چند مزید یادیں
تاریخ کا مسئلہ ہے ٹھیک سے یاد نہیں آرہا غالباً محمد بن قاسم کو اسی گورنر نے راجہ داہر کی سرکوبی کیلئے بھیجا تھا ۔۔۔
Abdulqhasan@hotmail.com
گزشتہ کالم میں سیاسی رہنمائوں کی سنگدلی کا ایک آدھ نمونہ پیش کیا تھا اس وعدے کے ساتھ کے چند ایسی مزید جھلکیاں بھی پیش کروں گا اور مولانا ابو الکلام آزاد کا یہ ضرب المثل فقرہ زندہ رہے گا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ مولانا کے سامنے صرف ہندوستان کی تاریخ ہی نہیں تھی اور اس ملک کے لیڈر ہی سنگدل نہیں تھے ان کے سامنے ایک طویل تاریخ تھی ایک ایسی تاریخ جسے امام الہند مولانا کا باکمال حافظہ ملا تھا جس میں اتنا کچھ محفوظ تھا کہ انتقال کے وقت وہ بار بار اس حافظے میں محفوظ تاریخی خزانوں کا ذکر کرتے رہے جو اب ان کے ساتھ ہی گم ہو جائیں گے۔
مولانا کے سیکریٹری نے مولانا کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ بہر کیف مولانا کا ذکر تو ختم ہی نہیں ہو سکتا چلیے ان کے ساتھ ایک نادر ملاقات کا حوالہ دے دوں۔ مولانا کانگریس کے صدر تھے اور پنجاب میں ایک بڑا سیاسی مسئلہ پیش تھا جس کے لیے مولانا کو لاہور آنا پڑا۔ مولانا کی نفاست طبع بذات خود ایک موضوع ہے اور ان کا اسٹاف پہلے یہ تسلی کر لیتا تھا کہ مولانا کی رہائش کے لیے جگہ کمرہ اور غسل خانہ موزوں ہو گا یا نہیں۔
مولانا کوینز روڈ پر پہاڑی کے سامنے ایک مکان میں ٹھہرے۔ اس کی بالکل دوسری طرف الشمس نام کی کوٹھی تھی ملک خضر حیات ٹوانہ کی۔ اس طرح سیاسی گفتگو آسان ہو گئی۔ مولانا سے ملنے والے یہاں حاضری دیا کرتے تھے۔ ہم لوگ جو طالب علم تھے ہم نے مولانا سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ وقت ملنا بہت مشکل تھا لیکن اطلاع کی گئی کہ کچھ طلبہ ملنا چاہتے ہیں تو فوراً وقت مل گیا۔ ہم لوگوں نے بات تو کیا کرنی تھی بس زیارت مقصود تھی۔ مولانا نے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرا اور ہم نے اجازت طلب کی۔
مولانا کا ذکر تو ان کے مذکورہ مشہور قول کی وجہ سے یاد آگیا اصل سیاسی واقعہ یہ تھا اور یہ بھی اتفاق سے بھٹو صاحب کے بارے میں ہے۔ ان کی سیاست کا آغاز تھا اور انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلاشبہ ان کا نام تو بہت تھا لیکن اس وقت کے صوبہ سرحد میں ان کا سیاسی کام بہت کم تھا چنانچہ انھوں نے انتظامیہ کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا ڈویژن کے کمشنر وجیہہ الدین احمد ہیں جو مولانا صلاح الدین احمد کے بیٹے ہیں اور معروف سیاستدان ملک غلام جیلانی کے برادر نسبتی۔
عاصمہ جیلانی کے حقیقی ماموں بھٹو صاحب نے ملک غلام جیلانی سے فرمائش کی کہ وہ اپنے برادر نسبتی سے کہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کے جلسے پر زبردست لاٹھی چارج کریں چند کارکنوں کو زخمی کر دیں اور کسی طرح حکومتی کارروائی کی تشہیر بھی کرائیں۔ وجیہہ الدین جو بعد میں پریس ٹرسٹ کے چیئرمین بھی بن گئے اور بطور ایڈیٹر امروز میرے افسر بھی موصوف ایک کمینہ مزاج شخص تھے انھوں نے بے دردی سے کارروائی کی اور بھٹو صاحب کو خوش کر دیا۔ یہ سب بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لیڈر اپنے اوپر جان چھڑکنے والے کارکنوں کے ساتھ بھی کس بے رحمی سے پیش آتے ہیں۔ بات وہی کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔
ہمارے ایک لیڈر حجاج بن یوسف بھی ایسے ہی تھے بلکہ ان کو اس اعلان کے ساتھ بھیجا گیا کہ یہ کوفے والوں کی سزا ہے۔ وہ زبردست مقرر تھے۔ انھوں نے مسجد میں خطاب کرتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے بزرگوں سے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سروں کی فصل پک چکی ہے اور اس کی کاشت کا وقت آ چکا ہے۔ گورنر حجاج کی یہ تقریر تاریخ میں بہت مشہور ہوئی۔ اس عرب سردار کے سینے میں بھی دل نہیں تھا پتھر تھا جس نے بڑے بڑے بزرگوں کے سر کچل دیے۔
تاریخ کا مسئلہ ہے ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا غالباً محمد بن قاسم کو بھی اسی گورنر نے راجہ داہر کی سرکوبی کے لیے بھیجا تھا جس نے سرزمین ہند کی تاریخ ہی بدل دی۔ سیاسی لیڈروں اور حکمرانوں کی ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن میں عام آدمی کو ختم کر دیا گیا صرف طاقت والے بچ کر رہ گئے اور کیا آج ہمارے ہاں ایسا ہی نہیں ہوتا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کمزور پاکستانیوں کی جان و مال اور عزت تک محفوظ نہیں ہے لیکن بڑے لوگوں کی سیکیورٹی بھی ایک افسانہ ہے اور ان کے محافظ ہزاروں میں ہیں اور اخباروں میں یہ شکوہ سامنے آتا رہتا ہے کہ سیکیورٹی کی تعداد کم ہے اسے بڑھایا جائے ورنہ کوئی ان کو قتل کر دے گا۔
غور فرمائیں کہ عام آدمی کے لیے پاسپورٹ کا حصول ایک مسئلہ ہے لیکن ایسے پاکستانی بھی موجود ہیں جو پاسپورٹ بنوانا چاہیں تو پورا پاسپورٹ آفس ہی ان کے دولت کدے پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر مجھے حیرت نہیں ہوئی بلکہ یہ خبر پڑھ کر میں ہکا بکا رہ گیا کہ پاسپورٹ آفس کے افسروں وغیرہ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے یہ تو ہمارے ہاں نا ممکن ہے مگر یہ ممکن ہو گیا اور اس کی خبر بھی چھپ گئی۔ پاسپورٹ والا یہ کارنامہ ایک سابق پاکستانی ہائی کمشنر کا تھا جس نے پاسپورٹ والے الطاف حسین صاحب کی عملداری میں باقی عمر بسر کرنی ہے۔ بہرکیف حکومت پاکستان کی یہ گستاخی ایم کیو ایم کے لیے قابل برداشت نہیں تھی چنانچہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر پاسپورٹ جاری نہ ہوا تو کراچی بند کرا دیں گے۔
ایم کیو ایم والے جو بھی کریں ان کی مرضی انھیں روکنے والا کون ہے لیکن مہربانی کر کے وہ ہمیں ڈرایا نہ کریں۔ پہلے ہی حالات کی سنگینی کیا کم ہے جس کی وجہ سے پوری قوم ہر وقت خوف و ہراس میں رہتی ہے اس پر ایم کیو ایم والے بھی اگر ڈرانا شروع کر دیں تو ہم کہاں جائیں گے۔ بھارت جانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی کراچی ویسے ہی بند ہو گا۔ باقی جو رہ جائے گا اس پر بھی خوف کے سائے مسلط رہیں گے یا پھر شیخ الاسلام کی دھمکیاں۔ یہ ایک نیا لیڈر آیا ہے جو ایک یورپی ملک میں مزے کرتا ہے لیکن تفریح طبع کے لیے سال میں ایک آدھ بار موسم بہتر ہونے پر ادھر پاکستان بھی آ نکلتا ہے۔ یہ ملک تو اب بے وطن اور کھلنڈرے لیڈروں کی تفریح گاہ بن گیا کہ چھٹیاں گزارنے اور مال بنانے کے لیے یہاں کا پھیرا بھی لگا لیں۔ اللہ ہمارا حامی و مدد گار ہے۔
مولانا کے سیکریٹری نے مولانا کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ بہر کیف مولانا کا ذکر تو ختم ہی نہیں ہو سکتا چلیے ان کے ساتھ ایک نادر ملاقات کا حوالہ دے دوں۔ مولانا کانگریس کے صدر تھے اور پنجاب میں ایک بڑا سیاسی مسئلہ پیش تھا جس کے لیے مولانا کو لاہور آنا پڑا۔ مولانا کی نفاست طبع بذات خود ایک موضوع ہے اور ان کا اسٹاف پہلے یہ تسلی کر لیتا تھا کہ مولانا کی رہائش کے لیے جگہ کمرہ اور غسل خانہ موزوں ہو گا یا نہیں۔
مولانا کوینز روڈ پر پہاڑی کے سامنے ایک مکان میں ٹھہرے۔ اس کی بالکل دوسری طرف الشمس نام کی کوٹھی تھی ملک خضر حیات ٹوانہ کی۔ اس طرح سیاسی گفتگو آسان ہو گئی۔ مولانا سے ملنے والے یہاں حاضری دیا کرتے تھے۔ ہم لوگ جو طالب علم تھے ہم نے مولانا سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ وقت ملنا بہت مشکل تھا لیکن اطلاع کی گئی کہ کچھ طلبہ ملنا چاہتے ہیں تو فوراً وقت مل گیا۔ ہم لوگوں نے بات تو کیا کرنی تھی بس زیارت مقصود تھی۔ مولانا نے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرا اور ہم نے اجازت طلب کی۔
مولانا کا ذکر تو ان کے مذکورہ مشہور قول کی وجہ سے یاد آگیا اصل سیاسی واقعہ یہ تھا اور یہ بھی اتفاق سے بھٹو صاحب کے بارے میں ہے۔ ان کی سیاست کا آغاز تھا اور انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلاشبہ ان کا نام تو بہت تھا لیکن اس وقت کے صوبہ سرحد میں ان کا سیاسی کام بہت کم تھا چنانچہ انھوں نے انتظامیہ کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا ڈویژن کے کمشنر وجیہہ الدین احمد ہیں جو مولانا صلاح الدین احمد کے بیٹے ہیں اور معروف سیاستدان ملک غلام جیلانی کے برادر نسبتی۔
عاصمہ جیلانی کے حقیقی ماموں بھٹو صاحب نے ملک غلام جیلانی سے فرمائش کی کہ وہ اپنے برادر نسبتی سے کہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کے جلسے پر زبردست لاٹھی چارج کریں چند کارکنوں کو زخمی کر دیں اور کسی طرح حکومتی کارروائی کی تشہیر بھی کرائیں۔ وجیہہ الدین جو بعد میں پریس ٹرسٹ کے چیئرمین بھی بن گئے اور بطور ایڈیٹر امروز میرے افسر بھی موصوف ایک کمینہ مزاج شخص تھے انھوں نے بے دردی سے کارروائی کی اور بھٹو صاحب کو خوش کر دیا۔ یہ سب بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لیڈر اپنے اوپر جان چھڑکنے والے کارکنوں کے ساتھ بھی کس بے رحمی سے پیش آتے ہیں۔ بات وہی کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔
ہمارے ایک لیڈر حجاج بن یوسف بھی ایسے ہی تھے بلکہ ان کو اس اعلان کے ساتھ بھیجا گیا کہ یہ کوفے والوں کی سزا ہے۔ وہ زبردست مقرر تھے۔ انھوں نے مسجد میں خطاب کرتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے بزرگوں سے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سروں کی فصل پک چکی ہے اور اس کی کاشت کا وقت آ چکا ہے۔ گورنر حجاج کی یہ تقریر تاریخ میں بہت مشہور ہوئی۔ اس عرب سردار کے سینے میں بھی دل نہیں تھا پتھر تھا جس نے بڑے بڑے بزرگوں کے سر کچل دیے۔
تاریخ کا مسئلہ ہے ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا غالباً محمد بن قاسم کو بھی اسی گورنر نے راجہ داہر کی سرکوبی کے لیے بھیجا تھا جس نے سرزمین ہند کی تاریخ ہی بدل دی۔ سیاسی لیڈروں اور حکمرانوں کی ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن میں عام آدمی کو ختم کر دیا گیا صرف طاقت والے بچ کر رہ گئے اور کیا آج ہمارے ہاں ایسا ہی نہیں ہوتا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کمزور پاکستانیوں کی جان و مال اور عزت تک محفوظ نہیں ہے لیکن بڑے لوگوں کی سیکیورٹی بھی ایک افسانہ ہے اور ان کے محافظ ہزاروں میں ہیں اور اخباروں میں یہ شکوہ سامنے آتا رہتا ہے کہ سیکیورٹی کی تعداد کم ہے اسے بڑھایا جائے ورنہ کوئی ان کو قتل کر دے گا۔
غور فرمائیں کہ عام آدمی کے لیے پاسپورٹ کا حصول ایک مسئلہ ہے لیکن ایسے پاکستانی بھی موجود ہیں جو پاسپورٹ بنوانا چاہیں تو پورا پاسپورٹ آفس ہی ان کے دولت کدے پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر مجھے حیرت نہیں ہوئی بلکہ یہ خبر پڑھ کر میں ہکا بکا رہ گیا کہ پاسپورٹ آفس کے افسروں وغیرہ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے یہ تو ہمارے ہاں نا ممکن ہے مگر یہ ممکن ہو گیا اور اس کی خبر بھی چھپ گئی۔ پاسپورٹ والا یہ کارنامہ ایک سابق پاکستانی ہائی کمشنر کا تھا جس نے پاسپورٹ والے الطاف حسین صاحب کی عملداری میں باقی عمر بسر کرنی ہے۔ بہرکیف حکومت پاکستان کی یہ گستاخی ایم کیو ایم کے لیے قابل برداشت نہیں تھی چنانچہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر پاسپورٹ جاری نہ ہوا تو کراچی بند کرا دیں گے۔
ایم کیو ایم والے جو بھی کریں ان کی مرضی انھیں روکنے والا کون ہے لیکن مہربانی کر کے وہ ہمیں ڈرایا نہ کریں۔ پہلے ہی حالات کی سنگینی کیا کم ہے جس کی وجہ سے پوری قوم ہر وقت خوف و ہراس میں رہتی ہے اس پر ایم کیو ایم والے بھی اگر ڈرانا شروع کر دیں تو ہم کہاں جائیں گے۔ بھارت جانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی کراچی ویسے ہی بند ہو گا۔ باقی جو رہ جائے گا اس پر بھی خوف کے سائے مسلط رہیں گے یا پھر شیخ الاسلام کی دھمکیاں۔ یہ ایک نیا لیڈر آیا ہے جو ایک یورپی ملک میں مزے کرتا ہے لیکن تفریح طبع کے لیے سال میں ایک آدھ بار موسم بہتر ہونے پر ادھر پاکستان بھی آ نکلتا ہے۔ یہ ملک تو اب بے وطن اور کھلنڈرے لیڈروں کی تفریح گاہ بن گیا کہ چھٹیاں گزارنے اور مال بنانے کے لیے یہاں کا پھیرا بھی لگا لیں۔ اللہ ہمارا حامی و مدد گار ہے۔