سعودی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کا معاملہ

سعودی حکمرانوں کو بھی غریب پاکستانیوں کے دینی جذبات کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے نرمی کا سلوک کرنا چاہیے۔

سعودی حکمرانوں کو بھی غریب پاکستانیوں کے دینی جذبات کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے نرمی کا سلوک کرنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

اخباری اطلاع کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کو پیر کو مطلع کیا گیا کہ آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانی قیدی سعودی عرب کی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ وزارت امور خارجہ کے مطابق بہت سے قیدی اپنی سزا کی مدت پوری کر چکے ہیں مگر وہ سعودی حکام کی طرف سے ضابطۂ کار کی تاخیر کے باعث اپنے گھر واپس نہیں آ سکتے۔ یہ اطلاع وقفہ سوالات میں ایک سوال کے جواب میں تحریری طور پر ایوان میں پیش کی گئی۔ اس حوالے سے ایک ضمنی سوال کے جواب میں وزیر سائنس زاہد حامد نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے ایوان کو مطلع کیا کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام نے اپنے ویزے کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والے پاکستانیوں کے معاملات کو درست کرانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ ریاض اور جدہ کی مختلف جیلوں اور حراستی مراکز میں قید پاکستانیوں کی تعداد آٹھ لاکھ نو ہزار سات سو کے لگ بھگ ہے۔ پاکستانی قیدیوں کی حالت کے بارے میں پاکستان مسلم لیگ ن کی طاہرہ اورنگ زیب نے سوال کیا جس کے تفصیلی جواب میں بتایا گیا کہ قیدیوں کی تمام بنیادی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں اور جیلوں میں ان کی حالت بہتر ہے۔ ان کی خوراک رہائش اور ہیلتھ کیئر بھی معقول ہے۔


یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی سفارتخانے کو قیدیوں کی طرف سے بدسلوکی کی کوئی شکایت بھی موصول نہیں ہوئی۔ لیکن سزائیں مکمل کر لینے کے باوجود ان کی وطن واپسی میں تاخیر سعودی قوانین و ضوابط کی پیچیدگی کے باعث پیدا ہو رہی ہے۔ البتہ پاکستانی سفارتخانہ متعلقہ سعودی حکام کے ساتھ اس سلسلہ میں مسلسل رابطے میں ہے۔ سعودی عرب کو عالم اسلام میں سب سے مقدس ملک کا درجہ حاصل ہے کہ حرمین شریفین سعودی سرزمین پر واقع ہیں جن کی زیارت کے لیے دنیا بھر کے مسلمان صدیوں سے حجاز مقدس کی زیارت کو جاتے رہے ہیں۔

وہاں تلاش معاش کے لیے جانے کا سلسلہ تو محض چند عشرے پرانا ہے۔ لہٰذا سعودی حکمرانوں کو بھی غریب پاکستانیوں کے دینی جذبات کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے نرمی کا سلوک کرنا چاہیے۔ اسی سوال کے ایک دوسرے حصے میں ایوان کو بتایا گیا کہ ملائیشیا میں بھی تین سو سے زاید پاکستانی قید ہیں کیونکہ وہ بھی اپنے ویزے کی مدت قیام سے تجاوز کر گئے تھے۔ ان پاکستانی قیدیوں پر ایک ہزار سے تین ہزار رنگٹ کا جرمانہ ہے جو کہ ظاہر ہے نہ قیدی اپنی جیب سے ادا کر سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستان میں ان کے اہل خانہ اس قدر صاحب ثروت ہونگے کہ وہ یہاں سے ان کی مدد کر سکیں لہذا اس حوالے سے بھی حکومت پاکستان کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس انسانی مسئلہ کو سفارتی ذرایع سے حل کرانے کی کوشش کرے۔
Load Next Story