دفاع وطن سے استحکام وطن تک

بحیثیت قوم ہم کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے اپنی مشکلات ومصائب پر قابو پا سکتے ہیں ...

بحیثیت قوم ہم کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے اپنی مشکلات ومصائب پر قابو پا سکتے ہیں ۔فوٹو:فائل

ISLAMABAD:
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ فوج ہر طرح کے خطرات کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔فوج کی آپریشنل صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ بلاشبہ آرمی چیف کے خیالات انتہائی صائب ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی بقا وسلامتی اور جمہوریت کے استحکام کے حوالے سے ایک ویژن رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار قوم کے سامنے کرتے رہتے ہیں جس کے باعث قوم کے عزم وحوصلے میں نہ صرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس امر پر یقین بھی پختہ ہوجاتا ہے کہ مشکلات وآزمائش کی گھڑیاں جلد ختم ہو جائیں گی اور ملک میں جاری داخلی انتشار کا جڑ سے خاتمہ ہوگا۔

ملکی سلامتی، یکجہتی اور استحکام کے لیے فوج کا کردار انتہائی اہم ہے، پاکستان کی جغرافیائی اور فوجی اہمیت سے انکار ہرگز ممکن نہیں ، نئے عالمی تناظر اور ملک کی داخلی صورت حال کے تناظر میں فوج کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ بھرپور انداز میں ان مشکلات سے نبرد آزما ہے، ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے امن کی خواہش کو بھی فوج کی حمایت حاصل ہے اور حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں ۔ جوں جوں مذاکراتی عمل آگے بڑھا ہے ، اس کے بارے میں مکمل ہم آہنگی فوج اور حکومت کے درمیان پائی جاتی ہے چند روز پیشتر میرانشاہ بم دھماکے میں نو سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی اور ملکی سلامتی ، دفاع اور سرحدوں کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقعے پر وزیراعظم نے طالبان سے جاری امن مذاکرات کے حوالے سے بھی آرمی چیف کو اعتماد میں لیا ۔دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کر کے فوج نے ملکی وقار کو بلند کیا ہے وہیں پاک فوج کے جوانوں نے اپنے لہو سے چراغ روشن کرکے ملک میں اندھیروں کو پھیلنے سے روکا ہے ، دفاع وطن سے استحکام وطن تک ایک ایک شہیدکی قربانی قوم کے لیے سرمایہ افتخار ہے ۔داخلی امن اگر مذاکراتی عمل کے ذریعے قائم ہوجاتا ہے تو بہت اچھا ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر بھی فوج چیلنج بننے والے عناصر سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، اسی ضمن میں یوم شہداء کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا تھا کہ آج بحیثیت قوم ہمیں ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس سے افواج پاکستان کے ساتھ ریاست کے تمام ادارے اور پاکستانی عوام بھی برسرپیکار ہیں ۔


پاک افواج کی طاقت کا سرچشمہ عوام کا اعتماد ہے۔ عوام اور افواج ایک اٹوٹ بندھن میں بندھے ہوئے ہیں جو محبت و چاہت اور ایثار و قربانی سے عبارت ہے ۔پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اس میں جمہوری عمل کے استحکام کے لیے جہاں سابق آرمی چیف جنرل(ر)پرویزکیانی کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،وہیں پر جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کردار لائق تحسین ہے۔ تمام تر خامیوں اور تنقید کے باوجود ملک کی فلاح وترقی کا راز جمہوری نظام میں موجود ہے،جمہوری نظام کے ثمرات عوام تک اسی وقت پہنچ سکتے ہیں جب یہ عمل تسلسل سے جاری رہے اور اس سسٹم کو ڈی ریل نہ ہونے دیا جائے ۔ فوج کا اس ضمن میں تعاون وکردار قابل ستائش ہے۔

بقول آرمی چیف جنرل راحیل شریف افواج پاکستان جمہوریت کے استحکام،آئین وقانون کی پاسداری اور بالادستی پر یقین رکھتی ہیں یہی وہ واحد راستہ ہے جس پرگامزن رہ کر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں ۔دفاع وطن کے لیے جنگ جہاں جذبے و ایمان کی قوت سے لڑی جاتی ہے وہیں پر آج کے دور میں دفاعی صلاحیتوں کا انحصار جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے پر بھی ہے ۔اس میں بنیادی کردار میزائل ٹیکنالوجی کا ہے ، گزشتہ دنوں پاکستان نے مختصر فاصلے والے زمین سے زمین پر ہدف کو نشانہ بنانے اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل حتف تھری غزنوی کا کامیاب تجربہ کیا۔

اس موقعے پر جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ سٹرٹیجک ہتھیاروں کے سسٹم کو آپریشن کرنے والی فورس کی مہارت اعلیٰ، معیاری اور قابل تحسین ہے، پاکستان کے پاس ایک بہترین کمانڈ اینڈکنٹرول سسٹم ہے،ہم بہترین افواج رکھتے ہیں جو ملکی دفاع کے تحفظ اورکسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آرمی چیف کے خیالات فکر انگیز ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ جس قوم کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہو وہی سکھ کی نیند سوسکتی ہے ۔ لیکن ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ، چیلنجز داخلی اور خارجی سطح پر ہنوز باقی ہیں اسی لیے تو آرمی چیف نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سرگرم تمام عناصر غیر مشروط طور پر آئین اور قانون کی مکمل اطاعت قبول کر کے قومی دھارے میں واپس آجائیں بصورت دیگر ریاست کے باغیوں سے نمٹنے کے معاملے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔

وطن عزیز میں آئین وقانون کی بالادستی سے امن کی راہ ہموار ہوگی ۔بحیثیت قوم ہم کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے اپنی مشکلات ومصائب پر قابو پا سکتے ہیں اس سلسلے میں اداروں میں مکمل ہم آہنگی ہونی چاہیے اور کسی بھی قسم کے اختلافات کا شائبہ تک نہ ہو، حکومت اور ملکی سلامتی کے حامل اداروں کے درمیان ، ورنہ چنگاری کو ہوا دے کر آگ کے شعلے بھڑکانے والوں کی کمی نہیں ۔ ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کرتے رہیں، ملک میں فوری اور سستا انصاف فراہم ہو تو ملکی یکجہتی اور بقا کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا۔ انشاء اللہ!!
Load Next Story