ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم گروپ ڈی کی ٹاپ سیڈ
پوزیشن کوئی بھی ہوسپر 8 کیلیے کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں ابتدائی سیڈنگ پر ہی رہیں گی
پوزیشن کوئی بھی ہوسپر 8 کیلیے کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں ابتدائی سیڈنگ پر ہی رہیں گی. فوٹو فائل
ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم گروپ ڈی کی ٹاپ سیڈ ہے۔
ایونٹ کا فارمیٹ 2010 جیسا ہی رکھا گیا، 10ٹیسٹ اقوام کے ساتھ 2 کوالیفائرز افغانستان اور آئرلینڈ نے جگہ بنائی ہے،شریک ٹیموں کو4گروپس میں تقسیم کیا گیا، اے میں دفاعی چیمپئن انگلینڈ، بھارت، افغانستان، بی میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز،آئرلینڈ، سی میں سری لنکا، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز جبکہ گروپ ڈی میں پاکستان، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔
چاروں گروپس کی ابتدائی ٹیمیں ٹاپ جبکہ دوسرے نمبر کی سیکنڈ سیڈ ہیں،پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن کوئی بھی ہو کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں ابتدائی سیڈنگ پر ہی موجود رہیں گی، اگر ان میں سے کوئی ٹیم سپر ایٹ میں رسائی حاصل نہ کر سکی اور تیسرے نمبر کی سائیڈ نے پیشقدمی کی تو وہ جس کی جگہ سنبھالے گی اسی کی سیڈنگ حاصل ہو گی۔
مثال کے طور پر اگر گروپ اے سے ٹاپ سیڈ انگلینڈ کی جگہ افغانستان نے کوالیفائی کیا تو وہ سپر ایٹ میں بطور اے ون ٹیم حصہ لے گی، بھارت بدستور اے ٹو ہی رہے گا، دوسرے مرحلے میں موجود 8 ٹیمیں بھی 2 گروپس میں تقسیم ہوں گی، ون میں اے ون، بی ٹو، سی ون اور ڈی ٹو جبکہ گروپ ٹو میں اے ٹو، بی ون، سی ٹو اور ڈی ون کو رکھا جائے گا۔
ایونٹ کا فارمیٹ 2010 جیسا ہی رکھا گیا، 10ٹیسٹ اقوام کے ساتھ 2 کوالیفائرز افغانستان اور آئرلینڈ نے جگہ بنائی ہے،شریک ٹیموں کو4گروپس میں تقسیم کیا گیا، اے میں دفاعی چیمپئن انگلینڈ، بھارت، افغانستان، بی میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز،آئرلینڈ، سی میں سری لنکا، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز جبکہ گروپ ڈی میں پاکستان، نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔
چاروں گروپس کی ابتدائی ٹیمیں ٹاپ جبکہ دوسرے نمبر کی سیکنڈ سیڈ ہیں،پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن کوئی بھی ہو کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں ابتدائی سیڈنگ پر ہی موجود رہیں گی، اگر ان میں سے کوئی ٹیم سپر ایٹ میں رسائی حاصل نہ کر سکی اور تیسرے نمبر کی سائیڈ نے پیشقدمی کی تو وہ جس کی جگہ سنبھالے گی اسی کی سیڈنگ حاصل ہو گی۔
مثال کے طور پر اگر گروپ اے سے ٹاپ سیڈ انگلینڈ کی جگہ افغانستان نے کوالیفائی کیا تو وہ سپر ایٹ میں بطور اے ون ٹیم حصہ لے گی، بھارت بدستور اے ٹو ہی رہے گا، دوسرے مرحلے میں موجود 8 ٹیمیں بھی 2 گروپس میں تقسیم ہوں گی، ون میں اے ون، بی ٹو، سی ون اور ڈی ٹو جبکہ گروپ ٹو میں اے ٹو، بی ون، سی ٹو اور ڈی ون کو رکھا جائے گا۔