اللہ کی تلوار کہاں ہے

اللہ کی تلوار نیام میں بند ہے اور اس کا مالک حضور پاک ﷺ کے اس تحفے اور اعزاز کا یہ حامل مایوسی اور شرمندگی کے ...

Abdulqhasan@hotmail.com

پیغمبر اسلام کی طرف سے منفرد اعزاز ''اللہ کی تلوار'' کے علمبردار اور ہر میدان جنگ میں فتح و نصرت کے ایک بے مثل اور ناقابل فراموش کردار کے مالک حضرت خالد بن ولیدؓ عمر بھر کے جہاد کے باوجود شہادت کی مایوسی کو دل میں لیے جب شام کے شہر حمص میں اپنے بستر پر زندگی کے آخری سانس لے رہے تھے تو ان کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ ایک سو سے زیادہ جنگوں میں حصہ لیا زندگی جہاد میں گزر گئی جسم کا کوئی حصہ کسی زخم سے خالی نہیں ہے جہاد کی ہر نشانی میرے جسم پر موجود ہے لیکن جس زندگی کے لیے یہ سب کیا وہ نصیب نہ ہو سکی۔ میں آج ایک سپاہی کی طرح شہادت کی موت نہیں ایک زخمی کی طرح موت کے منہ میں جا رہا ہوں۔

اللہ کی تلوار نیام میں بند ہے اور اس کا مالک حضور پاک ﷺ کے اس تحفے اور اعزاز کا یہ حامل مایوسی اور شرمندگی کے عالم میں حضور پاکؐ کی خدمت میں حاضر ہونے والا ہے۔ سیف اللہ خالد بن ولیدؓ کے یہ الفاظ ہماری تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اللہ کی تلوار کا حامل یہ وہ سپاہی اور جرنیل تھا جس نے اپنے دور کی تمام سپر پاورز کو شکست دی تھی اور انھیں اپنے سامنے خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ خالد بن ولید اتنی عظیم شخصیت بن گیا تھا کہ اسلامی فوج کے سپاہی خالد کو فتح و نصرت کا نشان سمجھنے لگے تھے۔ جس لشکر کی قیادت اس جرنیل کے پاس ہوتی فتح و نصرت اس کے قدموں میں ہوتی۔

کہتے ہیں کہ حضرت خالدؓ کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ مسلم سپاہ کا یہ خیال تھا کہ فتح و نصرت خدا کے اختیار میں نہیں خالد کے اختیار میں آ گئی ہے۔ یہ بات امیر المومنین حضرت عمرؓ کو بنیادی اسلامی عقائد کے خلاف دکھائی دیتی تھی۔ یہ ایک الگ بحث ہے جس سے اسلامی تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں اصل بات یہ ہے اللہ کی تلوار نے ایک دنیا زیر کر لی وقت کی ہر سپر پاور پر اپنا پرچم لہرا دیا جسم کا ہر حصہ کسی نہ کسی جہاد کے زخم کی نشانی بن کر اس کے جسم پر موجود تھا مگر موت ایک سپاہی کے بستر پر تھی، جنگ کے میدان میں نہیں تھی جس کا ایک مسلمان سپاہی کے لیے مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ کی راہ میں شہید نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کی اس تلوار کی یاد کس مسلمان کو فراموش ہو سکتی ہے اور قدرت کا یہ کرشمہ بھی اس تلوار کے حامل نے خود ہی یاد دلایا کہ اس تلوار نے دنیا فتح کر لی مگر اپنے مالک کو وہ موت نہ دے سکی جس کا وہ طلب گار تھا اور جس کی آرزو میں وہ تڑپتا ہوا اس دنیا سے گزر گیا۔ خالد بن ولیدؓ کی یاد اس حادثے نے دلائی ہے جس کے مطابق شام کی حکومت نے خالد بن ولید کے مزار مبارک کو شہید کر دیا بلکہ کتابوں کا وہ ذخیرہ بھی ختم ہو گیا جو برسوں سے یہاں جمع ہوتا رہا تھا اور جو ملک شام میں مسلمانوں کی ثقافت کا اثاثہ تھا۔


صحیح یا غلط خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ مزار کی گرتی دیواروں پر گستاخانہ نعرے بھی لکھے گئے، پورا ملک شام اسلامی تاریخ کا ایک نادر ذخیرہ ہے اور اس کی یہ بے حرمتی اسلامی دنیا کی کمزوری اور بے اعتنائی کی داستان سنا رہی ہے۔ عہد نبوی میں ہی عرب سے لوگ شام میں آباد ہونے شروع ہو گئے تھے اسی خالد بن ولیدؓ نے جب دمشق کو فتح کرنے کے لیے اس شہر کا محاصرہ کیا تو وہ اور ان کے لشکر غوطۂ دمشق کے باغات کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ اس شہر کے ہر طرف باغ تھے اور اب بھی ہیں۔ حضرت خالد یہاں کئی دن آرام کرتے رہے۔ مغربی دنیا نے مسلمانوں کے ثقافتی اور علمی مرکزوں کو تاک لیا ہے پہلے عراق کو تباہ کیا گیا اب شام ان کے نشانے پر ہے جس کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

میں نے دمشق شہر ایک سے زیادہ مرتبہ دیکھا تھا اور عظیم الشان مسجد اموی کی عمارت کے اس کونے میں کافی دیر تک مدہوش بیٹھا رہا جو زاویہ غزالی کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں امام غزالی نے اپنی دوسری کتاب اسرار العلوم لکھی تھی۔ اس مقام پر بیٹھنا جس کے ہر نفس سے امام غزالی کے علم و فضل کی مہک آتی ہو اور جہاں دل خوبصورت ماضی میں ڈوب جاتا ہو، اندیشہ ہے کہ مسجد اموی کا نقصان بھی کیا گیا ہے۔ بغداد کے بعد شام کی تباہی اسلامی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاریخی عمارتیں کتابیں نہیں کوئی علم و فضل کا مالک ان پر اپنا علم منتقل کر دے۔ عمارتیں پہلے تعمیر ہوتی ہیں اور پھر ان عمارتوں کو تاریخ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے جو کتابوں کی تحریر سے زیادہ مشکل کام ہے۔

اگرچہ کسی کتاب اور عمارت کے درمیان موازنہ کرنا آسان نہیں دونوں اپنی اپنی جگہ بے پناہ اہمیت رکھتی ہیں لیکن عملاً ایک عمارت کی تعمیر ایک کتاب کی تحریر سے بہت مشکل کام ہے۔ حضرت خالد جب ریٹائر ہوئے تھے تو ان کے سامنے اسلامی سلطنت کے دروازے کھلے تھے وہ کہیں بھی باقی ماندہ زندگی قیام کرسکتے تھے لیکن انھوں نے ملک شام کو پسند کیا اور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ اس خوبصورت تاریخی شہر حمص کو پسند کیا اور اس میں آباد ہو گئے۔

سپہ سالار خالدؓ نے اپنی زندگی کا مشکل ترین زمانہ اس شہر میں گزارا یوں تو اس وقت کی پوری غیر عرب اسلامی دنیا خالد کی تلوار کی نشانی تھی لیکن حمص کا شہر خالد نے پسند کیا اور خالد بن ولیدؓ کی وجہ سے یہ شہر ایک متبرک شہر بن گیا جہاں دنیا کا فاتح آرام کر رہا اور اپنی مایوسیوں پر شاید آنسو بھی بہا رہا ہو گا کہ وہ شہادت کی نعمت سے محروم رہا۔ حضور پاکﷺ اپنے تحفے کے حامل کو کسی بڑے اعزاز کی سفارش ضرور فرمائیں گے۔ ہم مسلمان تو اس کے مقبرے کو بھی محفوظ نہ رکھ سکے،ایسی حرکت پر ہمیں تو خالد بن ولید کا نام لینے کی بھی سزا ملنی چاہیے ۔ ہم اللہ کی اس تلوار پر فخر کریں اور اس کی بے مثال فتوحات پر فخر کریں۔ معلوم نہیں اللہ کی اس تلوار کی حفاظت اب کس کے پاس ہے۔
Load Next Story