پاک ایران تعلقات میں اہم پیش رفت

پاک ایران تعلقات کے تاریخی نشیب وفراز ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں

پاک ایران تعلقات کے تاریخی نشیب وفراز ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں فوٹو : اے پی پی

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کا تاریخی پس منظر ہے۔ دونوں مسلمان ممالک مشترکہ روایات سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ مشترکہ رشتے ہمارے تعلقات کو مزید خصوصی اہمیت کا حامل بناتے ہیں جب کہ ایران کے روحانی پیشوا سید آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ پاکستان کے عوام بھی مجھے اسی طرح عزیز ہیں جس طرح ایران کے عوام اور میں خصوصی طور پر دعا گو ہوں کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچیں اور مضبوط ہوں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا امریکا پاکستان اور ایران کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے تہران میں سید آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کا تاریخی پس منظر ہے اور دونوں مسلمان ممالک مشترکہ مکاملے روایات اور مشترکہ رشتے ہمارے تعلقات کو مزید خصوصی اہمیت کا حامل بناتے ہیں ۔

پاک ایران تعلقات کے تاریخی نشیب وفراز ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں جس کی داستانوی حیثیت سیاست و سفارت کاری کے پر پیچ راستوں ، عارضی اختلافات ، سرحدی تنازعات اور رنجشوں سے زیادہ دلنشین اور تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران و پاکستان کے دو طرفہ تعلقات سامراجی اور استعماری طاقتوں کی آنکھوں میں ہمیشہ کانٹے کی طرح کھٹکتے رہے اور علاقے میں ان دو برادر ممالک کو ان کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت اور حساسیت کے حوالہ سے مختلف النوع سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا شکار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔

عالمی سیاسی ، عسکری اور اقتصادی مفادات کی مسابقت اور کشمکش کے باعث پاک ایران تعلقات ہمیشہ آزمائش و امتحان کی تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف رہے تاہم دونوں ملکوں کی بالغ نظر قیادت نے ان طاقتوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے اور کبھی بھی ایران اور پاکستان کے مابین بدگمانی اور رنجش نے سیاسی یا سفارت کاری کی سطح پر ہولناک ''اسٹینڈ آف '' کی مستقل صورت اختیار نہیں کی ، گزشتہ دنوں ایرانی سرحدی محافظین کے اغوا کا جو افسوس ناک تنازعہ پیدا ہوا اسے کمال تدبر سے حل کیا گیا اور باہمی تعاون سے اس مسئلے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا گیا جب کہ اس تنازعہ کی تہہ تک پہنچنے کے بعد ہی دوطرفہ احساس ہونے لگا کہ اس واردات میں بیرونی اور بعض خفیہ عناصر ملوث تھے ۔

پاک ایران گیس لائن منصوبہ بھی ان ہی طاقتوں نے متنازعہ بنایا ۔ یہی وہ تاریخی ، سماجی ، ادبی اور تہذیبی قربت اور برادرانہ رشتوں کی سدا بہار ڈائنا مکس ہے جسے پاک ایران تعلقات میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ یہ فکری ،سفارت کارانہ اور سیاسی و سماجی ہم آہنگی جب تک قائم و دائم رہے گی امریکا سمیت کوئی اسلام دشمن طاقت پاک ایران دوستی کو سبوتاژ نہیں کرسکے گی۔ خطے کی جذباتی و فکری جمالیات کا ایک سرا ایران و عجم کی تاریخ کا وہ نظریاتی، فلسفیانہ اور فکری دورانیہ ہے جس نے برصغیر کی تہذیب و سماج اور سیاست پر اپنے گہرے اثرات مرتسم کیے جب کہ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ ایران کو بطور ایک برادر ملک کے کبھی بھی اور کسی بھی آزمائش میں ہر ممکن اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت سے محروم نہ رکھا جائے ۔


اب جب کہ افغانستان سمیت خطے کی تہلکہ خیزحرکیات اور زبردست تبدیلیوں نے پاکستان کے لیے بھی کئی اعصاب شکن مسائل پیدا کیے جن میں نائن الیون کے بعد کی اندوہ ناک دہشت گردی کی صورتحال ہے ۔ چنانچہ پیدا شدہ حالات کے تناظر میں پاک ایران تعلقات کی نئی صورت گری کا وقت آگیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی، افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا، طالبان سے مذاکرات ، ایران سے بلوچستان اسمگل کی جانے والی پٹرولیم مصنوعات ، ایران بھارت تعلقات، امریکا کی ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے حکمت عملی میں دبائو اور تنائو کی موجودہ کیفیت سمیت عالمی تنازعات میں پاک ایران مشترکہ موقف کے آگے بڑھانے کی ہر ممکن کوشش بار آور ہونی چاہیے۔

صورتحال کے موجودہ آئینہ میں آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ اظہار یقینا قابل قدر ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے دورے سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ انھوں نے ملاقات کے دوران باہمی اور دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال اور خطے کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ۔ پاکستان کے حکمرانوں کو ان اندیشوں اور انکشافات پر غور و فکر کرنا چاہیے جس کی طرف ایران کے روحانی پیشوا خامنہ ای نے اشارہ کیا ہے ۔آئی این پی نے ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ''ارنا'' کے حوالے سے آیت اﷲ کا بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاک ایران و افغانستان سرحدوں پر کشیدگی بھی جاں بوجھ کر دشمنوں کی جانب سے پیدا کی گئی ہے۔

یہ دشمن کون ہے دنیا بھر کے اہل فکر و نظر اس سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایران کی طرح پاکستانی عوام بھی ہمیں عزیز ہیں ۔ان کی جانب سے گیس پائپ لائن منصوبے سمیت تمام منصوبوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی ایک اہم پیش رفت ہے ۔ ان کے اس دانشورانہ تجزیے سے عدم اتفاق کی کوئی وجہ بھی نہیں ہوسکتی کہ امریکا سمیت کئی ایسی ریاستیں ہیں جو پاکستان اور ایران کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں اور وہ دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھانا چاہتی ہیں ۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی کشیدگی دشمنوں کی سوچی سمجھی سازشوں کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا دورہ ایران اس اعتبار سے خوش آیند ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے مابین گیس منصوبہ پھر سے زندہ ہوگیا ہے اور کئی اقتصادی سماجی اور تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوںگے۔ دوسری طرف ایرانی قیادت کا یہ بلیغ عندیہ اور پیغام صرف پاکستان کے اہل اقتدار کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کی حساس اور آتش فشانی صورتحال کے پیش نظر پورے خطے کے ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنے کی ایک درد مندانہ کوشش ہے کہ وہ پاکستان سے مل کر اپنے باہمی تنازعات کا کوئی آبرومندانہ اور پائیدار حل تاش کریں۔

علاقے میں دو طرفہ تجارت، امن کی بحالی پر اتفاق رائے کے وسیلے ڈھونڈیں، اور خطے کے کروڑوں بد نصیب عوام کو دہشت گردی ،انتہا پسندی ،فرقہ واریت ،لسانیت ،تنگ نظرانہ قوم پرستی، عدم رواداری، عدم مساوات ،غربت و افلاس ، بیماری،بے اطمینانی ،بے خانمائی ، دردبدری اور خاک بسری کے عذابوں سے نجات دلائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکی و عالمی تحفظات کے حوالہ سے جنیوا میں چھ ملکی ٹیم سے مکالمے کا آغاز کرنے والا ہے،اسرائیل ایران کا محاصرہ چاہتا ہے، ایران ''ایٹمی امتیاز'' کی پالیسی کے خلاف ڈٹ جانے کو تیار ہے۔ادھر امریکی میڈیا کا اصرار ہے کہ ایران ''بریک آئوٹ'' کی دہلیز تک پہنچنے والا ہے ، یعنی اسے جلد سے جلد ایٹمی ہتھیار بنانے کی اہلیت حاصل ہوسکتی ہے۔

اوباما انتظامیہ کے فیصلے کے تحت امریکی فوجیں افغانستان سے بوریہ بستر سمیٹنے کی تیاریوں میں ہیں ۔ لہٰذا افغانستان میں صدارتی انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والا امن واستحکام ایران اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف ایران سے قربت اور دو طرفہ تعلقات کے جس مشن پر گامزن ہیں اس سفر کو ماہرانہ سفارت کاری، دو طرفہ خیر سگالی، سیاسی تدبر و حکمت ،دور اندیشی اور افہام و تفہیم سے رواں دواں رکھا جائے۔ پاکستان کو بلوچستان کی سرحدی پٹی پر امن کے استحکام کے لیے اپنے برادر ایران سے مشترکہ مفامانہ کوششوں کو بروئے کار لانے کے لیے مستقل مانیٹرنگ کا کوئی میکنزم وضع کرنے کی بھی ضرورت ہے اور ٹھوس کوششیں ہونی چاہئیں تاکہ کوئی طاقت پاک ایران تعلقات پر اثر انداز ہونے میں کبھی کامیاب نہ ہو۔
Load Next Story