نقصان کس نے پہنچایا
’بوکو حرام ‘ کی بنیاد2000 میں ایک نائیجرین انتہا پسند محمد یوسف نے رکھی تھی ۔۔۔
zahedahina@gmail.com
کبھی تاریک براعظم کے نام سے یاد کیے جانے والے براعظم افریقا کے ایک ملک میں ایک دریا بہتا رہتا ہے اور اپنے نام سے مشہور ہونے والے ملک نائیجریا کے صبح وشام کو دیکھتا جاتا ہے۔ پھولوں کی خوشبو، پھلو ںسے لدے ہوئے پیڑوں سے اٹھتی ہوئی مست کر دینے والی سگندھ، پرندوں کی چہکار، خونخوار جانوروں کی دھاڑ، قبائلیوں کے گیت اور ڈھول پر پڑنے والی پُرجوش تھاپ کے ساتھ ہی شہروں میں سر اٹھاتی ہوئی جدید زندگی۔ نائیجریا کی پچاس فیصد آبادی مسلمان ہے اور یہ آبادی ملک کے شمالی علاقے میں رہتی ہے۔ جنوب کے علاقوں میں جدید تعلیم اور جدید طرزِ زندگی اپنے پر پھیلا رہی ہے لیکن شمال میں رہنے والوں کی اکثریت کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ یہ سب کچھ ان کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا اسی لیے انھیں اس سے کوئی علاقہ نہیں رکھنا چاہیے۔
اٹھارویں صدی میں غلاموں کی تجارت پر انحصار کرنے والے نائجیریا پر برطانیہ نے1861 میں قبضہ کیا اور اسے بھی اپنی نوآبادیات کا حصہ بنا لیا۔ 99 برس بعد برطانیہ کو اپنی اس نو آبادی کے دستبردار ہونا پڑا اور یکم اکتوبر 1960 کو یہ ملک آزاد ہو گیا۔ آزاد ہونے کے بعد یہاں وہی کہانی دہرائی گئی جس سے ہم بھی دو چار ہوچکے ہیں، یعنی آزادی کے صرف 6 برس بعد فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا جس کے بعد 3 برس تک ایسی خانہ جنگی ہوئی کہ الامان الحفیظ۔ لگ بھگ 30 لاکھ افراد اس کی نذر ہوئے۔ اقتدار کی اس کشمکش میں کبھی مسلمان جرنیل برسر اقتدار آئے اور کبھی عیسائی۔ کبھی ا یک قتل کیا گیا اور کبھی دوسرا ذبح کیا گیا۔ یہ شیطانی چکر چلتا رہا، یہاں تک کہ1978 میں سیاسی جماعتیں قانونی قرار دی گئیں۔
انتخابات 1979 میں ہوئے جس کے نتیجے میں الحاجی مشیہو شاگاری کامیاب ہوئے اور سیاسی حکومت قائم ہوئی لیکن جرنیلوں کو یہ جمہوریت زیادہ دیر ہضم نہ ہوئی اور 1985 میں میجر جنرل محمد بُحاری نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، اس کے چند ہی مہینوں بعد میجر جنرل ابراہیم بابنگیدا برسر اقتدار آئے۔ وعدہ یہی تھا کہ جمہوریت کو بحال کریں گے لیکن ہم سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ایسے وعدے خانہ کعبہ میں بھی کیے جائیں تو کبھی وفا نہیں ہوتے جنرل ضیا الحق نے بھی پاکستانیوں سے ایک ایسا ہی وعدہ کیا تھا۔ دس برس بعد انتخابات ہوئے جنھیں مسترد کر دیا گیا۔ میجر جنرل ابراہیم کو مستعفی ہونا پڑا اور فوج نے ایک عبوری حکومت قائم کی پھر اسے بھی تحلیل کر دیا گیا۔
2011میں پہلی مرتبہ وہ صدارتی انتخابات ہوئے جنھیں بڑی حد تک آزادانہ اور شفاف قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود رشوت ستانی اور نااہلی اپنے عروج پر ہے۔ اس ملک کو 'افریقا کا جن' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ براعظم افریقا میں اس کی آبادی سب سے زیادہ ہے اور اس کا شمار دنیا کے ساتویںگنجان ترین ملکوں میں ہوتاہے۔ اس کی معیشت کے طاقتور ہونے کا اندازہ اس سے لگایئے کہ ابھی چند دنوں پہلے یہاں ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس ختم ہوا ہے جس میں دنیا کے اہم ملکوں نے شرکت کی۔
یہی وہ ملک ہے جہاں ہمارے صدر جناب ممنون حسین کو سرکاری دورہ کرنا تھا۔ یہ32 برس بعد کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا پہلا دورہ تھا۔ اس میں دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات کے استحکام اور تجارت میں اضافہ بنیادی موضوعات تھے لیکن21 اپریل سے چند دن پہلے صدر مملکت نے یہ دورہ اچانک ملتوی کر دیا۔ سرکاری طور پر اس کی وجوہ نہیں بیان کی گئیں لیکن پسِ پردہ یہی کہا جارہا ہے کہ ممنون صاحب نے اپنا دورہ بوکوحرام کی طرف سے لگ بھگ 300 لڑکیوں کے اغوا اور انھیں غلام بازار میں بیچنے کے اعلان کے بعد ملتوی کیا۔
رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ15 اپریل کو پیش آیا جب نائجیریا کے ایک انتہا پسند مسلمان گروہ نے ان لڑکیوں کو رات کے اندھیرے میں ان کے ہوسٹل سے اغوا کیا اور بسوں میں بھر کر قریب کے گھنے جنگلوں میں غائب ہوگئے۔ یہ لڑکیاں جن کی عمریں بارہ سے سولہ برس تھیں، نائجیریا کی غریب ترین آبادی کی بیٹیاں ہیں۔ یہ اور ان کے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی غربت سے لڑنے کے لیے ان کے پاس تعلیم کے سوا کوئی ہتھیار نہیں۔ وہ استاد، ڈاکٹر اور دندان ساز بننا چاہتی تھیں اور یہی ان کا سب سے بڑا جرم تھا۔
'بوکو حرام ' کی بنیاد2000 میں ایک نائیجرین انتہا پسند محمد یوسف نے رکھی تھی۔ موصوف کا کہنا تھا کہ جدید مغربی تعلیم حرام ہے اور اسے حاصل کرنے والے واجب القتل ہیں۔ اس 'جرم' کا ارتکاب کرنے والے سیکڑوں نوجوان طلبہ ذبح کیے گئے۔ محمد یوسف گرفتار ہوا اور پھر اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کے چند برس بعد 'بوکو حرام' کے بکھرے ہوئے لوگ ابو بکر شیخائو کے گرد جمع ہوئے اور اب یہی شخص ایک ایسے اسلام کو پھیلانے کا دعویدار ہے جس سے دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت آگاہ نہیں۔ وہ نائیجریا میں دہشت کی علامت بن چکا ہے۔
قتل وغارت گری اس کا مشغلہ ہے۔ 2014کے ابتدائی تین مہینوں میں اس کا مسلح گروہ1500 سے زیادہ بے گناہ شہریوں کو قتل کر چکا ہے۔ ملک کے صدر گڈ لک جونا تھن اس مسلح اور متشدد تنظیم سے خوف کھاتے ہیں اور اس کے خلاف سخت گیر رویہ اختیار کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ بوکو حرام کے دہشت گرد ان کی انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ، پولیس اور افواج کے اندر موجود ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں ایک ایسا طوفان اٹھے گا جو ان کی حکومت کو تنکے کی طرح بہا لے جائے گا۔
صدر گڈ لک کا یہی خوف اور ان کی انتظامیہ اور فوج اور پولیس کی نااہلی ہے کہ تقریباً ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود اس مقامی انتہا پسند گروہ کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنا بڑا سانحہ رونما ہونے کے باوجود تین ہفتے تک صدر گڈ لک اس بھیانک واقعے کی پردہ پوشی کرتے رہے اور جب کسی نے ان سے کوئی سوال کیا تو وہ یہی کہتے رہے کہ حالات ہمارے قابو میں ہیں اور ہم تمام لڑکیوں کو وحشیوں کے چنگل سے آزاد کرالیں گے۔
حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ان لڑکیوں میں سے کچھ کے باپ اور بھائی سرکاری امداد کی طرف سے نا امید ہو کر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی تلاش میں خود ہی اس گھنے جنگل میں گھس گئے جہاں ان بسوں اور ٹرکوں کو جاتے ہوئے دیکھا گیا تھاجن میں یہ لڑکیاں کلاشنکوف کی نوک پر لے جائی گئیں تھیں۔ لیکن وہ بے نیل ومرام واپس آئے۔ یوں بھی ان کے پاس تیر کمان کے سوا کوئی اسلحہ نہ تھا کہ اگر جدید ترین اسلحہ سے لیس اغوا کرنے والے ان کے سامنے آجاتے تو وہ ان کا بال بھی بیکا نہ کر سکتے۔
تین ہفتے بعد ان 300 لڑکیوں کے اغوا کی خبر دنیا کو بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیخائو کی57 منٹ کی اس ویڈیو سے معلوم ہوئی کی جس میں وہ اور ان کے محافظین راکٹ لانچر سے کلاشنکوف تک تمام خوفناک اسلحے سے مسلح ہیں اور مسکرا رہے ہیں۔ انھوں نے اغوا ہونے والی بچیوں کے والدین، حکومت اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ مال غنیمت ہیں۔ ان میں 9 سے 12 برس کی بچیوں کا وہ اپنے گوریلوں کے ساتھ نکاح پڑھوا دیں گے اور باقیوں کو غلام بازار میں بیچ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے لیے جدید تعلیم حرام ہے۔ انھیں گھر میں بیٹھنا چاہیے اور بچے پیدا کرنے چاہئیں۔
57 منٹ کی اس ویڈیو نے دنیا میں کہرام مچا دیا۔ ہماری ملالہ یوسف زئی جسے تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں گولی ماری گئی تھی، لیکن اس کی خوش بختی کہ وہ بچ گئی، ملالہ نے فوراً اعلان کیا کہ اغوا ہونے والی یہ افریقی لڑکیاں اس کی بہنیں ہیں اور وہ ان کے لیے غم زدہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ بوکو حرام سے تعلق رکھنے والے اسلام کے نام پر جو کچھ بھی کر رہے ہیں، وہ ہمارے دین کو بدنام کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ادھر امریکی صدر اوباما کی بیگم مشال اوباما میدان میں آگئیں اور انھوں نے ٹوئیٹر پر یہ پیغام دیا کہ 'ہماری بیٹیوں کو واپس لائو'۔ اس کے بعد سے ساری دنیا میں ایک کہرام مچا ہوا ہے۔
شروع میں صدر گڈلگ نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ ہمیں بدنام کرنے سازش ہے بیشتر لڑکیاں واپس آچکی ہیں لیکن جب ان کی انتظامیہ واپس آنے والی ایک بھی لڑکی کو پیش نہ کرسکی تو انھیں اعتراف کرنا پڑا کہ276 لڑکیاں اب بھی قید میں ہیں۔ لگ بھگ 52 لڑکیا ں خود ہی فرار ہوئیں جن میں سے دو سانپ کے کاٹنے سے ختم ہوئیں اور چند اپنے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔
بوکو حرام کا لشکر اسی طرح تیار کیا جاتا ہے جیسے ہمارے یہاں نادار بچے پیٹ بھر کرکھانے، دو جوڑے کپڑوں اور بہت معمولی رقم کے عوض کسی لشکر میں بھرتی ہوجاتے ہیں اور پھر اپنے 'رہنما' کی ہدایت پر غیرانسانی کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ شیخائو صاحب کا دعویٰ ہے کہ خدا ان سے براہِ راست کلام کرتا ہے اور وہ اسی کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔ ناخواندہ اور ضعیف الاعتقاد بچوں یا بڑوں کے لیے اس سے بڑی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں جو خدا سے گفتگو کرتا ہے۔ یہ لوگ جوشِ جذبات سے بے قابو ہو کر 'اللہ اکبر' کے نعرے لگاتے ہوئے وہ کچھ کر گزرتے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ (جاری ہے)
اٹھارویں صدی میں غلاموں کی تجارت پر انحصار کرنے والے نائجیریا پر برطانیہ نے1861 میں قبضہ کیا اور اسے بھی اپنی نوآبادیات کا حصہ بنا لیا۔ 99 برس بعد برطانیہ کو اپنی اس نو آبادی کے دستبردار ہونا پڑا اور یکم اکتوبر 1960 کو یہ ملک آزاد ہو گیا۔ آزاد ہونے کے بعد یہاں وہی کہانی دہرائی گئی جس سے ہم بھی دو چار ہوچکے ہیں، یعنی آزادی کے صرف 6 برس بعد فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا جس کے بعد 3 برس تک ایسی خانہ جنگی ہوئی کہ الامان الحفیظ۔ لگ بھگ 30 لاکھ افراد اس کی نذر ہوئے۔ اقتدار کی اس کشمکش میں کبھی مسلمان جرنیل برسر اقتدار آئے اور کبھی عیسائی۔ کبھی ا یک قتل کیا گیا اور کبھی دوسرا ذبح کیا گیا۔ یہ شیطانی چکر چلتا رہا، یہاں تک کہ1978 میں سیاسی جماعتیں قانونی قرار دی گئیں۔
انتخابات 1979 میں ہوئے جس کے نتیجے میں الحاجی مشیہو شاگاری کامیاب ہوئے اور سیاسی حکومت قائم ہوئی لیکن جرنیلوں کو یہ جمہوریت زیادہ دیر ہضم نہ ہوئی اور 1985 میں میجر جنرل محمد بُحاری نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، اس کے چند ہی مہینوں بعد میجر جنرل ابراہیم بابنگیدا برسر اقتدار آئے۔ وعدہ یہی تھا کہ جمہوریت کو بحال کریں گے لیکن ہم سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ایسے وعدے خانہ کعبہ میں بھی کیے جائیں تو کبھی وفا نہیں ہوتے جنرل ضیا الحق نے بھی پاکستانیوں سے ایک ایسا ہی وعدہ کیا تھا۔ دس برس بعد انتخابات ہوئے جنھیں مسترد کر دیا گیا۔ میجر جنرل ابراہیم کو مستعفی ہونا پڑا اور فوج نے ایک عبوری حکومت قائم کی پھر اسے بھی تحلیل کر دیا گیا۔
2011میں پہلی مرتبہ وہ صدارتی انتخابات ہوئے جنھیں بڑی حد تک آزادانہ اور شفاف قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود رشوت ستانی اور نااہلی اپنے عروج پر ہے۔ اس ملک کو 'افریقا کا جن' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ براعظم افریقا میں اس کی آبادی سب سے زیادہ ہے اور اس کا شمار دنیا کے ساتویںگنجان ترین ملکوں میں ہوتاہے۔ اس کی معیشت کے طاقتور ہونے کا اندازہ اس سے لگایئے کہ ابھی چند دنوں پہلے یہاں ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس ختم ہوا ہے جس میں دنیا کے اہم ملکوں نے شرکت کی۔
یہی وہ ملک ہے جہاں ہمارے صدر جناب ممنون حسین کو سرکاری دورہ کرنا تھا۔ یہ32 برس بعد کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا پہلا دورہ تھا۔ اس میں دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات کے استحکام اور تجارت میں اضافہ بنیادی موضوعات تھے لیکن21 اپریل سے چند دن پہلے صدر مملکت نے یہ دورہ اچانک ملتوی کر دیا۔ سرکاری طور پر اس کی وجوہ نہیں بیان کی گئیں لیکن پسِ پردہ یہی کہا جارہا ہے کہ ممنون صاحب نے اپنا دورہ بوکوحرام کی طرف سے لگ بھگ 300 لڑکیوں کے اغوا اور انھیں غلام بازار میں بیچنے کے اعلان کے بعد ملتوی کیا۔
رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ15 اپریل کو پیش آیا جب نائجیریا کے ایک انتہا پسند مسلمان گروہ نے ان لڑکیوں کو رات کے اندھیرے میں ان کے ہوسٹل سے اغوا کیا اور بسوں میں بھر کر قریب کے گھنے جنگلوں میں غائب ہوگئے۔ یہ لڑکیاں جن کی عمریں بارہ سے سولہ برس تھیں، نائجیریا کی غریب ترین آبادی کی بیٹیاں ہیں۔ یہ اور ان کے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی غربت سے لڑنے کے لیے ان کے پاس تعلیم کے سوا کوئی ہتھیار نہیں۔ وہ استاد، ڈاکٹر اور دندان ساز بننا چاہتی تھیں اور یہی ان کا سب سے بڑا جرم تھا۔
'بوکو حرام ' کی بنیاد2000 میں ایک نائیجرین انتہا پسند محمد یوسف نے رکھی تھی۔ موصوف کا کہنا تھا کہ جدید مغربی تعلیم حرام ہے اور اسے حاصل کرنے والے واجب القتل ہیں۔ اس 'جرم' کا ارتکاب کرنے والے سیکڑوں نوجوان طلبہ ذبح کیے گئے۔ محمد یوسف گرفتار ہوا اور پھر اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کے چند برس بعد 'بوکو حرام' کے بکھرے ہوئے لوگ ابو بکر شیخائو کے گرد جمع ہوئے اور اب یہی شخص ایک ایسے اسلام کو پھیلانے کا دعویدار ہے جس سے دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت آگاہ نہیں۔ وہ نائیجریا میں دہشت کی علامت بن چکا ہے۔
قتل وغارت گری اس کا مشغلہ ہے۔ 2014کے ابتدائی تین مہینوں میں اس کا مسلح گروہ1500 سے زیادہ بے گناہ شہریوں کو قتل کر چکا ہے۔ ملک کے صدر گڈ لک جونا تھن اس مسلح اور متشدد تنظیم سے خوف کھاتے ہیں اور اس کے خلاف سخت گیر رویہ اختیار کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ بوکو حرام کے دہشت گرد ان کی انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ، پولیس اور افواج کے اندر موجود ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں ایک ایسا طوفان اٹھے گا جو ان کی حکومت کو تنکے کی طرح بہا لے جائے گا۔
صدر گڈ لک کا یہی خوف اور ان کی انتظامیہ اور فوج اور پولیس کی نااہلی ہے کہ تقریباً ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود اس مقامی انتہا پسند گروہ کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنا بڑا سانحہ رونما ہونے کے باوجود تین ہفتے تک صدر گڈ لک اس بھیانک واقعے کی پردہ پوشی کرتے رہے اور جب کسی نے ان سے کوئی سوال کیا تو وہ یہی کہتے رہے کہ حالات ہمارے قابو میں ہیں اور ہم تمام لڑکیوں کو وحشیوں کے چنگل سے آزاد کرالیں گے۔
حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ان لڑکیوں میں سے کچھ کے باپ اور بھائی سرکاری امداد کی طرف سے نا امید ہو کر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی تلاش میں خود ہی اس گھنے جنگل میں گھس گئے جہاں ان بسوں اور ٹرکوں کو جاتے ہوئے دیکھا گیا تھاجن میں یہ لڑکیاں کلاشنکوف کی نوک پر لے جائی گئیں تھیں۔ لیکن وہ بے نیل ومرام واپس آئے۔ یوں بھی ان کے پاس تیر کمان کے سوا کوئی اسلحہ نہ تھا کہ اگر جدید ترین اسلحہ سے لیس اغوا کرنے والے ان کے سامنے آجاتے تو وہ ان کا بال بھی بیکا نہ کر سکتے۔
تین ہفتے بعد ان 300 لڑکیوں کے اغوا کی خبر دنیا کو بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیخائو کی57 منٹ کی اس ویڈیو سے معلوم ہوئی کی جس میں وہ اور ان کے محافظین راکٹ لانچر سے کلاشنکوف تک تمام خوفناک اسلحے سے مسلح ہیں اور مسکرا رہے ہیں۔ انھوں نے اغوا ہونے والی بچیوں کے والدین، حکومت اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ مال غنیمت ہیں۔ ان میں 9 سے 12 برس کی بچیوں کا وہ اپنے گوریلوں کے ساتھ نکاح پڑھوا دیں گے اور باقیوں کو غلام بازار میں بیچ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے لیے جدید تعلیم حرام ہے۔ انھیں گھر میں بیٹھنا چاہیے اور بچے پیدا کرنے چاہئیں۔
57 منٹ کی اس ویڈیو نے دنیا میں کہرام مچا دیا۔ ہماری ملالہ یوسف زئی جسے تعلیم حاصل کرنے کے جرم میں گولی ماری گئی تھی، لیکن اس کی خوش بختی کہ وہ بچ گئی، ملالہ نے فوراً اعلان کیا کہ اغوا ہونے والی یہ افریقی لڑکیاں اس کی بہنیں ہیں اور وہ ان کے لیے غم زدہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ بوکو حرام سے تعلق رکھنے والے اسلام کے نام پر جو کچھ بھی کر رہے ہیں، وہ ہمارے دین کو بدنام کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ادھر امریکی صدر اوباما کی بیگم مشال اوباما میدان میں آگئیں اور انھوں نے ٹوئیٹر پر یہ پیغام دیا کہ 'ہماری بیٹیوں کو واپس لائو'۔ اس کے بعد سے ساری دنیا میں ایک کہرام مچا ہوا ہے۔
شروع میں صدر گڈلگ نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ ہمیں بدنام کرنے سازش ہے بیشتر لڑکیاں واپس آچکی ہیں لیکن جب ان کی انتظامیہ واپس آنے والی ایک بھی لڑکی کو پیش نہ کرسکی تو انھیں اعتراف کرنا پڑا کہ276 لڑکیاں اب بھی قید میں ہیں۔ لگ بھگ 52 لڑکیا ں خود ہی فرار ہوئیں جن میں سے دو سانپ کے کاٹنے سے ختم ہوئیں اور چند اپنے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔
بوکو حرام کا لشکر اسی طرح تیار کیا جاتا ہے جیسے ہمارے یہاں نادار بچے پیٹ بھر کرکھانے، دو جوڑے کپڑوں اور بہت معمولی رقم کے عوض کسی لشکر میں بھرتی ہوجاتے ہیں اور پھر اپنے 'رہنما' کی ہدایت پر غیرانسانی کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ شیخائو صاحب کا دعویٰ ہے کہ خدا ان سے براہِ راست کلام کرتا ہے اور وہ اسی کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔ ناخواندہ اور ضعیف الاعتقاد بچوں یا بڑوں کے لیے اس سے بڑی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں جو خدا سے گفتگو کرتا ہے۔ یہ لوگ جوشِ جذبات سے بے قابو ہو کر 'اللہ اکبر' کے نعرے لگاتے ہوئے وہ کچھ کر گزرتے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ (جاری ہے)