وزیراعظم کا دورہ ایران

حکومت کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ علاقائی ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھا کراپنے بہت سے معاشی مسائل پرقابو پایا جا سکتا ہے

حکومت کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ علاقائی ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھا کراپنے بہت سے معاشی مسائل پرقابو پایا جا سکتا ہے فوٹو؛ پی آئی ڈی

پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے' باہمی تجارت پانچ ارب ڈالر تک لے جانے اور سرحد پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ' خطہ کی صورت حال' افغان صدارتی انتخابات' نیٹو اور امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد کے معاملات' مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر ایران سعودی عرب تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان اور ایران میں گزشتہ دنوںسرحدی محافظوں کے سلسلے میں پیدا ہونے والے تناؤ کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ پاکستان اپنی اس سرحد کو پرامن ، محفوظ رکھنے اور کسی نئے علاقائی تنازعے سے بچنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہو۔وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ایران کا دورہ کرکے ان مسائل کو ابتدا ہی میں حل کرنے کے لیے درست جانب قدم اٹھایا ہے۔ دونوں برادر ممالک میں نئی حکومتوں کے قیام کے بعد اعلیٰ سطح کا یہ پہلا دورہ ہے۔

پاکستان کو توانائی کے بحران کا ایک عرصے سے سامنا ہے۔ گیس کے بحران سے نمٹنے کے لیے گزشتہ حکومت نے اپنے دور کے آخری ایام میں عالمی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران سے گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا تھا۔ مگر بعد ازاں موجودہ حکومت آنے کے بعد اس منصوبے میں بہت سی رکاوٹیں پیدا ہو گئیں۔ سابق دور حکومت میں ایران نے پاکستان کو گیس پائپ لائن کی فنانسنگ کی پیش کش کی تھی تاہم جب موجودہ حکومت نے اس حوالے سے ایرانی حکام سے بات چیت کی تو ایران نے اپنی ابتر اقتصادی صورت حال کے باعث اس حوالے سے معذرت کر لی تھی۔ اس معاہدے کے تحت اگر پاکستان 31 دسمبر 2014 تک اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کرتا تو اسے 3ملین امریکی ڈالر یومیہ جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ اگر پاکستان یکم جنوری 2015 تک تعمیراتی حجم کی ساری گیس نہیں لیتا تو اسے گیس کے حجم کے عوض رقم کی ادائیگی کے علاوہ جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔


ایران کے دورے پر گئے ہوئے پاکستانی وفد کے ارکان یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایرانی حکام کو معاہدے کی چند دفعات میں ترامیم یا تبدیلی کے لیے قائل کر سکیں۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کے دوران اس حوالے سے کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے یا معاہدے کی ڈیڈ لائن آگے بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث گیس پائپ لائن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اب ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے پر اتفاق خوش آیند ہے مگر ابھی اس معاہدے میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اگر یہ رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں تو گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہو گی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر خوش حال ملک بنایا جائے، اس مقصد کی خاطر وہ مختلف ممالک کے ساتھ باہمی تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے معاہدے کر رہے ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ بیان خوش کن ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بڑے امکانات ہیں اور پاکستان اس حجم کو بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھنے سے پاکستان میں معاشی اور صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور روز گار کے مواقع وسیع ہوں گے۔ آسیان اور یورپی ممالک کی مثال سب کے سامنے ہے جو باہمی تجارت کے ذریعے ترقی اور خوش حالی کے منازل تیزی سے طے کر رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ علاقائی ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھا کر وہ اپنے بہت سے معاشی مسائل پر قابو پا سکتا ہے۔ ذرایع کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایرانی صدر سے ملاقات کے موقع پر بعض سرحدی معاملات پر ایرانی قیادت کی پاکستان پر الزام تراشیوں اور دھمکیوں کو افسوسناک قرار دیا۔ ایرانی صدر نے پاکستانی وزیراعظم کو یقین دلایا کہ وہ اس کا نوٹس لیں گے۔ اس دورے کے موقع پر پاکستان اور ایران نے 8 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جس میں مجرموں اور سزا پوری کرنے والے قیدیوں کی حوالگی شامل ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے اس دورے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کا نیا باب کھولنا چاہتا ہے اور اپنے دوستانہ و برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان اسمگلنگ کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ سفارتی ذرایع کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے منڈیوں کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے مواقع موجود ہیں ضرورت ان سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھانے کی ہے۔ اگر پاکستان ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو بڑھا لیتا ہے تو اس کی رسائی یورپ اور وسط ایشیا تک بھی آسان ہو جائے گی۔ اس سے اس خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے در وا ہو جائیں گے۔
Load Next Story