معاشی بریک تھرو کی سمت سفر

معاشی ثمرات عوام کی دہلیزتک نہ پہنچے توانقلاب کی معاشی دھمک چپ چاپ نہیں بلکہ خاصی تہلکہ خیزیوں کیساتھ نمودار ہوسکتی ہے

معاشی ثمرات عوام کی دہلیزتک نہ پہنچے توانقلاب کی معاشی دھمک چپ چاپ نہیں بلکہ خاصی تہلکہ خیزیوں کیساتھ نمودار ہوسکتی ہے فوٹو : فائل

سپریم کورٹ نے غربت کے خاتمے اور اشیاء خور و نوش کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کر لی ۔ادھر وزیراعظم نوازشریف نے منگل کو ساڑھے تین ارب روپے مالیت کی سود سے پاک قرضہ اسکیم کی منظوری دیدی جس سے 10 لاکھ افراد استفادہ کرینگے، ان میں پچاس فیصد خواتین ہونگی ، وزیراعظم نے کہا ہے کہ مائیکرو فنانس اسکیمیں سیاسی اور اقتصادی ترقی کے لیے عمل انگیز ہیں اور چھوٹے قرضے معاشرے کے غریب ترین طبقات بالخصوص خواتین کے لیے تبدیلی کا ذریعہ ہیں، وزیر اعظم کی زیر صدارت سود سے پاک قرضہ اسکیم پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم یوتھ اسکیم کی چیئرپرسن مریم نواز اور سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

ملکی اقتصادیات کو درپیش چیلنجز کے وسیع تر تناظر میں جو بنیادی سوالات آج بھی ریلیف اور مائیکرو یا میکرو معاشی آسودگی سے محروم عوام کے سامنے کالے ناگ کی طرح پھن پھیلائے کھڑے ہیں وہ سپریم کورٹ کے فاضل ججز کے شعلہ بداماں سوالات سے مختلف نہیں کہ ''جہاں بھوک کے خوف سے ماں اپنے3 لخت جگر دریا برد کردے وہاں کے لیڈر کس منہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بات کرتے ہیں، اگر عوام کے لیے کھانا نہیں ہے تو پھر ریاست کدھر ہے ؟ '' یہ سوالات ملکی معاشی ،جمہوری ، سماجی ، اخلاقی اور قوم کے مجموعی نظام اقدار و روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔

معاشی ثمرات عوام کی دہلیز تک نہ پہنچے تو انقلاب کی معاشی دھمک چپ چاپ نہیں بلکہ خاصی تہلکہ خیزیوں کے ساتھ نمودار ہوسکتی ہے، حکمراں چشم تصور میں اس 'حادثہ' کو ضرور لائیں جس کی وقت 'پرورش' کررہا ہے ۔ موجودہ حکومت کے لیے صورتحال کا ادراک اور نئے معاشی نظام کی قابل عمل بنیاد رکھنے کا انقلاب انگیز آغاز کرنا اس لیے بھی مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دو ادوار حکومت کے اپنے معاشی فیصلوں،اقدامات اور اقتصادی پالیسیوں کے ثمرات اور تجربات کو کھلی آنکھ سے دیکھ سکتی ہے ، واضح اقتصادی پالیسیوں اور معاشی اہداف کے بغیر کوئی جمہوری عمل عوامی آسودگی کا باعث نہیں بن سکتا جب تک کہ سیاسی استحکام،حکومتی اور ریاستی رٹ کے قیام سمیت عام آدمی غربت و افلاس کے عذاب سے نجات نہ پائے۔


لیکن معیشت کے ماہرین اقتصادیات محسوس کرتے ہیں کہ معاشی اقدامات کے آئینہ میں کم و بیش وہی ایڈہاک ازم، قرضہ اسکیم، بیت المال سے وظائف ،اور دیگر عارضی یا محدود و قلیل المیعاد معاشی اطمینان سے منسلک منصوبے حکومتی ترجیحات کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور وہ انقلابی قلب ماہیت نظر نہیں آتی جس کے بغیر ملکی معیشت کی خود انحصاری ، اقتصادی آزادی ، ملکی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں اور بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں اور رضاکارانہ کشکول گدائی سے گلو خلاصی کا کوئی امکان نہیں ۔ انکشافات در انکشافات ہو رہے ہیں ۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ زندہ رہنے کا حق آئین نے تسلیم کیا ہے، باتوں اور نعروں سے ہٹ کر عمل کرنے کا وقت آگیا ہے ، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو ابھی تک لوگوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں ملا ، گندم پر سبسڈی ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں پتہ نہیں یہ وزڈم کہاں سے آئی ہے؟

واشنگٹن سے یا پھر کہیں اور سے ۔عدلیہ نے یاد دلایا کہ ایک ملک میں کہیں آٹے کا تھیلا750 اور کہیں1150 روپے میں مل رہا ہے۔ لوگوں کو کھا نا نہیں ملے گا، تو زندہ کیسے رہیں گے، 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیار تو مل گئے لیکن اب ذمے داری بھی نبھائیں، چمن اور طورخم بارڈر سے قطار در قطار ٹرک گزرتے ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں ، اتنا تو کردیں کہ کم از کم لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوں، ایک زمانہ تھا کہ راشن ڈپو ہوتا تھا ایک قیمت پر لوگوں کو آٹا اور چینی مل جاتی ۔ سیکریٹری خوراک نے کہا پاکستان میں ارب پتی بھی سبسڈی لیتے ہیں، ملک میں ٹارگٹڈ سبسڈی ہونی چاہیے۔

ادھر چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اعتراف کیا کہ ڈالر کی قیمت اور درآمدات میں کمی کی وجہ سے رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا ، سینیٹرکلثوم پروین کا کہنا ہے کہ موثرحکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا آلو اسمگل ہوگیا اور غیرمعیاری آلوکھا رہے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے مطابق مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں ۔ ادھر وفاقی وزارت صحت نے یکم جون سے بیرون ملک سفر کے لیے پولیو ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا ہے، پولیو سرٹیفکیٹ مستند افسران سے تصدیق ہوگا، اس سے شہریوں کو کتنی دشواری پیش آئیگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ اگر فاٹا سمیت ملک بھر میں ریاستی رٹ قائم ہوتی تو کسی کی کیا مجال تھی کہ وہ پولیو مہم کو طاقت کے زور پر روک سکتا۔

اس محاذ پر حکومت سخت ناکام ہوئی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پوری طرح قائل ہیں کہ اگر نوجوانوں کو چھوٹے قرضوں کی اسکیموں اور جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی کے ذریعے مناسب رہنمائی اور مالیاتی معاونت فراہم کی جائے تو وہ ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ حکومت محروم طبقات کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے مگر مسئلہ معاشی نظام کی تبدیلی کا ہے، ایسی پالیسیوں کو بروئے کار لانا چاہیے جس سے عوام کو براہ راست ریلیف مل سکے جب کہ میلو ڈرامیٹک اقدامات یا معاشی بازیگری کے بجائے ٹھوس اقتصادی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کن معاشی بریک تھرو کی طرف پیش قدمی ہونی چاہیے ۔
Load Next Story