آئی ایم ایف کے قرضے اور ہماری معیشت
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ خوش آیند ہے مگر اس کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچنے چاہیے ...
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ خوش آیند ہے مگر اس کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچنے چاہیے فوٹو: فائل
لاہور:
آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کی اقتصادی اور معاشی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چوتھی سہ ماہی کے لیے 55کروڑ ڈالر کے آسان شرائط پر قرضے کی منظوری دے دی ہے۔حکومت اس وقت درپیش معاشی اور اقتصادی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔حکومت ملکی اقتصادی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں تو ہے مگر سرمایہ کاری اور معاشی خوشحالی کی راہ میں دو بڑی رکاوٹیں توانائی کا بحران اور امن و امان کی دگرگوں صورتحال پوری قوت سے بدستور سد راہ بنی ہوئی ہے۔
توانائی کے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے حکومت مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے،سولر پاور سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں ایک عرصہ درکار ہے۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بھی اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ توانائی کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے جسے حل کرنے میں ابھی چند سال لگیں گے۔ جہاں تک ملک میں امن و امان کی صورت حال کا تعلق ہے حکومت اسے بہتر بنانے کے لیے کوشش تو کر رہی ہے مگر ابھی تک اس کے مثبت اور تسلی بخش نتائج سامنے نہیں آئے۔ کراچی اور خیبرپختونخوا میں امن کو لاحق خطرات میں کوئی کمی دکھائی نہیں دے رہی۔
کراچی میں بے گناہ شہریوں کا قتل روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اور دوسری جانب خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ بھی رکنے میں نہیں آ رہا۔ امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں حکومت کب کامیاب ہوتی ہے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت جس انداز میں سرگرم ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ وہ آیندہ چند سالوں میں اس پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آیندہ چار سال میں دس ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں آ جائے گی جس سے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
حکومت کی بہتر اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہی ہے کہ آئی ایم ایف اس پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ جیفری فرینکس نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے معاشی اعشاریے بہتر ہو رہے ہیں' شرح نمو میں تیزی آ رہی ہے' بیرونی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور اس کے علاوہ نجی شعبہ کو قرضہ کی فراہمی بھی بڑھی ہے۔ جیفری فرینکس نے کہا کہ جی ڈی پی تقریباً 3.3 فیصد بڑھے گی اور اگلے سال مزید بڑھ کر چار فیصد تک ہو جائے گی۔
جیفری فرینکس نے جہاں حکومت کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی وہاں انھوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ افراط زر زیادہ ہے، اس وقت افراط زر 9.2 فیصد ہے۔ جسے 6 سے 7 فیصد کے درمیان لانا ہوگا۔ انھوں نے حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کا بھی مشورہ دیا۔ اگر مہنگائی پر قابو نہیں پایا جاتا اور اس میں اضافہ مسلسل جاری رہتا ہے تو عوامی سطح پر بے چینی اور اضطراب کی کیفیت بڑھتی چلی جائے گی۔ عام آدمی کے نزدیک بہتر معاشی پالیسیاں وہ ہوتی ہیں جس سے اسے روز مرہ ضروریات بآسانی اور سستی ملتی رہیں۔
اگر اسے یہ اشیا مہنگے داموں ملتی ہیں اور اس کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے تو اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں کتنی بہتر ہیں اور نہ ہی اسے معاشی پیچیدگیوں کا علم ہوتا ہے' وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ حکومت اس کی زندگی میں آسانیاں لانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جب کہ 30 ستمبر سے قبل زرمبادلہ کے ذخائر کو 15 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا' تنخواہوں میں مہنگائی اور افراط زر کے تناسب سے اضافہ کیا جائے گا' رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے حصول کے لیے کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ خوش آیند ہے مگر اس کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچنے چاہیے،اگر اس کی زندگی میں بہتری کے آثار ظاہر نہیں ہوتے تو ان ذخائر میں اضافے کا اسے کیا فائدہ۔وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے ایک سال کے دوران غیر ملکی قرضوں میں 15ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ میڈیم ٹرم ڈیٹ مینجمنٹ حکمت عملی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 جون 2014 تک پاکستان کے ذمے غیر ملکی قرض 72 ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اقتصادی پالیسیوں کو بہتر بنانے کے نام پر غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے جو قطعی طور پر معاشی نظام کی بہتری کے لیے مفید نہیں۔ قرضوں کے بڑھنے سے مستقبل میں پاکستان کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت غیر ملکی قرضے لینے سے گریز کرے اور آمدن میں کمی کے مسئلے کو ٹیکس سسٹم ، زرعی اور صنعتی شعبے کے نظام کو بہتر بنا کر حل کر سکتی ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس جانب بھی توجہ دے گی۔
آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کی اقتصادی اور معاشی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چوتھی سہ ماہی کے لیے 55کروڑ ڈالر کے آسان شرائط پر قرضے کی منظوری دے دی ہے۔حکومت اس وقت درپیش معاشی اور اقتصادی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔حکومت ملکی اقتصادی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں تو ہے مگر سرمایہ کاری اور معاشی خوشحالی کی راہ میں دو بڑی رکاوٹیں توانائی کا بحران اور امن و امان کی دگرگوں صورتحال پوری قوت سے بدستور سد راہ بنی ہوئی ہے۔
توانائی کے مسئلہ پر قابو پانے کے لیے حکومت مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے،سولر پاور سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں ایک عرصہ درکار ہے۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بھی اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ توانائی کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے جسے حل کرنے میں ابھی چند سال لگیں گے۔ جہاں تک ملک میں امن و امان کی صورت حال کا تعلق ہے حکومت اسے بہتر بنانے کے لیے کوشش تو کر رہی ہے مگر ابھی تک اس کے مثبت اور تسلی بخش نتائج سامنے نہیں آئے۔ کراچی اور خیبرپختونخوا میں امن کو لاحق خطرات میں کوئی کمی دکھائی نہیں دے رہی۔
کراچی میں بے گناہ شہریوں کا قتل روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اور دوسری جانب خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ بھی رکنے میں نہیں آ رہا۔ امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں حکومت کب کامیاب ہوتی ہے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت جس انداز میں سرگرم ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ وہ آیندہ چند سالوں میں اس پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آیندہ چار سال میں دس ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں آ جائے گی جس سے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
حکومت کی بہتر اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہی ہے کہ آئی ایم ایف اس پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ جیفری فرینکس نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے معاشی اعشاریے بہتر ہو رہے ہیں' شرح نمو میں تیزی آ رہی ہے' بیرونی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے اور اس کے علاوہ نجی شعبہ کو قرضہ کی فراہمی بھی بڑھی ہے۔ جیفری فرینکس نے کہا کہ جی ڈی پی تقریباً 3.3 فیصد بڑھے گی اور اگلے سال مزید بڑھ کر چار فیصد تک ہو جائے گی۔
جیفری فرینکس نے جہاں حکومت کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی وہاں انھوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ افراط زر زیادہ ہے، اس وقت افراط زر 9.2 فیصد ہے۔ جسے 6 سے 7 فیصد کے درمیان لانا ہوگا۔ انھوں نے حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کا بھی مشورہ دیا۔ اگر مہنگائی پر قابو نہیں پایا جاتا اور اس میں اضافہ مسلسل جاری رہتا ہے تو عوامی سطح پر بے چینی اور اضطراب کی کیفیت بڑھتی چلی جائے گی۔ عام آدمی کے نزدیک بہتر معاشی پالیسیاں وہ ہوتی ہیں جس سے اسے روز مرہ ضروریات بآسانی اور سستی ملتی رہیں۔
اگر اسے یہ اشیا مہنگے داموں ملتی ہیں اور اس کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے تو اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں کتنی بہتر ہیں اور نہ ہی اسے معاشی پیچیدگیوں کا علم ہوتا ہے' وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ حکومت اس کی زندگی میں آسانیاں لانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جب کہ 30 ستمبر سے قبل زرمبادلہ کے ذخائر کو 15 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا' تنخواہوں میں مہنگائی اور افراط زر کے تناسب سے اضافہ کیا جائے گا' رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے حصول کے لیے کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ خوش آیند ہے مگر اس کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچنے چاہیے،اگر اس کی زندگی میں بہتری کے آثار ظاہر نہیں ہوتے تو ان ذخائر میں اضافے کا اسے کیا فائدہ۔وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے ایک سال کے دوران غیر ملکی قرضوں میں 15ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ میڈیم ٹرم ڈیٹ مینجمنٹ حکمت عملی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 جون 2014 تک پاکستان کے ذمے غیر ملکی قرض 72 ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اقتصادی پالیسیوں کو بہتر بنانے کے نام پر غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے جو قطعی طور پر معاشی نظام کی بہتری کے لیے مفید نہیں۔ قرضوں کے بڑھنے سے مستقبل میں پاکستان کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت غیر ملکی قرضے لینے سے گریز کرے اور آمدن میں کمی کے مسئلے کو ٹیکس سسٹم ، زرعی اور صنعتی شعبے کے نظام کو بہتر بنا کر حل کر سکتی ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس جانب بھی توجہ دے گی۔