عاقب جاوید نے وقار یونس کو بار بار ’’کٹہرے‘‘ میں لانے کی مخالفت کردی

سابق فاسٹ بولر پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے صرف جرمانہ کیا گیا جس کو ان مٹ داغ بنانا درست نہیں ہوگا، سابق پیسر

کرکٹ بورڈ نے قومی کوچز کے تقرر کیلیے موزوں طریقہ کار اختیار نہیں کیا، سابق پیسر۔ فوٹو: فائل

عاقب جاوید نے وقار یونس کو جسٹس قیوم رپورٹ کی بنیاد پر بار بار کٹہرے میں لانے کی مخالفت کردی،ان کا کہنا ہے کہ سابق فاسٹ بولر پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے صرف جرمانہ کیا گیا جس کو ان مٹ داغ بنانا درست نہیں ہوگا۔


انھوں نے کوچزکی تقرری کیلیے پی سی بی کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق پیسر اور یواے ای کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہاکہ جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر وقار یونس کی بطور ہیڈ کوچ تقرری پر اعتراضات درست نہیں، ان پر شکوک ضرور ظاہر کیے گئے تھے، جرمانہ بھی ہوا لیکن کسی قاتل اور بیگ چھیننے والے کو ایک ہی نوعیت کا مجرم نہیں گردانا جا سکتا، وقار پر الزامات کو بھی ان مٹ داغ سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ جسٹس قیوم کمیشن نے سلیم ملک اور عطاء الرحمان کو تاحیات پابندی اور دیگر کھلاڑیوں کو جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں۔

ایک سوال پر عاقب جاوید نے کہا کہ پی سی بی نے کوچز کے تقرر کیلیے موزوں طریقہ کار اختیار نہیں کیا،کوچنگ خصوصی مہارت کا تقاضا کرتی ہے، اس لیے ہر کوچ کا متعلقہ شعبے میں کوالیفائیڈ ہونا لازمی ہے،پاکستان میں سابق کرکٹرز صرف اپنے تجربہ کی بنیاد پر خود کو کوچنگ کیلیے موزوں خیال کرلیتے ہیں لیکن اس کام کیلیے الگ قسم کی ٹریننگ اور سمجھ بوجھ درکار ہوتی ہے، بہتر ہوتا کہ پی سی بی تمام امیدواروں کو بلا کر مجوزہ حکمت عملی پیش کرنے کیلیے کہتا، یہ عمل مکمل کرنے کے بعد تمام درخواستوں کا جائزہ لے کر اپنی ٹیم کی ضروریات کے مطابق حتمی فیصلے کیے جاتے۔
Load Next Story