سعودی عرب میں مرس وائرس سے مزید 5 افراد جاں بحق سیکڑوں متاثر
مدینہ منورہ میں 2 خواتین،مکہ مکرمہ84 سالہ بزرگ، جدہ ایک شخص اور ریاض میں عورت چل بسی۔
مدینہ منورہ میں 2 خواتین،مکہ مکرمہ84 سالہ بزرگ، جدہ ایک شخص اور ریاض میں عورت چل بسی۔ فوٹو رائٹرز
سعودی عرب میں مہلک وائرس مرس سے جمعے کو مزید 5 افراد جاں بحق ہوگئے اور اب تک اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 126 ہوگئی۔
مرس وائرس کا پہلا کیس 2012ء میں سامنے آیا تھا۔ سعودی وزارت صحت کے مطابق مرس وائرس سے مدینہ منورہ میں 47 اور 60 سال عمر کی 2 خواتین جاں بحق ہوگئیں جبکہ شہر مکہ میں ایک 84 سالہ بزرگ اور شہر جدہ میں بھی ایک شخص اس مہلک وائرس سے دم توڑ گیا، تینوں شہرحج کے موقع پر عالمی برادری کی اقامت گاہ ہوتے ہیں۔ پانچویں موت دارالحکومت ریاض میں ہوئی جہاں ایک خاتون اس وائرس سے چل بسی۔ مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم کورنو وائرس(میرس)سے متاثرہ افراد کی تعداد 463 ہوگئی ہے۔ متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، لبنان اور یہاں تک کہ اب امریکا میں بھی مرس وائرس پایا گیا ہے۔
ان ممالک میں متاثرہ افراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے سعودی عرب کا سفرکیایاپھر سعودی عرب میں کسی کام کے سلسلے میں مقیم رہے، ان میں سے اکثریت میڈیکل اسٹاف کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک مرس وائرس سے کل 8273 افراد متاثرہوئے ہیں اوراس وائرس سے مرنے والے افراد میں 9 فیصد تعداد خواتین کی ہے۔ سارس کی طرح مرس وائرس سے بچائو کے لیے بھی ابھی تک کوئی ویکسین یا اینٹی وائرل علاج ممکن نہیں ہو سکاہے جس سے انسانی پھیپھڑوں کوبچایا جا سکے، اس وائرس سے اب تیزی سے گردے بھی متاثرہونے لگے ہیں۔
مرس وائرس کا پہلا کیس 2012ء میں سامنے آیا تھا۔ سعودی وزارت صحت کے مطابق مرس وائرس سے مدینہ منورہ میں 47 اور 60 سال عمر کی 2 خواتین جاں بحق ہوگئیں جبکہ شہر مکہ میں ایک 84 سالہ بزرگ اور شہر جدہ میں بھی ایک شخص اس مہلک وائرس سے دم توڑ گیا، تینوں شہرحج کے موقع پر عالمی برادری کی اقامت گاہ ہوتے ہیں۔ پانچویں موت دارالحکومت ریاض میں ہوئی جہاں ایک خاتون اس وائرس سے چل بسی۔ مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم کورنو وائرس(میرس)سے متاثرہ افراد کی تعداد 463 ہوگئی ہے۔ متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، لبنان اور یہاں تک کہ اب امریکا میں بھی مرس وائرس پایا گیا ہے۔
ان ممالک میں متاثرہ افراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے سعودی عرب کا سفرکیایاپھر سعودی عرب میں کسی کام کے سلسلے میں مقیم رہے، ان میں سے اکثریت میڈیکل اسٹاف کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک مرس وائرس سے کل 8273 افراد متاثرہوئے ہیں اوراس وائرس سے مرنے والے افراد میں 9 فیصد تعداد خواتین کی ہے۔ سارس کی طرح مرس وائرس سے بچائو کے لیے بھی ابھی تک کوئی ویکسین یا اینٹی وائرل علاج ممکن نہیں ہو سکاہے جس سے انسانی پھیپھڑوں کوبچایا جا سکے، اس وائرس سے اب تیزی سے گردے بھی متاثرہونے لگے ہیں۔