوں اور ریلوے اسٹیشن پر یہ مہم چلانے کے فیصلے ہوئے مگر کراچی سمیت کے پی کے کے مختلف علاقوں میں بچو ں میں پولیو کے وائرس کے ملنے کی تصدیق کے بعد ڈبلیو ایچ او سخت فیصلے پر مجبور ہو گئی۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف اس سال ملک میں پولیو کے 59 مریضوں کا پتہ چلا، ان میں سے 46 مریضوں کا تعلق جنوبی وزیرستان، 4 کا تعلق خیبر ایجنسی، ایک کا ایف آر بنوں، 9 کا خیبرپختونخوا اور 4 کا تعلق کراچی کے علاقوں گڈاپ اور بلدیہ ٹاؤن سے تھا۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا اس مسئلے کے حل کے لیے شہریوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنا ہو گا، اسکولوں اور مدارس کے نصاب میں وبائی بیماریوں کے خاتمے کے لیے ابواب شامل کرنا ہونگے۔ اس مقصد کے لیے مساجد کے اماموں اور اساتذہ کی خصوصی تربیت پر توجہ دینا ہو گی، ایسا قانون بنانا ہو گا کہ اگر کوئی شخص پولیو کی بیماری کے خاتمے کے لیے پلائے جانے والے خطروں کے خلاف پروپیگنڈا کرے تو اس فرد کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم ہو سکے۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے دو اسلامی ممالک شام اور پاکستان پر یہ پابندیاں عائد کیں، ایسی ہی صورتحال نائیجیریا میں بھی پائی جاتی ہے، مگر خوش آیند بات یہ ہے کہ مسلمان علماء پولیو کے خاتمے کی مہم کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر خانہ کعبہ کے امام کا کردار قابل ستائش ہے۔ جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت کے رضاکار اس مہم میں شریک ہوتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے صحت کے محکموں کے ساتھ مل کر پولیو کے مرض کے خاتمے کے لیے حکمت عملی تیار کی ہے۔
یہ حکمت عملی 10 برس پہلے تیار ہونی چاہیے تھے مگر جب تک رائے عامہ ہموار کرنے والے ایک نقطے پر متفق نہیں ہونگے اس حکمت عملی کا بہت زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر حکومت علماء کو متحرک کرے اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں پولیو کے خاتمے کی مہم سے یکجہتی کا اظہار کریں تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر ڈبلیو ایچ او اور ان ابتدائی پابندیوں کے باوجود صورتحال کی سنگینی کو محسوس نہیں کیا تو پاکستانیوں کے لیے بیرون ممالک سفر کرنا بہت مشکل ہو جائے گا، یوں سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور یورپ میں روزگار کے دروازوں پر بندش کا براہ راست نقصان عوام کو ہو گا، حکومت اور سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے کی اہمیت کو محسوس کرنا ہو گا۔
عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ صدی کے آخری دو عشروں میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں اس مرض کے وائرس کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم شروع کی تھی۔ عالمی ادارہ صحت نے ان ممالک میں خاص طور پر پولیو کے خاتمے کی دوائی فراہم کی تھی اور دوائی پلانے والے ویکسینیٹرز کی خصوصی تربیت کے انتظامات کیے گئے، دوائیوں اور ویکسینیٹرز کی تربیت، تنخواہوں اور دوا کو ٹھنڈا اور محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجریٹر ڈبلیو ایچ او نے فراہم کیے تھے، اس وقت پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی نگرانی کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کا تقرر کیا گیا تھا۔
ڈبلیو ایچ او کی حکمت عملی اور بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومت کی اچھی طرز حکمرانی کی پالیسی کی بناء پر ان ممالک میں پولیو کا مرض ختم ہو گیا مگر پاکستان میں یہ مرض پھیلتا چلا گیا۔ اس وقت سماجی ماہرین کا کہنا تھا کہ علماء اور مذہبی جماعتوں کے کارکن پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے حق میں نہیں ہیں۔ کچھ محدود ذہن رکھنے والے مذہبی علماء نے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو امریکا اور یہودیوں کی پالیسی سے منسلک کر دیا اور ایسی کتابیں اور کتابچے شایع کیے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا ، یورپ اور یہودی ایک سازش کے تحت بچوں کو نامرد بنانے کے لیے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی سرپرستی کر رہے ہیں، یہ خیالات صرف قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ کراچی اور لاہور کے بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کے ایک سینئر سرجن ایسی ہی مہم کی نگرانی کے لیے قبائلی علاقے میں گئے تھے مگر ایک اچانک حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ پھر جب سوات میں ملا فضل ریڈیو کے نام سے مشہور ہوئے تو انھوں نے اس مہم کو اسلام کے اصولوں کے خلاف قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان وبائی بیماری سے بچنے کے لیے وہ علاقہ چھوڑ سکتے ہیں مگر خدا کی طرف سے آنے والی بیماری کی روک تھام نہیں کرنی چاہیے۔ ا س زمانے میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت تھی ۔
1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا مگر ان دونوں حکومتوں نے بچوں کی زندگی بچانے والی اس مہم کی اہمیت کا ادراک نہیں کیا، نائن الیون کے بعد مذہبی انتہا پسندی میں شدت آ گئی۔ ان انتہا پسندوں نے پولیو کے خاتمے کی مہم کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا، یوں بہت سے پڑھے لکھے لوگ اس مہم کا حصہ بن گئے۔ اب باقاعدہ عسکری قوت کے استعمال کے ذریعے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو سبوتاژ کیا جانے لگا۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ایبٹ آباد میں ہیپاٹائٹس سی کا پتہ چلانے کے لیے گھر گھر خون کے سیمپل لینے کی مہم شروع کی، اس مہم کا حقیقی مقصد اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے خون کا سیمپل لینا تھا۔
اگرچہ ڈاکٹر آفریدی کی نگرانی میں چلائی جانے والی یہ مہم اپنے اصل ہدف میں کتنی کامیاب ہوئی اس بارے میں تو امریکی خاموش ہیں مگر 2 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں امریکی میرین دستوں کے آپریشن میں اسامہ کے گھر پر حملے اور اس کی ہلاکت کے بعد امریکی ذرایع ابلاغ میں ایبٹ آباد میں ہیپاٹائٹس سی کے لیے خون کے سیمپل جمع کرنے کی مہم کا ذکر ہوا۔ پولیو کے قطرے پلانے والی ویکسینیٹرز کی زندگی ایک نئے خطرے سے دوچار ہو گئی، انتہا پسندوں نے قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے شروع کر دیے، صورتحال اس حد تک خراب ہوئی کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں میں رضاکار ٹیموں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں، صرف کراچی میں مختلف اوقات میں ان حملوں میں خواتین سمیت مرنے والوں کی تعداد 10 سے بڑھ گئی۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں اس صورتحال کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگا سکیں۔
پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور جب ان ٹیموں پر حملوں کا بین الاقوامی ذرایع ابلاغ پر بار بار ذکر ہونے لگا تو ایسے موقعے پر پولیس فورس فراہم کرنے کے اعلانات ہوئے مگر کراچی سمیت تمام علاقوں میں پولیس والے اپنی ڈیوٹیوں پر موجود نہیں ہوتے تھے۔ گزشتہ سال کراچی میں وعدے کے مطابق ان ٹیموں کو پولیس فورس فراہم نہیں کی گئی، یوں قیوم آباد جیسے شہری علاقے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اچانک فائرنگ کر کے تین خواتین اہلکاروں کو قتل کر دیا۔ جب ڈبلیو ایچ او اور پڑوسی ممالک نے پاکستان میں پولیو کے مرض کے پھیلاؤ پر پابندیوں کے بارے میں سوچ بچار شروع کیا تو پھر حکومت نے فوج کو ان ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد عمران خان نے جب یہ محسوس کیا کہ سعود ی عرب اور خلیجی ممالک جانے والے خیبر پختونخواکے مزدوروں کو نئی پابندیوں کا سامنا کرنے پڑے گا او وہ روزگار سے محروم ہو جائیں گے تو انھوں نے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی سرپرستی شروع کی۔ اس بناء پر اس مہم کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کی گئی، گھروں، تعلیمی اداروں، سڑکوں، بس اسٹاپوں اور ریلوے اسٹیشن پر یہ مہم چلانے کے فیصلے ہوئے مگر کراچی سمیت کے پی کے کے مختلف علاقوں میں بچو ں میں پولیو کے وائرس کے ملنے کی تصدیق کے بعد ڈبلیو ایچ او سخت فیصلے پر مجبور ہو گئی۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف اس سال ملک میں پولیو کے 59 مریضوں کا پتہ چلا، ان میں سے 46 مریضوں کا تعلق جنوبی وزیرستان، 4 کا تعلق خیبر ایجنسی، ایک کا ایف آر بنوں، 9 کا خیبرپختونخوا اور 4 کا تعلق کراچی کے علاقوں گڈاپ اور بلدیہ ٹاؤن سے تھا۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا اس مسئلے کے حل کے لیے شہریوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنا ہو گا، اسکولوں اور مدارس کے نصاب میں وبائی بیماریوں کے خاتمے کے لیے ابواب شامل کرنا ہونگے۔ اس مقصد کے لیے مساجد کے اماموں اور اساتذہ کی خصوصی تربیت پر توجہ دینا ہو گی، ایسا قانون بنانا ہو گا کہ اگر کوئی شخص پولیو کی بیماری کے خاتمے کے لیے پلائے جانے والے خطروں کے خلاف پروپیگنڈا کرے تو اس فرد کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم ہو سکے۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے دو اسلامی ممالک شام اور پاکستان پر یہ پابندیاں عائد کیں، ایسی ہی صورتحال نائیجیریا میں بھی پائی جاتی ہے، مگر خوش آیند بات یہ ہے کہ مسلمان علماء پولیو کے خاتمے کی مہم کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر خانہ کعبہ کے امام کا کردار قابل ستائش ہے۔ جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت کے رضاکار اس مہم میں شریک ہوتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے صحت کے محکموں کے ساتھ مل کر پولیو کے مرض کے خاتمے کے لیے حکمت عملی تیار کی ہے۔
یہ حکمت عملی 10 برس پہلے تیار ہونی چاہیے تھے مگر جب تک رائے عامہ ہموار کرنے والے ایک نقطے پر متفق نہیں ہونگے اس حکمت عملی کا بہت زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر حکومت علماء کو متحرک کرے اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں پولیو کے خاتمے کی مہم سے یکجہتی کا اظہار کریں تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر ڈبلیو ایچ او اور ان ابتدائی پابندیوں کے باوجود صورتحال کی سنگینی کو محسوس نہیں کیا تو پاکستانیوں کے لیے بیرون ممالک سفر کرنا بہت مشکل ہو جائے گا، یوں سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور یورپ میں روزگار کے دروازوں پر بندش کا براہ راست نقصان عوام کو ہو گا، حکومت اور سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے کی اہمیت کو محسوس کرنا ہو گا۔