سٹی کورٹ مال خانے میں لاکھوں کی بدعنوانی کا انکشاف ملزم رہا ہونے لگے

مال خانہ ذمہ داران اورملازمین کی ملی بھگت سے ملزمان سے برآمد ہونیوالا اسلحہ تبدیل کیا جانے لگا

مال خانہ ذمہ داران اورملازمین کی ملی بھگت سے ملزمان سے برآمد ہونیوالا اسلحہ تبدیل کیا جانے لگا فوٹو: فائل

سٹی کورٹ کے مال خانہ میں موجود کیس پراپرٹی مال خانہ انچارجوں کی ملی بھگت سے شواہد مٹانے کیلیے تبدیل کی جانے لگی، مال خانے سے13لاکھ روپے کی خوردبردکا معاملہ قانونی طور پر حل نہیں ہوسکا۔

اقدام قتل کا مقدمہ مصالحت پر ختم ہوگیا، مفرور ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا تمام رقم خوردبرد کرلی گئی ٹوٹی ہوئی چھتوں سے آنے والی تیز دھوپ کے باعث کیس پراپرٹی کے رنگ تبدیل ہونے پر مقدمات میں ملوث ملزمان باآسانی رہا ہونے لگے،مال خانے کا حساب صرف یاداشت پر چل رہا ہے کوئی کمپیوٹرائز نظام موجود نہیں ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن کی منیجنگ کمیٹی کے5 وکلا ممبران پر مشتمل انسداد بدعنوانی کمیٹی کے سربراہ محمد نثار شر ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سٹی کورٹ مال خانہ کے انچارجوں اور ملازمین کی ملی بھگت سے اسلحہ ایکٹ کے مقدمات میں ملزم سے برآمد ہونے والا اسلحہ جو کیس پراپرٹی کے طور پر مال خانہ میں رکھا جاتا ہے وہ تبدیل کردیا جاتا ہے۔


دوران سماعت گواہ اسلحہ کو شناخت نہیں کرتا اور اپنے بیان میں واضح طور پر عدالت کو بتاتا ہے کہ ملزم سے جو اسلحہ برآمد کیا گیا تھا وہ عدالت میں موجود نہیں جس سے ملزم باآسانی رہا ہوجاتا ہے، ایسے درجنوں مقدمات ان کی نظروں سے گزرے ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہے، مال خانے میں کوئی کمپیوٹرائزڈ نظام موجود نہیں ہے حساب صرف یاداشت پر چل رہا ہے، مال خانے کے انچارج یا ملازمین کی تبدیلی پر معاملات گھمبیر ہوجائیں گے انھوں نے کہا ہے کہ مال خانہ غربی کی چھت منہدم ہوجانے سے تیز دھوپ کے باعث مال خانے میں موجود کیس پراپرٹی کا رنگ تبدیل ہونے سے ملزمان کو فائدہ پہنچ رہا ہے، منشیات دھوپ اور گرمی سے کیمیکل میں تبدیل ہورہی ہے جسے گواہ شناخت کرنے سے معذور ہیں جس سے مقدمات میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

کمیٹی کے سربراہ نے مال خانہ میں خوردبردکا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ30 جنوری کو مال خانے کے 2 انچارجوں تراب علی مری اور انسپکٹر عبدالعزیز کے درمیان لین دین کے معاملے پر جھگڑا ہوا 31 جنوری کو عبدالعزیز نے اپنے ساتھی سعیدالرحمن کی مدد سے معاملہ دبانے کیلیے قتل کی نیت سے مال خانہ میں موجود کیس پراپرٹی دستی بم (ڈیٹونیٹر)سے دھماکا کرکے انچارج تراب علی مری کو شدید زخمی کردیا جس پر تراب علی مری نے تھانہ سٹی کورٹ میں عبدالعزیز اور اس کے ساتھی کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کراتے ہوئے مال خانے سے 13لاکھ روپے کی چوری کا الزام بھی عائد کیا تھا لیکن چند روز بعد مدعی انچارج تراب علی مری نے اسے معاف کردیا تھا لیکن مفرور ملزم کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی 13لاکھ روپے کا معاملہ قانون کے مطابق حل ہوسکا بلکہ دونوں انچارجوں کے درمیان رقم تقسیم ہونے پر ہی مصالحت ہوئی ہے رقم سرکاری ہے جوکہخوردبرد کرلی گئی،حکام نے معاملے پر چوری کی تحقیقات کرائی نہ تفتیشی افسر نے مکمل تحقیق کی جبکہ مقدمہ مصالحت پر ختم کردیا گیا ہے۔

سرکاری وکیل سید شمیم احمد کے مطابق مال خانے سے خوردبرد کی گئی رقم کے مقدمے میں ملوث تمام ملزم بری اور مقدمات ختم ہوگئے ہوں تو کیس پراپرٹی کی رقم کی خوردبرد کا معاملہ کبھی حل نہیں ہوگا، حکام کو چاہیے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کراکر دونوں انچارجوں کو معطل کرکے چھان بین کریں۔
Load Next Story