فٹبال ورلڈ کپ میں ’برازوکا‘ نامی گیند کا استعمال ہوگا
نئی بال کی رفتار اور نشانہ پہلے تیار شدہ تمام فٹبالز سے بہتر ہے،آفیشلز کا دعویٰ
نئی بال کی رفتار اور نشانہ پہلے تیار شدہ تمام فٹبالز سے بہتر ہے،آفیشلز کا دعویٰ۔ فوٹو: فائل
UNITED NATIONS:
آئندہ ماہ برازیل میں شیڈول فٹبال ورلڈ کپ میں 'برازوکا' نامی گیند کا استعمال ہوگا۔
اس کا شمار ان 12فٹبالز میں ہوتا ہے جو کھیلوں کا سامان تیار کرنے والے ادارے ایڈیڈاس نے میگا ایونٹ کے لیے تیار کیں، اس ادارے کو چار برس قبل جنوبی افریقہ میں منعقدہ ورلڈ کپ کیلیے تیار کردہ گیند 'جبولانی' کی وجہ سے کھلاڑیوں اور ماہرین کی طرف سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس بار آفیشلزکا کہنا ہے کہ نئی گیند کی رفتار اور نشانہ پہلے تیار شدہ تمام فٹبالز سے بہتر ہے۔ ادارے کے فٹبال ڈائریکٹر میتھیاس میکینگ نے کہاکہ 'ہم نے گیند کی پرواز اور نشانے کے وسیع ترین ٹیسٹ مکمل کیے۔
نتائج سے یہ ظاہر ہواکہ اس گیند کی خط حرکت اور رفتار میں رکاوٹ اور ٹہراؤ کا بالکل بھی احساس نہیں ہوتا'۔ایرو ڈائی نیمکس یا فضائی حرکیات کی ماہر رابی مہتا کا تعلق خلائی ادارے ناسا سے ہے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ فٹبال میں استعمال ہونے والی کسی بھی گیند کی کارکردگی اور گھومنے کا دارومدار اوپری سطع کی ناہمواری کی شرح پر ہوتا ہے۔ رابی مہتا نے پچھلے فٹبال ورلڈکپ کی گیند جبولانی کے ساتھ ہوائی سرنگ میں ٹیسٹ کیے تھے،وہ نئی گیند برازوکا بھی معائنہ کر رہی ہیں، انھوں نے کہا کہ جبولانی کی باہری سطح بہت ہموار اوراس وجہ سے گیند نہ صرف صحیح طرح سے گھوم نہیں پا رہی تھی بلکے اسے کک لگانے کے بعد کھلاڑیوں کو یہ بھی اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کہاں رکے گی۔
گیند کی باہری سطح پر موجود ناہموار نقطے اس کی ہوائی حرکیات کو بہت بہتر بناتے ہیں، مہتا نے کہاکہ سطح کی ناہمواری کا اندازہ گیند کی سلائی سے لگایا جاسکتا ہے،اگر برازوکا کا 2006 میں جرمنی میں ہونے والے ورلڈکپ میں استعمال ہونے والی گیند 'ٹیمجسٹ' سے موازنہ کیا جائے تو آپ دیکھ سکیں گے کہ سلائی کے حصوں کے علاوہ تمام حصے ہموار اور چکنے ہیں، برازوکا اس سے بالکل مختلف اور اس کی باہری سطح میں ناہمواری کی شرح پچھلی گیندوں سے بہتر ہے، گیند کی باہرکی سطح پر موجود چھوٹے ناہموار نقطے اس کی ہوا میں حرکت کو بہت بہتر بناتے ہیں۔ برازوکا میں پنکھے کی شکل والے 6 پینل کو تھرمل کی مدد سے جوڑا گیا، جبولانی میں ان پینل کی تعداد8 تھی جبکہ ٹیمجسٹ گیند 16 پینل سے بنائی گئی تھی۔
آئندہ ماہ برازیل میں شیڈول فٹبال ورلڈ کپ میں 'برازوکا' نامی گیند کا استعمال ہوگا۔
اس کا شمار ان 12فٹبالز میں ہوتا ہے جو کھیلوں کا سامان تیار کرنے والے ادارے ایڈیڈاس نے میگا ایونٹ کے لیے تیار کیں، اس ادارے کو چار برس قبل جنوبی افریقہ میں منعقدہ ورلڈ کپ کیلیے تیار کردہ گیند 'جبولانی' کی وجہ سے کھلاڑیوں اور ماہرین کی طرف سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس بار آفیشلزکا کہنا ہے کہ نئی گیند کی رفتار اور نشانہ پہلے تیار شدہ تمام فٹبالز سے بہتر ہے۔ ادارے کے فٹبال ڈائریکٹر میتھیاس میکینگ نے کہاکہ 'ہم نے گیند کی پرواز اور نشانے کے وسیع ترین ٹیسٹ مکمل کیے۔
نتائج سے یہ ظاہر ہواکہ اس گیند کی خط حرکت اور رفتار میں رکاوٹ اور ٹہراؤ کا بالکل بھی احساس نہیں ہوتا'۔ایرو ڈائی نیمکس یا فضائی حرکیات کی ماہر رابی مہتا کا تعلق خلائی ادارے ناسا سے ہے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ فٹبال میں استعمال ہونے والی کسی بھی گیند کی کارکردگی اور گھومنے کا دارومدار اوپری سطع کی ناہمواری کی شرح پر ہوتا ہے۔ رابی مہتا نے پچھلے فٹبال ورلڈکپ کی گیند جبولانی کے ساتھ ہوائی سرنگ میں ٹیسٹ کیے تھے،وہ نئی گیند برازوکا بھی معائنہ کر رہی ہیں، انھوں نے کہا کہ جبولانی کی باہری سطح بہت ہموار اوراس وجہ سے گیند نہ صرف صحیح طرح سے گھوم نہیں پا رہی تھی بلکے اسے کک لگانے کے بعد کھلاڑیوں کو یہ بھی اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کہاں رکے گی۔
گیند کی باہری سطح پر موجود ناہموار نقطے اس کی ہوائی حرکیات کو بہت بہتر بناتے ہیں، مہتا نے کہاکہ سطح کی ناہمواری کا اندازہ گیند کی سلائی سے لگایا جاسکتا ہے،اگر برازوکا کا 2006 میں جرمنی میں ہونے والے ورلڈکپ میں استعمال ہونے والی گیند 'ٹیمجسٹ' سے موازنہ کیا جائے تو آپ دیکھ سکیں گے کہ سلائی کے حصوں کے علاوہ تمام حصے ہموار اور چکنے ہیں، برازوکا اس سے بالکل مختلف اور اس کی باہری سطح میں ناہمواری کی شرح پچھلی گیندوں سے بہتر ہے، گیند کی باہرکی سطح پر موجود چھوٹے ناہموار نقطے اس کی ہوا میں حرکت کو بہت بہتر بناتے ہیں۔ برازوکا میں پنکھے کی شکل والے 6 پینل کو تھرمل کی مدد سے جوڑا گیا، جبولانی میں ان پینل کی تعداد8 تھی جبکہ ٹیمجسٹ گیند 16 پینل سے بنائی گئی تھی۔