پاک امریکا تعلقات میں بہتری

ہماری خواہش ہے کہ مستقبل میں دونوں اتحادی ملکوں کے درمیان کسی قسم کی کشیدگی نہیں ہونی چاہیے۔

امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف موثر کارروائی کرے۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
اخباری خبروں کے مطابق امریکا کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا آئندہ پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی کشیدگی نہیں چاہتا۔ واشنگٹن میں دفتر خارجہ کی نائب ترجمان میری ہرف نے ایک بریفنگ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ حالیہ عرصہ میں دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاملات پر عدم اعتماد اور کشیدگی میں اضافہ ہوا مگر امریکا چونکہ پاکستان کے ساتھ مل کر انتہاپسندی پر قابو پانے کے لیے کام کرنا چاہتا ہے اس لیے ہماری خواہش ہے کہ مستقبل میں دونوں اتحادی ملکوں کے درمیان کسی قسم کی کشیدگی نہیں ہونی چاہیے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا کے خصوصی نمائندے جیمز ڈوب بنز نے کہا تھا کہ پاکستان اپنے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ طور پر کوئی کوششیں نہیں کر رہا۔ امریکی کانگریس کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے ڈوب بنز نے الزام لگایا تھا کہ قبائلی علاقوں (فاٹا) اور بلوچستان میں قائم مدرسوں سے تربیت یافتہ افراد افغانستان اور پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ ڈوب بنز نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں (امریکا اور پاکستان) کے تعلقات بہت انحطاط کا شکار ہو چکے ہیں۔ جب میری ہرف سے مسٹر ڈوب کے پاکستان پر عائد الزام پر اپنا تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو اس خاتون سفارت کار نے کہا کہ امریکا اور پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں انتہائی قریبی تعاون کر تے رہے ہیں۔


اس کا مزید کہنا تھا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے کیونکہ دہشت گردی خود پاکستان کے لیے خطرہ ہے' خطے میں اور کسی ملک کے لیے اتنا خطرہ نہیں ہے۔ نیز دہشت گردوں نے جتنے افراد کو پاکستان کے اندر ہلاک کیا ہے اتنی ہلاکتیں کسی اور جگہ نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر اس ہلاکت خیز خطرے کا مکمل طور پر قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔ مس ہرف نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں امریکا کے تعلقات پاکستان کے ساتھ بہت بہتر ہو گئے ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ باہمی افہام و تفہیم کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ادھر امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف موثر کارروائی کرے۔

امریکی ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ (نائب وزیر خارجہ) ولیم برنز نے پاکستان کے دورے کے اختتام پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں محض پاکستان کے پڑوسی ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ خود پاکستان کے لیے بھی سخت خطرے کا باعث ہیں۔ اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران ولیم برنز نے وزیر اعظم نواز شریف سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے ساتھ بھی ولیم برنز کی اہم ملاقات ہوئی۔ ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی حیثیت سے ولیم برنز کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ بہرحال پاکستان اور امریکا کے درمیان بہت سے اختلافات کے باوجود بیشتر معاملات پر ہم آہنگی موجود ہے۔ پاکستان اور امریکا اپنے اختلافات کو باہمی مفادات کے تناظر میں کم کریں تو دونوں ملک عالمی امور میں مزید ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔
Load Next Story