11 مئی 2013ء ایک شاندار دن

آج 11 مئی ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ دن شاندار اہمیت رکھتا ہے۔ صرف ایک برس پہلے یہی دن تھا

zahedahina@gmail.com

آج 11 مئی ہے۔ ہماری تاریخ میں یہ دن شاندار اہمیت رکھتا ہے۔ صرف ایک برس پہلے یہی دن تھا جب 1973ء کے تقریباً اصل آئین کے تحت ایک منتخب جمہوری حکومت کی آئینی میعاد پوری ہونے کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے عام انتخابات ہوئے اور ان ہی کے نتائج آنے کے بعد ہمارے ملک میں یہ تاریخ ساز واقعہ ہوا کہ ایک منتخب حکومت نے پہلی مرتبہ اقتدار دوسری منتخب حکومت کو منتقل کیا۔ 60 برس سے آنکھیں کئی مناظر دیکھنے کو ترستی تھیں۔ جی چاہتا تھا کہ ایک منتخب اسپیکر دوسرے اسپیکر، ایک وزیر اعظم دوسرے وزیر اعظم اور ایک صدر دوسرے منتخب صدر کے لیے جگہ خالی کر کے اُسے خوش آمدید کہے۔

وہ عمل جو آزادی کے فوراً بعد شروع ہونا چاہیے تھا وہ 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد شروع ہوا۔ حتمی نتائج کے موصول ہونے کے بعد ایک منتخب وزیر اعظم نے اقتدار دوسرے منتخب وزیر اعظم کے سپرد کیا اور یوں ہمارے یہاں بھی انہونی ہو گئی۔ وہ بات جو مستحکم جمہوریتوں کے لیے معمول کی بات ہے، وہ ہماری تاریخ کا ایک بیمثال واقعہ بن گئی۔ ۔

ہم اگر تاریخ میں پلٹ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نصف صدی سے زیادہ کا یہ عرصہ ضایع نہ ہوتا تو آج پاکستان نہ صرف متحد ہوتا بلکہ ایشیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں میں سرفہرست ہوتا۔ یہ نہ ہوتا کہ کوریا جیسا چھوٹا سا ملک ہم سے کہیں زیادہ خوش حال ہو، اس کے زرمبادلہ کے ذخائر 500 ارب ڈالر (جی ہاں۔ پانچ سو ارب ڈالر) سے زیادہ ہوں اور ہم جو کوریا سے کہیں زیادہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہیں، اتنے پسماندہ اور قلاش ہوں کہ 12 ارب ڈالر کے ذخائر پر بھی سجدہ شکر ادا کریں۔ یہ بھی نہ ہوتا کہ ہندوستان جس کے مسائل اور تضادات ہم سے کہیں زیادہ ہیں وہ آج ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی معاشی طاقت ہے اور ہم غربت کے باوجود اس کشمکش میں مبتلا رہیں کہ ہمیں اپنے پڑوسی ملک سے تجارت بڑھانی چاہیے یا نہیں۔

ہندوستان کی آبادی ایک ارب 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، وہاں غربت کم ہوئی ہے، 60 کروڑ صارفین کی مستحکم مڈل کلاس پیدا ہو چکی ہے اور ہمارا یہ حال ہے کہ خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ہمارے یہاں جمہوری عمل اگر آزادی کے فوراً بعد شروع ہو جاتا اور فوجی آمروں نے شب خون مار کر جمہوریت اور وفاق پاکستان کو کمزور نہ کیا ہوتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے کہ 1971ء میں فوجی آمروں سے جان چھڑا کر بنگلہ دیش بننے والے مشرقی پاکستان کے 80 ٹکوں کا ایک ڈالر ہو، اس کے زرمبادلہ کا ذخیرہ 20 ارب ڈالر ہو اور ہم یعنی مغربی پاکستان پر مشتمل موجودہ پاکستان کا یہ حال ہو کہ ڈالر جب 110 روپے کی بجائے 98 روپے کا ملنے لگے تو ہم خوشی سے بے حال ہو جائیں۔

11 مئی 2013ء ہمارے لیے ایک شاندار دن ہے۔ اس دن جمہوری تسلسل کا جو عمل شروع ہوا ہے اسے ہر قیمت پر جاری رہنا چاہیے تا کہ ہم ماضی کی کوتاہیوں اور غلطیوں کی تلافی کر سکیں۔ رفو کا بہت کام باقی ہے۔ عوام، سیاسی کارکنوں، قومی رہنمائوں، دانشوروں، وکیلوں اور صحافیوں کی بے مثال اور طویل جدوجہد کے باعث 11 مئی کا شاندار اور یادگار دن ہماری سیاسی تاریخ میں رقم ہوا ہے۔ یہ اس لیے ممکن ہو سکا کہ اب سے 8 برس پہلے ملک کے دو اہم ترین سیاستدانوں نے یہ طے کیا کہ اقتدار کے لیے فوجی جرنیلوں کا کاندھا استعمال نہیں کیا جائے گا، اس کے نتیجے میں جس میثاق جمہوریت پر دستخط کیے گئے اُس کی آٹھویں سالگرہ تین دن بعد 14 مئی کو آ رہی ہے۔

اس میثاقِ جمہوریت پر عمل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 18 ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی اور 1973ء کے آئین کو نہ صرف بڑی حد تک اس کی اصل شکل میں دوبارہ بحال کیا گیا بلکہ بعض ایسی اصلاحات بھی عمل میں لائی گئیں جن کی مثال قدیم اور مستحکم ترین جمہوری ملکوں میں بھی نہیں ملتی۔ برطانیہ اور ہندوستان سمیت کون سا جمہوری ملک ہے جہاں عام انتخابات ایک ایسی نگراں حکومت کراتی ہے جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے باہمی مشورے سے قائم ہو؟

ہندوستان میں ووٹروں کی تعداد 82 کروڑ ہے، ملک اتنا بڑا ہے کہ ایک دن تو درکنار ایک ماہ میں بھی انتخابی عمل بہ مشکل مکمل ہوتا ہے۔ وہاں کی سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کے خلاف مہم چلاتی ہیں، میڈیا سیاستدانوں کو کیا کچھ نہیں کہتا لیکن اس کے باوجود عام انتخابات برسر اقتدار وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی زیر نگرانی منعقد ہوتے ہیں اور ان پر کوئی انگشت نمائی نہیں کرتا۔ ہمارے یہاں 11 مئی 2013ء کے انتخابات نگراں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کرائے جس پر ہندوستان کے سیاستدانوں نے بھی رشک کیا۔


18 ویں ترمیم کے تحت آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن قائم ہوا اور چیف الیکشن کمشنر کا تقرر قائد حزب اقتدار اور قائد حزب اختلاف کی باہمی مشاورت سے ہوا جس کی تعریف دنیا نے کی اور ملک میں سب ہی نے جناب فخر الدین جی ابراہیم کو خوش آمدید کہا۔ یہ کام تو ہندوستان، برطانیہ، بنگلہ دیش سمیت کسی جمہوری ملک میں بھی آج تک نہیں ہوا۔ ان ملکوں میں چیف الیکشن کمشنر کا تقرر حکومتِ وقت کرتی ہے جو انتخابات کراتا ہے اور سب نتائج تسلیم کرتے ہیں۔ اسی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو وہ خود مختاری دی گئی جو ہندوستان جیسے وفاقی جمہوری ملک کی ریاستوں کو حاصل نہیں ہے۔

قائد حزب اختلاف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ ہوا، اس 18 ویں ترمیم کے ذریعے اور بہت سی ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے 1973ء کا آئین کئی جمہوری ملکوں کے آئین سے کہیں زیادہ جمہوری ہو گیا۔ 2006ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے تاریخ سے سبق سیکھا اور 14 مئی 2006ء کو میثاق جمہوریت پر دستخط کرتے ہوئے کسی بھی قیمت پر جمہوریت کو غیر مستحکم نہ کرنے کا اعلان کیا ۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بی بی جان سے چلی گئیں اور ان کی عظیم قربانی، میاں صاحب کے عزم اور زرداری صاحب کی سیاسی بصیرت کے نتیجے میں ہم نے 11 مئی 2013ء جیسا شاندار دن دیکھا۔

11مئی 2013ء کا تاریخ ساز دن ہمارے حصے میں نہ آتا اگر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے فوجی آمر کے سامنے سر نہ جھکانے کا جرات مندانہ فیصلہ کر کے قید و بند کی صعوبتیں برداشت نہ کی ہوتیں، اگر انھوں نے آمر کے سامنے حرف انکار بلند نہ کیا ہوتا تو 2008ء میں قائم ہونے والی منتخب جمہوری حکومت حزب اختلاف کے تعاون کے باوجود اپنی آئینی میعاد شاید پوری نہ کر پاتی۔ اعلیٰ عدلیہ تابعدار رہتی تو پیپلز پارٹی کی حکومت کو رخصت کرنے کے کسی بھی غیر آئینی فیصلے کو قانونی جواز اور عدالتی تائید فراہم کر دی جاتی۔ 11 مئی 2013ء کا دن اور بعد ازاں اقتدار کی پُر امن منتقلی، پاکستان کے تمام جمہوری اور محب وطن طبقات اور اداروں کی مشترکہ جدوجہد کا ثمر تھی جس کے لیے سب داد تحسین کے حقدار ہیں۔

پاکستان میں ہر سال جب بھی 11 مئی کا دن آئے گا وہ انگنت پاکستانیوں کو مسرت سے سرشار اور کچھ لوگوں کو غم و اندوہ سے دو چار کرے گا۔ آج اس شاندار اور تاریخ ساز دن کی پہلی سالگرہ ہے۔ ہمیں صاف نظر آ رہا ہے کہ اس موقع پر کون خوش اور کون غمزدہ ہے۔ جو خوش ہیں وہ اس دن کی اہمیت پر اصرار کرتے اور اس امر کا اعادہ کرتے ہیں کہ جمہوری عمل کے بغیر سیاسی استحکام نہیں ہو سکتا، سیاسی استحکام نہیں ہو گا تو سرمایہ کاری نہیں ہو گی، معیشت کا پہیہ رکے گا تو ہماری پسماندگی بڑھے گی غربت میں اضافہ ہو گا۔

یہ دونوں عوامل بے چینی اور بدامنی پیدا کریں گے جس سے ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کی کیفیت جنم لے گی اور وہ لوگ شادیانے بجائیں گے جو تعمیر نہیں تخریب کے خواہاں ہیں۔ خوش ہونے والے کہتے ہیں کہ اگر جمہوری نظام میں کوئی کمی یا خرابی باقی رہ گئی ہے تو اسے درست کر کے جمہوریت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ آمروں کے بار بار شب خون مارنے کے سبب ہم سب کچھ رکھتے ہوئے بھی ایشیا اور خطے کے تمام ملکوں سے پیچھے رہ گئے۔ اب یہ ظالمانہ کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جمہوریت کا تسلسل ہو گا تب ہی ہم اپنے ہمسایہ ملکوں کے برابر آ سکیں گے۔

11 مئی کا دن ان لوگوں کو غمزدہ کرے گا بلکہ طیش دلائے گا جو یہ جانتے ہیں کہ ان میں اتنی اہلیت اور صلاحیت نہیں ہے کہ وہ جمہوریت کے ذریعے اقتدار میں آ سکیں، وہ عناصر بھی مضطرب ہوں گے جنھوں نے صرف طاقت کے زور پر پورے ملک کو دہائیوں یرغمال بنائے رکھا۔ شاعروں سے قصیدے لکھوائے، ادیبوں سے تعریف کرائی، صحافیوں کو مجبور کیا کہ وہ ظلمت کو ضیا لکھیں، جنھوں نے منصفوں کو مجبور محض بنا کر رکھا اور اپنے حق میں فیصلے کراتے رہے۔

11 مئی کو طیش اور اضطراب میں مبتلا ہونے والوں کو چاہیے کہ وہ بھی آمریت سے جمہوریت تک کے سفر اور اس کے تسلسل کو قبول کریں اور عام لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہونے کی زحمت کریں۔
Load Next Story