دوآنسو راشد رحمن
جب افتخارچوہدری دوبارہ چیف جسٹس کےعہدے پرفائز ہوئے تووکلا تحریک میں شامل بڑے بڑے وکلاء نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا
tauceeph@gmail.com
اگرچہ انسانی حقوق کا عالمی چارٹر اقوام متحدہ نے 1948میں منظور کیا ، جس کے بعد پاکستان میں نافذ ہونے والے تمام دستاویزمیں انسانی حقوق کا چارٹر شامل ہوا مگر انسانی حقوق کے بارے میں آگہی کی تحریک گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں فعال ہوئی۔ یوں انسانی حقوق کمیشن HRCP قائم ہوا ، جسٹس ریٹائرڈ دراب پٹیل ، عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمن ، عزیزصدیقی نثارعثمانی،حسین نقی وغیرہ نے HRCP کے پلیٹ فارم کے ذریعے اس تحریک کے تصورکو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مگر HRCP کو عوامی سطح تک لے جانے، غریبوں کے مسائل حل کرنے میں ملتان کے ایک کارکن راشد رحمن کا کردارہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گا۔
راشد رحمن 13اکتوبر 1958کو ملتان میں پیدا ہوئے ان کے بزرگ ہندوستا ن کے علاقے گڑگائوں کے تحصیل پلول کے گائوں حسن پور سے 1947میں ہجرت کرکے ملتان اور اس کی تحصیل شجاع آباد میں آباد ہوئے ۔ اس خاندان نے 1947کے فسادات میں سخت مشکلات برداشت کی تھی، راشد رحمن کے دادا اپنے سیکڑوں قریبی رشتے داروں سمیت ہندو مسلم فسادات میں شہید ہوگئے تھے ۔ راشد رحمن کے والد اشفاق احمد خان اپنے خاندان میں ز ندہ بچ جانے والے واحد نوجوان تھے ۔ راشد رحمن کے والد اشفاق احمد خان نے 60اور 70کی دہائی میں ملتان میں مزدوروں اور کسانوں کی تحریک کو منظم کرنے میں فعال کردار ادا کیا تھا وہ نیشنل عوامی پارٹی کی بھاشانی گروپ کے اہم رہنمائوں میں سے تھے ۔
اشفاق احمد خان کو اللہ وسایا ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی حالات کار کی تبدیلی کی جدوجہد کی حمایت کرنے میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایک سال تک بہاولپور جیل میں سزا کاٹنی پڑ گئی تھی وہ پھر پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے ۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے راولپنڈی کے تاریخی جلسے میں اشفاق احمد خان کو و یتنام میں پہلا سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اشفاق احمد خان نے دل کی بیماری کے باوجود جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آرڈی کی تحریک میں حصہ لیا اور جیل کی صعوبتیں برداشت کیں وہ 1991میں دل کی بیماری کے باعث انتقال کرگئے۔ راشد رحمن نے اپنے والد کی پیروی کرتے ہوئے وکالت کا شعبہ اختیار کیا ۔
1992میں انسانی حقوق کمیشن HRCPمیں شامل ہوئے ، یہ ان کی نوجوانی کا آغاز تھا ۔ راشد نے ایچ آر سی پی کی سرگرمیوں کو ملتان کے علاوہ جنوبی پنجاب کے تمام شہروں میں پہنچانے کا بیڑا اٹھایا وہ24سال تک ایچ آر سی پی سے وابستہ رہے ، اس دوران انھوں نے مزدوروں ، کسانوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی جدوجہد کے بارے میں آگہی اور ان مظلوم طبقات کے حقوق کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا محور بنایا ، وہ مظلوموں کے حقوق کے لیے تھانوں اور عدالتوں کی خاک چھانتے رہے۔ راشد رحمن نے خواتین کے حقوق کے لیے جنوبی پنجاب میں تحریک چلائی جب مظفر گڑھ کی ایک غریب عورت مختاراں مائی کو طاقتور لوگوں نے اجتمائی زیادتی کا نشانہ بنیایا تو جنوبی پنجاب سے راشد رحمن کی پہلی آواز تھی جس نے مختاراں مائی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔
راشد رحمن نے مختاراں مائی کو قانونی مدد فراہم کی وہ مختاراں کے ساتھ عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے ۔ مختاراں مائی کی جرات اور راشد رحمن کی کوششوں سے ملزمان کو سزائیں ہوئیں جب سپریم کورٹ نے اس مقدمے کے ملزمان کو رہا کیا تو راشد کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ کرمنل جوڈیشل سسٹم کے ناقص نظام کی بناء پر ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی دنوں میں ایس ایچ او مختاراں مائی کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیںتھے اور متعلقہ پولیس افسر نے بااثر افراد کے دبائو پر جب ایف آئی آر میں ایسے سقم چھوڑے کہ وکیل صفائی نے اس کی بنیاد پر اپنا مقدمہ تیار کرلیا۔ راشد کا کہنا تھا کہ جب مختاراں مائی پہلی دفعہ تھانے گئی تھی تو وہ گمنام تھی اور پولیس اہلکار نے ایک گمنام عورت کی شکایت پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے اس صورتحال کو نظر انداز کرنے غریبوں کو خاص طور پر نچلے طبقے کی عورتوں کے ساتھ افسوسناک سلوک کیا ہے۔ راشد نے خاص طور پر ان عورتوں کی دادرسی کے لیے کوششیں کی تھیں ، جنھیں مردوں نے تیزاب پھینک کر جلادیا تھا ، راشد نے قیدی بچوں کے بارے میں بہت حساس تھے وہ ایسے مقدمات میں پوری کوشش کرتے تھے کہ بچے کسی صورت جیل نہ جائیں وہ خاص طور پر بچوں کے بارے میں نافذ قوانین کا حوالہ دیتے تھے ، راشدکا کہنا تھا کہ وکلاء ان قوانین سے واقف ہوںتو پولیس والے بچوں کو جیل بھیجنے کی جرات نہ کریں ۔
جب 2007میں صدر جنرل مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معزول کیا تو وکلاء نے ایک مہم منظم کی ، راشد رحمن اگر چہ ملتان بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ کے عہدیدار نہیں تھے مگر وہ اس تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھے ۔ اس زمانے میں راشد کی انجیوگرافی ہوئی تھی مگر راشد کی آہنی عزم کے آگے یہ بیماری رکاوٹ نہیں بنی ، حکومت پنجاب نے راشد کو بار کے عہدیداروں کے ہمراہ گرفتار کیا اور سردی میں ملتان سے کئی سوکلومیٹر دور اٹک جیل میں نظر بند کردیا اس جیل میں وکلاء تحریک کے رہنما منیر ملک بھی نظر بند تھے ۔ راشد نے اپنی والد ہ، اہلیہ اور بھائی کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ کسی صورت ملتان سے سفر کرکے اٹک نہ آئیں یوں انھوں نے صبر سے جیل کاٹی ۔
پنجاب انتظامیہ کی سمجھوتہ کرنے ، جج کا عہدہ لینے کی کئی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کیا ۔ جب افتخار چوہدری دوبارہ چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے تو وکلاء تحریک میں شامل بڑے بڑے وکلاء نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا، کچھ جج بن گئے ، کچھ نے بھاری فیسوں کے ساتھ مقدمات لڑے اور اپنے موکلوں کو فائدہ پہنچانے میں کامیاب ہوئے مگر راشد اس وقت عاصمہ جہانگیر کے ساتھ کھڑے تھے اور یہ نعرہ بلند کر رہے تھے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری اپنی متبادل ریاست قائم کر کے نہ صرف وکلاء تحریک کی روح کو نقصان پہنچایا ہے اور جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔
راشد رحمن نے جنوبی پنجاب کی بے زمین کسانوں کے لیے تحریک منظم کی انھوں نے زمینوں کی بندر بانٹ کے موضوع پر ایک کتاب تحریر کی ، راشد کا کہنا تھا کہ کسانوں کو حق ملکیت سے محروم کرنے میں فوج لاٹ عدالتی لاٹ اور افسران بہادر کی لاٹ کی مثلث کا بنیادی کردار ہے۔ ملتان میں کام کرنیوالے صحافیوں کا کہنا ہے کہ کوئی مظلوم ان کے پاس آتا تو وہ قانونی چارہ جوئی کے لیے راشد کے پاس بھیج دیتے ، انھوں نے 24 سال وکالت کے دوران سیکڑوں لوگوں کے مقدمات مفت لڑے،راشد کے ذہن میں خوف کا کوئی تصور نہ تھا وہ کہتے تھے کہ موت کا ایک دن معین ہے۔
راشد 7 مئی کی رات کو ملتان میں اپنے چیمبر میں بیٹھے کچھ لوگوں کو مفت میں قانونی مشورے دے رہے تھے کہ دو نوجوان آئے انھوں نے سنسر لگی پستولوں سے فائرنگ کی راشد اسپتال پہنچے سے پہلے شہید ہوگئے، ان کے قتل کی خبر چند لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل گئی ۔ ان کی نماز جنازہ ملتان کے علاقے حسن پروانہ کے پوسٹ آفس سے ملحقہ پارک میں ہوئی ، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی بہت سے لوگ وقت کا علم نہ ہونے کی بناء پر پہنچ نہ سکے ، نماز جنازہ میں وکلاء ، ججوں ، صحافیوں کے علاوہ اکثریت مزدوروں اور کسانوں کی تھی ، راشد کے قتل کی مسلسل مذمت ہورہی ہے ۔
امریکی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے بھی قتل کی مذمت کی اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ ممتاز صحافی رئوف کلاسرہ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ راشد نے اپنے قاتلوں کا مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا ہوگا اور راشد کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنے قاتلوں کا عدالت میں دفاع کریں ، راشد کی موت اس معاشرے کے لیے المیہ ہے۔ راشد کی بوڑھی والدہ ، بہنوں اور بھائیوں کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی انتقام پر یقین نہیں رکھتے مگر انتہا پسندی کا خاتمہ مہذب معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ راشد رحمن کے خاندان کے ساتھ انصاف ریاستی اداروں کے لیے ایک امتحان ہے۔
راشد رحمن 13اکتوبر 1958کو ملتان میں پیدا ہوئے ان کے بزرگ ہندوستا ن کے علاقے گڑگائوں کے تحصیل پلول کے گائوں حسن پور سے 1947میں ہجرت کرکے ملتان اور اس کی تحصیل شجاع آباد میں آباد ہوئے ۔ اس خاندان نے 1947کے فسادات میں سخت مشکلات برداشت کی تھی، راشد رحمن کے دادا اپنے سیکڑوں قریبی رشتے داروں سمیت ہندو مسلم فسادات میں شہید ہوگئے تھے ۔ راشد رحمن کے والد اشفاق احمد خان اپنے خاندان میں ز ندہ بچ جانے والے واحد نوجوان تھے ۔ راشد رحمن کے والد اشفاق احمد خان نے 60اور 70کی دہائی میں ملتان میں مزدوروں اور کسانوں کی تحریک کو منظم کرنے میں فعال کردار ادا کیا تھا وہ نیشنل عوامی پارٹی کی بھاشانی گروپ کے اہم رہنمائوں میں سے تھے ۔
اشفاق احمد خان کو اللہ وسایا ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی حالات کار کی تبدیلی کی جدوجہد کی حمایت کرنے میں جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایک سال تک بہاولپور جیل میں سزا کاٹنی پڑ گئی تھی وہ پھر پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے ۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے راولپنڈی کے تاریخی جلسے میں اشفاق احمد خان کو و یتنام میں پہلا سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اشفاق احمد خان نے دل کی بیماری کے باوجود جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آرڈی کی تحریک میں حصہ لیا اور جیل کی صعوبتیں برداشت کیں وہ 1991میں دل کی بیماری کے باعث انتقال کرگئے۔ راشد رحمن نے اپنے والد کی پیروی کرتے ہوئے وکالت کا شعبہ اختیار کیا ۔
1992میں انسانی حقوق کمیشن HRCPمیں شامل ہوئے ، یہ ان کی نوجوانی کا آغاز تھا ۔ راشد نے ایچ آر سی پی کی سرگرمیوں کو ملتان کے علاوہ جنوبی پنجاب کے تمام شہروں میں پہنچانے کا بیڑا اٹھایا وہ24سال تک ایچ آر سی پی سے وابستہ رہے ، اس دوران انھوں نے مزدوروں ، کسانوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی جدوجہد کے بارے میں آگہی اور ان مظلوم طبقات کے حقوق کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا محور بنایا ، وہ مظلوموں کے حقوق کے لیے تھانوں اور عدالتوں کی خاک چھانتے رہے۔ راشد رحمن نے خواتین کے حقوق کے لیے جنوبی پنجاب میں تحریک چلائی جب مظفر گڑھ کی ایک غریب عورت مختاراں مائی کو طاقتور لوگوں نے اجتمائی زیادتی کا نشانہ بنیایا تو جنوبی پنجاب سے راشد رحمن کی پہلی آواز تھی جس نے مختاراں مائی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔
راشد رحمن نے مختاراں مائی کو قانونی مدد فراہم کی وہ مختاراں کے ساتھ عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے ۔ مختاراں مائی کی جرات اور راشد رحمن کی کوششوں سے ملزمان کو سزائیں ہوئیں جب سپریم کورٹ نے اس مقدمے کے ملزمان کو رہا کیا تو راشد کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ کرمنل جوڈیشل سسٹم کے ناقص نظام کی بناء پر ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی دنوں میں ایس ایچ او مختاراں مائی کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیںتھے اور متعلقہ پولیس افسر نے بااثر افراد کے دبائو پر جب ایف آئی آر میں ایسے سقم چھوڑے کہ وکیل صفائی نے اس کی بنیاد پر اپنا مقدمہ تیار کرلیا۔ راشد کا کہنا تھا کہ جب مختاراں مائی پہلی دفعہ تھانے گئی تھی تو وہ گمنام تھی اور پولیس اہلکار نے ایک گمنام عورت کی شکایت پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے اس صورتحال کو نظر انداز کرنے غریبوں کو خاص طور پر نچلے طبقے کی عورتوں کے ساتھ افسوسناک سلوک کیا ہے۔ راشد نے خاص طور پر ان عورتوں کی دادرسی کے لیے کوششیں کی تھیں ، جنھیں مردوں نے تیزاب پھینک کر جلادیا تھا ، راشد نے قیدی بچوں کے بارے میں بہت حساس تھے وہ ایسے مقدمات میں پوری کوشش کرتے تھے کہ بچے کسی صورت جیل نہ جائیں وہ خاص طور پر بچوں کے بارے میں نافذ قوانین کا حوالہ دیتے تھے ، راشدکا کہنا تھا کہ وکلاء ان قوانین سے واقف ہوںتو پولیس والے بچوں کو جیل بھیجنے کی جرات نہ کریں ۔
جب 2007میں صدر جنرل مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معزول کیا تو وکلاء نے ایک مہم منظم کی ، راشد رحمن اگر چہ ملتان بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ کے عہدیدار نہیں تھے مگر وہ اس تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھے ۔ اس زمانے میں راشد کی انجیوگرافی ہوئی تھی مگر راشد کی آہنی عزم کے آگے یہ بیماری رکاوٹ نہیں بنی ، حکومت پنجاب نے راشد کو بار کے عہدیداروں کے ہمراہ گرفتار کیا اور سردی میں ملتان سے کئی سوکلومیٹر دور اٹک جیل میں نظر بند کردیا اس جیل میں وکلاء تحریک کے رہنما منیر ملک بھی نظر بند تھے ۔ راشد نے اپنی والد ہ، اہلیہ اور بھائی کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ کسی صورت ملتان سے سفر کرکے اٹک نہ آئیں یوں انھوں نے صبر سے جیل کاٹی ۔
پنجاب انتظامیہ کی سمجھوتہ کرنے ، جج کا عہدہ لینے کی کئی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کیا ۔ جب افتخار چوہدری دوبارہ چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے تو وکلاء تحریک میں شامل بڑے بڑے وکلاء نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا، کچھ جج بن گئے ، کچھ نے بھاری فیسوں کے ساتھ مقدمات لڑے اور اپنے موکلوں کو فائدہ پہنچانے میں کامیاب ہوئے مگر راشد اس وقت عاصمہ جہانگیر کے ساتھ کھڑے تھے اور یہ نعرہ بلند کر رہے تھے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری اپنی متبادل ریاست قائم کر کے نہ صرف وکلاء تحریک کی روح کو نقصان پہنچایا ہے اور جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔
راشد رحمن نے جنوبی پنجاب کی بے زمین کسانوں کے لیے تحریک منظم کی انھوں نے زمینوں کی بندر بانٹ کے موضوع پر ایک کتاب تحریر کی ، راشد کا کہنا تھا کہ کسانوں کو حق ملکیت سے محروم کرنے میں فوج لاٹ عدالتی لاٹ اور افسران بہادر کی لاٹ کی مثلث کا بنیادی کردار ہے۔ ملتان میں کام کرنیوالے صحافیوں کا کہنا ہے کہ کوئی مظلوم ان کے پاس آتا تو وہ قانونی چارہ جوئی کے لیے راشد کے پاس بھیج دیتے ، انھوں نے 24 سال وکالت کے دوران سیکڑوں لوگوں کے مقدمات مفت لڑے،راشد کے ذہن میں خوف کا کوئی تصور نہ تھا وہ کہتے تھے کہ موت کا ایک دن معین ہے۔
راشد 7 مئی کی رات کو ملتان میں اپنے چیمبر میں بیٹھے کچھ لوگوں کو مفت میں قانونی مشورے دے رہے تھے کہ دو نوجوان آئے انھوں نے سنسر لگی پستولوں سے فائرنگ کی راشد اسپتال پہنچے سے پہلے شہید ہوگئے، ان کے قتل کی خبر چند لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل گئی ۔ ان کی نماز جنازہ ملتان کے علاقے حسن پروانہ کے پوسٹ آفس سے ملحقہ پارک میں ہوئی ، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی بہت سے لوگ وقت کا علم نہ ہونے کی بناء پر پہنچ نہ سکے ، نماز جنازہ میں وکلاء ، ججوں ، صحافیوں کے علاوہ اکثریت مزدوروں اور کسانوں کی تھی ، راشد کے قتل کی مسلسل مذمت ہورہی ہے ۔
امریکی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے بھی قتل کی مذمت کی اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ ممتاز صحافی رئوف کلاسرہ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ راشد نے اپنے قاتلوں کا مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا ہوگا اور راشد کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنے قاتلوں کا عدالت میں دفاع کریں ، راشد کی موت اس معاشرے کے لیے المیہ ہے۔ راشد کی بوڑھی والدہ ، بہنوں اور بھائیوں کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی انتقام پر یقین نہیں رکھتے مگر انتہا پسندی کا خاتمہ مہذب معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ راشد رحمن کے خاندان کے ساتھ انصاف ریاستی اداروں کے لیے ایک امتحان ہے۔