زری پالیسی ہفتہ کو جاری ہوگی شرح سود میں کمی کیلیے حالات سازگار
شرح افراط زر سال کے اختتام پر 11 تا 12 فیصد کے اندازے سے کم 8 سے 10 فیصد رہنے کی توقع، اسٹیٹ بینک
بعض حلقوں نے بجٹ میں بجلی مہنگی ہونے سے افراط زر بڑھنے کے خدشات پر زری پالیسی میں نرمی کو خارج از امکان قرار دیدیا۔ فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ 2ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی ہفتہ 17 مئی کو جاری کرے گا۔ ماہرین کے مطابق افراط زر میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور روپے کی قدر میں استحکام مانیٹری پالیسی میں نرمی کے لیے انتہائی سازگار عوامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال افراط زر کی شرح 11سے 12فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا تاہم رواں مالی سال اوسط افراط زر 9فیصد سے کم رہا اور مالی سال کے اختتام تک بھی افراط زر 8سے 10 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، اس دوران زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہوئے ہیں، فروری 2014 تک ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 7.6ارب ڈالر تھی جس میں مرکزی بینک کے پاس 2.8 ارب ڈالر کے ذخائر تھے جو 1 ماہ کے درآمدی بل کے لیے بھی ناکافی تھے تاہم آئی ایم ایف کے قرضوں، 2ارب ڈالر کے یوروبانڈز اور دوست ملکوں کی مالی معاونت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور مجموعی ذخائر کی مالیت 12.9ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس سے روپے کی قدر کو بھی استحکام ملا ہے۔
6 سال کی معاشی ابتری کے بعد اب معاشی بحالی کے آثار بھی نمایاں ہورہے ہیں، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ اور ریئل اسٹیٹ کے شعبوں میں تیزی سے بہتری آرہی ہے، اس موقع پر ڈسکائونٹ ریٹ میں کمی سے کاروباری حالات کو تقویت مل سکتی ہے۔ ادھر ڈسکائونٹ ریٹ میں کمی کے امکانات کو رد کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ بجٹ کے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرسکتا ہے، آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کے دبائو پر بجلی کے نرخ میں اضافہ اور پاور سبسڈی میں کمی سے افراط زر میں اضافے کے دبائو کا سامنا ہوگا۔
اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال افراط زر کی شرح 11سے 12فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا تاہم رواں مالی سال اوسط افراط زر 9فیصد سے کم رہا اور مالی سال کے اختتام تک بھی افراط زر 8سے 10 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، اس دوران زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہوئے ہیں، فروری 2014 تک ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 7.6ارب ڈالر تھی جس میں مرکزی بینک کے پاس 2.8 ارب ڈالر کے ذخائر تھے جو 1 ماہ کے درآمدی بل کے لیے بھی ناکافی تھے تاہم آئی ایم ایف کے قرضوں، 2ارب ڈالر کے یوروبانڈز اور دوست ملکوں کی مالی معاونت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور مجموعی ذخائر کی مالیت 12.9ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس سے روپے کی قدر کو بھی استحکام ملا ہے۔
6 سال کی معاشی ابتری کے بعد اب معاشی بحالی کے آثار بھی نمایاں ہورہے ہیں، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ اور ریئل اسٹیٹ کے شعبوں میں تیزی سے بہتری آرہی ہے، اس موقع پر ڈسکائونٹ ریٹ میں کمی سے کاروباری حالات کو تقویت مل سکتی ہے۔ ادھر ڈسکائونٹ ریٹ میں کمی کے امکانات کو رد کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ بجٹ کے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرسکتا ہے، آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کے دبائو پر بجلی کے نرخ میں اضافہ اور پاور سبسڈی میں کمی سے افراط زر میں اضافے کے دبائو کا سامنا ہوگا۔