ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز پر ٹائر انڈسٹری کا احتجاج

اسمگلنگ مافیا کے بجائے مقامی انڈسٹری کی ترقی اور استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز مرتب کی جائیں، ٹائر انڈسٹری

تشویش دور کرکے بجٹ تجاویزدوبارہ جاری کی جائیں، صدر فیڈریشن کو احتجاجی خط ارسال۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی ٹائر منیوفیکچرنگ انڈسٹری نے ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز پر شدید اعتراضات کرتے ہوئے فیڈریشن کی قیادت پر زور دیا ہے کہ اسمگلنگ مافیا کے بجائے مقامی انڈسٹری کی ترقی اور استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز مرتب کی جائیں۔

پاکستان میں 50سال سے ٹائر بنانے والی جنرل ٹائر کمپنی کی جانب سے ایف پی سی سی آئی کے صدر کے نام احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے انتظامی اقدامات کے بجائے درآمدی ڈیوٹی میں مزید کمی کی سفارش کی ہے جس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں مزید نقصان ہوگا جبکہ مقامی ٹائر انڈسٹری کومزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، بجٹ تجاویز میں انڈسٹری سے مشاورت نہیں کی گئی، سال 2014-15کیلیے ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز صنعت کو مکمل طور پر تباہ کردیں گی۔


خط میں کہا گیاکہ ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز میں صنعت کے ہر شعبے کی نمائندگی ہونی چاہیے لیکن یہ تجاویز زیادہ تر محض ان ٹائر درآمد کرنے والوں کی حمایت کرتی ہیں جو ٹائر درآمد کرکے مقامی منڈی میں فروخت کر دیتے ہیں اور معاشی استحکام میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ جنرل ٹائر نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیاکہ جن اشیا کی اسمگلنگ کا خطرہ لاحق ہے ان پر ڈیوٹی کو کم کر دیا جائے۔ خط میں کہا گیا کہ اسمگلنگ کو ٹھوس انتظامی کنٹرول کے ذریعے کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے،ڈیوٹیز میں کمی کرتے ہوئے حکومت کو قانونی محاصل سے محروم کرنا اچھی تجویزنہیں ہے۔

حکومت سرحدوں سے ٹائر اسمگلنگ کے اہم مراکز تک سڑکوں پر ہر 100کلومیٹر پر کسٹم چیک پوسٹیں قائم کرسکتی ہے اور ممنوع اشیا لے جانے والی گاڑیوں کو سامان سمیت قبضے میں لے سکتی ہے، گاڑیوں کو قبضے میں لینے کے صرف چند واقعات اسمگلنگ کو کافی حد تک ختم کر دیں گے۔ خط میں کہاگیاکہ سیلزٹیکس رجسٹریشن کو ختم کرنے کی تجویز حکومت کے خلاف ہے، حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر معیشت کے دستاویزی عمل کو مکمل کرے تاکہ تمام پوشیدہ سمجھوتے اور ان سے منسلک لوگوں کا پردہ فاش ہو سکے۔ جنرل ٹائر نے ایف پی سی سی آئی کے صدر پر زور دیاکہ تمام متعلقین کو اعتماد میں لے کربجٹ تجاویز کے بیان کو دوبارہ جاری کیا جائے اور ٹائر صنعت کو معاشی دستاویزات کی تیاری اور قانونی و اخلاقی کارروائیوں میں شامل کرتے ہوئے اس کی تشویش دور کی جائے۔
Load Next Story