آئی سی سی’’سفید ہاتھی‘‘سے پیچھا نہیں چھڑائے گی
اینٹی کرپشن یونٹ بہترین کام کررہا ہے،ختم کرنے کی اطلاعات درست نہیں، رچرڈسن
اینٹی کرپشن یونٹ بہترین کام کررہا ہے،ختم کرنے کی اطلاعات درست نہیں، رچرڈسن فوٹو: فائل
آئی سی سی''سفید ہاتھی'' اینٹی کرپشن یونٹ سے پیچھا نہیں چھڑائے گی، چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن کا کہنا ہے کہ اے سی ایس یو کو ختم کیے جانے کی اطلاعات درست نہیں، ادارہ بہترین انداز میں کام کررہا ہے۔
کرکٹ میں کرپشن کیخلاف مہم تیز کرنے کیلیے مختلف ممالک کے متعلقہ حکام سے رابطوں کا نظام مزید موئثر بنائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سابق برطانوی پولیس افسر رونی فلینیگن کی زیرسربراہی کام کرنے والا آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ 14سال قبل قیام سے اب تک سفید ہاتھی ثابت ہوا ہے، پاکستانی کرکٹرز کا 2010 میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل ''نیوزآف دی ورلڈ'' اخبار کے اسٹنگ آپریشن سے سامنے آیا،کھیل میں کرپشن کے دیگر واقعات پکڑنے میں بھی اے سی ایس یو کا کوئی کردار نہیں تھا،گزشتہ دنوں ایک برطانوی اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی کہ سالانہ ساڑھے 5ملین ڈالر خرچ کرنے کے باجود غیر موثر ثابت ہونے والا اینٹی کرپشن یونٹ ختم کرکے معاملات ہر متعلقہ ملک کے انویسٹی گیشن بورڈ کے سپرد کردیے جائینگے۔
اے سی ایس یو کے پاس قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسے اختیارات نہیں، دوسری طرف ملکی ادارے بہتر انداز میں پولیس اور اداروں کے ساتھ مل کر کام کرسکیں گے۔ اس حوالے سے آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے کہاکہ اینٹی کرپشن پالیسیزکو بہتر بنانے کی تجاویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، البتہ ان سے کسی طور بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جانا درست نہیں کہ اے سی ایس یو کو ختم کیا جارہا ہے، ادارہ بہترین انداز میں سرگرم ہے، کرکٹ میں کرپشن کیخلاف مہم تیز کرنے کیلیے مختلف ممالک کے متعلقہ حکام سے رابطوں کا نظام مزید موثر بنائینگے۔انھوں نے کہا کہ آئی پی ایل سمیت مختلف ممالک میں کرکٹ لیگز کی تعداد میں اضافے کے بعد بد عنوانی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، ملکی سطح پر کھیل کے معاملات پر نظر رکھنے والے حکام اور ڈومیسٹک مقابلوں سے وابستہ افراد کیساتھ مل کر کام کرنا وقت کی ضرورت بن چکا۔
کرکٹ میں کرپشن کیخلاف مہم تیز کرنے کیلیے مختلف ممالک کے متعلقہ حکام سے رابطوں کا نظام مزید موئثر بنائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سابق برطانوی پولیس افسر رونی فلینیگن کی زیرسربراہی کام کرنے والا آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ 14سال قبل قیام سے اب تک سفید ہاتھی ثابت ہوا ہے، پاکستانی کرکٹرز کا 2010 میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل ''نیوزآف دی ورلڈ'' اخبار کے اسٹنگ آپریشن سے سامنے آیا،کھیل میں کرپشن کے دیگر واقعات پکڑنے میں بھی اے سی ایس یو کا کوئی کردار نہیں تھا،گزشتہ دنوں ایک برطانوی اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی کہ سالانہ ساڑھے 5ملین ڈالر خرچ کرنے کے باجود غیر موثر ثابت ہونے والا اینٹی کرپشن یونٹ ختم کرکے معاملات ہر متعلقہ ملک کے انویسٹی گیشن بورڈ کے سپرد کردیے جائینگے۔
اے سی ایس یو کے پاس قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسے اختیارات نہیں، دوسری طرف ملکی ادارے بہتر انداز میں پولیس اور اداروں کے ساتھ مل کر کام کرسکیں گے۔ اس حوالے سے آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے کہاکہ اینٹی کرپشن پالیسیزکو بہتر بنانے کی تجاویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، البتہ ان سے کسی طور بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جانا درست نہیں کہ اے سی ایس یو کو ختم کیا جارہا ہے، ادارہ بہترین انداز میں سرگرم ہے، کرکٹ میں کرپشن کیخلاف مہم تیز کرنے کیلیے مختلف ممالک کے متعلقہ حکام سے رابطوں کا نظام مزید موثر بنائینگے۔انھوں نے کہا کہ آئی پی ایل سمیت مختلف ممالک میں کرکٹ لیگز کی تعداد میں اضافے کے بعد بد عنوانی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، ملکی سطح پر کھیل کے معاملات پر نظر رکھنے والے حکام اور ڈومیسٹک مقابلوں سے وابستہ افراد کیساتھ مل کر کام کرنا وقت کی ضرورت بن چکا۔