پاکستان عوامی تحریک آج ملک کے 38 شہروں میں احتجاج کررہی ہے
پاکستان عوامی تحریک کی مرکزی ریلیاں لاہور اورراولپنڈی میں نکالی جائیں گی
مرکزی ریلیاںراولپنڈی ،لاہورسے نکالی جائینگی، ڈاکٹرطاہرالقادری خطاب کریں گے فوٹو:فائل
پاکستان عوامی تحریک آج ملک گیر یوم احتجاج منارہی ہے جس کے تحت ملک کے 38 شہروں میں احتجاج کیا جارہا ہے۔
ملک بھر میں شہروں، اضلاع، تحصیلوں، ٹاؤنز، یونٹ کی سطح پر عوامی احتجاجی مظاہرے ہوں گے، اس سلسلے میں کراچی میں 3بجے سہہ پہر مزار قائد تا تبت سینٹر عوامی احتجاجی مارچ ہوگا۔PATیوتھ ونگ کے 500سے زائد کارکن سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔کراچی میں ریلی کی قیادت پارٹی کے سیکریٹری خرم نواز گنڈا پور، سینئر نائب صدر ڈاکٹر ایس ایم ضمیر اوردیگر کریں گے۔ احتجاجی ریلیوں سے ڈاکٹر محمد طاہر القادری وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔ 60شہروںمیں احتجاج کیا جائے گا،مرکزی ریلیاں راولپنڈی ،لاہورسے نکالی جائیں گی،تیاریاں مکمل کرلی گئیں،اسقبالیہ کیمپ قائم کردیے گئے، مری روڈ کے تاجروں نیکاروباربندرکھنے کااعلان کیا ہے۔
ڈویژنل سیکریٹریٹ گلشن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الیاس مغل نے کہاکہ احتجاجی ریلیوں کو سیکیورٹی دینا حکومت کا کام ہے،احتجاجی ریلیوں میں دہشت گردی ہوئی تو ذمے دار حکومت اور انتظامیہ ہو گی،موجودہ حکومت دہشت گردوں کی سرپرست ہے ۔ دریں اثنا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر ڈاکٹر ایس ایم ضمیر نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کا ملک گیر احتجاج،پرامن سبزانقلاب کی بنیاد ثابت ہو گا، آج کا دن انقلاب سے پہلے کرپٹ، پنکچرزدہ اور غیر آئینی الیکشنزکے نتیجے میں بننے والی حکومت اور عوام دشمن نظام کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ملک گیر احتجاج کی کامیابی سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ ایک سال میں ہی قوم نے غیر آئینی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو مسترد کر دیا ہے عوام اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا خاتمہ چاہتے ہیں، عوام دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اورتوانائی کے بحران کے عذاب سے نجات چاہتے ہیں اب عوام صرف انقلاب چاہتے ہیں جو صرف کرپٹ اور ظالمانہ نظام انتخاب و سیاست کے خاتمہ سے ہی ممکن ہے ۔
ڈاکٹر ایس ایم ضمیرنے متحدہ قومی موومنٹ ،ق لیگ، سنی اتحاد کونسل، پاکستان مزدورکسان اتحاد اوراقلیتی تنظیموں کی طرف سے پاکستان عوامی تحریک کی احتجاجی ریلی کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ عوامی انقلاب کی منزل قریب آگئی ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دیگرتنظیموں کے قائدین بھی ریلی میں شریک ہوکر ظلم اوراستحصال کی دیوارگرانے میں اپنا کردار اداکریں گے۔ نمائندگان ایکسپریس کے مطابق عوامی تحریک حکومتی پالیسیوں،قومی انتخابات 2013میںمبینہ دھاندلی کیخلاف آج اتوارکوملک کے 60 شہروں میں احتجاج کرے گی۔
راولپنڈی انتظامیہ نے عوامی تحریک کو آج مری روڈپر احتجاجی ریلی نکالنے کی اجازت دیدی، مرکزی ریلیاں لاہور اورراولپنڈی میں نکالی جائیں گی، عوامی تحریک نے اپنے احتجاج کاموضوع دہشتگردی، خاندانی بادشاہت، بد ترین لوڈ شیڈنگ،کرپشن، نجکاری، جان لیوامہنگائی اوراداروں کے درمیان ٹکراؤ رکھاہے۔ راولپنڈی میں ریلی کاآغازسہ پہر 3بجے چاندنی چوک مری روڈ سے ہو گااوراختتام لیاقت باغ چوک پرہوگا، بعد نماز مغرب ریلی سے علامہ ڈاکٹرطاہرالقادری ٹیلی فونک خطاب کریں گے۔
جس کی تمام تیاریاںمکمل کرلی گئی ہیں۔ راولپنڈی میں ریلی کی قیادت ڈاکٹرحسین محی الدین قادری کریں گے۔ عوامی تحریک نے لاہورمیں مال روڈ پرریلی نکالنے کااعلان کیاہے تاہم حکومت نے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے اورسکیورٹی خدشات کے باعث اجازت دینے سے انکارکرتے ہوئے ناصرباغ میں اجتماع منعقدکرنے کاکہا ہے۔ عوامی تحریک کے احتجاج کاآغاز سہ پہرسوا3 بجے ہوگا اورریلیاں اپنی مقررہمقام پراختتام پذیرہوں گی۔
ملک بھر میں شہروں، اضلاع، تحصیلوں، ٹاؤنز، یونٹ کی سطح پر عوامی احتجاجی مظاہرے ہوں گے، اس سلسلے میں کراچی میں 3بجے سہہ پہر مزار قائد تا تبت سینٹر عوامی احتجاجی مارچ ہوگا۔PATیوتھ ونگ کے 500سے زائد کارکن سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔کراچی میں ریلی کی قیادت پارٹی کے سیکریٹری خرم نواز گنڈا پور، سینئر نائب صدر ڈاکٹر ایس ایم ضمیر اوردیگر کریں گے۔ احتجاجی ریلیوں سے ڈاکٹر محمد طاہر القادری وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔ 60شہروںمیں احتجاج کیا جائے گا،مرکزی ریلیاں راولپنڈی ،لاہورسے نکالی جائیں گی،تیاریاں مکمل کرلی گئیں،اسقبالیہ کیمپ قائم کردیے گئے، مری روڈ کے تاجروں نیکاروباربندرکھنے کااعلان کیا ہے۔
ڈویژنل سیکریٹریٹ گلشن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الیاس مغل نے کہاکہ احتجاجی ریلیوں کو سیکیورٹی دینا حکومت کا کام ہے،احتجاجی ریلیوں میں دہشت گردی ہوئی تو ذمے دار حکومت اور انتظامیہ ہو گی،موجودہ حکومت دہشت گردوں کی سرپرست ہے ۔ دریں اثنا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر ڈاکٹر ایس ایم ضمیر نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کا ملک گیر احتجاج،پرامن سبزانقلاب کی بنیاد ثابت ہو گا، آج کا دن انقلاب سے پہلے کرپٹ، پنکچرزدہ اور غیر آئینی الیکشنزکے نتیجے میں بننے والی حکومت اور عوام دشمن نظام کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ملک گیر احتجاج کی کامیابی سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ ایک سال میں ہی قوم نے غیر آئینی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو مسترد کر دیا ہے عوام اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا خاتمہ چاہتے ہیں، عوام دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اورتوانائی کے بحران کے عذاب سے نجات چاہتے ہیں اب عوام صرف انقلاب چاہتے ہیں جو صرف کرپٹ اور ظالمانہ نظام انتخاب و سیاست کے خاتمہ سے ہی ممکن ہے ۔
ڈاکٹر ایس ایم ضمیرنے متحدہ قومی موومنٹ ،ق لیگ، سنی اتحاد کونسل، پاکستان مزدورکسان اتحاد اوراقلیتی تنظیموں کی طرف سے پاکستان عوامی تحریک کی احتجاجی ریلی کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ عوامی انقلاب کی منزل قریب آگئی ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دیگرتنظیموں کے قائدین بھی ریلی میں شریک ہوکر ظلم اوراستحصال کی دیوارگرانے میں اپنا کردار اداکریں گے۔ نمائندگان ایکسپریس کے مطابق عوامی تحریک حکومتی پالیسیوں،قومی انتخابات 2013میںمبینہ دھاندلی کیخلاف آج اتوارکوملک کے 60 شہروں میں احتجاج کرے گی۔
راولپنڈی انتظامیہ نے عوامی تحریک کو آج مری روڈپر احتجاجی ریلی نکالنے کی اجازت دیدی، مرکزی ریلیاں لاہور اورراولپنڈی میں نکالی جائیں گی، عوامی تحریک نے اپنے احتجاج کاموضوع دہشتگردی، خاندانی بادشاہت، بد ترین لوڈ شیڈنگ،کرپشن، نجکاری، جان لیوامہنگائی اوراداروں کے درمیان ٹکراؤ رکھاہے۔ راولپنڈی میں ریلی کاآغازسہ پہر 3بجے چاندنی چوک مری روڈ سے ہو گااوراختتام لیاقت باغ چوک پرہوگا، بعد نماز مغرب ریلی سے علامہ ڈاکٹرطاہرالقادری ٹیلی فونک خطاب کریں گے۔
جس کی تمام تیاریاںمکمل کرلی گئی ہیں۔ راولپنڈی میں ریلی کی قیادت ڈاکٹرحسین محی الدین قادری کریں گے۔ عوامی تحریک نے لاہورمیں مال روڈ پرریلی نکالنے کااعلان کیاہے تاہم حکومت نے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے اورسکیورٹی خدشات کے باعث اجازت دینے سے انکارکرتے ہوئے ناصرباغ میں اجتماع منعقدکرنے کاکہا ہے۔ عوامی تحریک کے احتجاج کاآغاز سہ پہرسوا3 بجے ہوگا اورریلیاں اپنی مقررہمقام پراختتام پذیرہوں گی۔