تھر کول توانائی کی فراہمی کیلیے کارآمد پراجیکٹ ہےشرجیل میمن

نئے پاور پلانٹس کے لیے600ملین ڈالر کا کوئلہ درآمد کرنا بہت بڑا سانحہ ہوگا

فوٹو: فائل

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ تھر کول پاکستان کو انرجی کی فراہمی کے لیے ایک کارآمد پراجیکٹ ہے۔

تھر کے کوئلے کی کوالٹی دنیا کے کسی بھی حصے میں بشمول بھارت میں پائے جانے والے لیگنیٹ کوئلے کے برابر یا اس سے زیادہ بہتر ہے ،بھارت کی کول فیلڈ بھی تھر کول فیلڈ کی توسیع ہے۔

یہ تاثر کہ تھر کول مائنگ اور پاور جنریشن کیلیے موزوں پروجیکٹ نہیں ایک غلط فہمی اور کم علمی پر مبنی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کوشائع ہونے والی ایک خبر کے حوالے سے کیا ۔


اس سلسلے میں ریکارڈ کی درستگی کیلیے تھرکول منصوبے کے ساخت اور موجودہ پوزیشن کے بارے میں صحیح اور واضح معلومات دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ مشہور عالمی کمپنیاں مثلاًجرمنی کی آر ڈبلیو ای (R.W.E) ، انگلینڈ کی اوریکل کول فیلڈ ، انگلینڈ کی ہی ایس آر کےS.R.K)) ، چائنا کی سائینو کول ، نارتھ ایسٹ کول بیورو اور چائنا کول انجینئر نگ ٹیکنالوجی گروپ نے تھر کی تفصیلی فیزیبلٹی رپورٹس پیش کی۔

سب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تھر کول مائنگ تیکنیکی ، اقتصادی اور ماحولیاتی حساب سے ایک موزوں پروجیکٹ ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ سمجھتی ہے کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا اگر ملک میں اتنی بڑی تعداد میں کوئلے کے ہونے کے باوجود بھی نئے پاور پلانٹ کیلیے سالانہ 600ملین امریکی ڈالر کی بھاری قیمت پر باہر سے کوئلہ منگوایا جائے۔

 

Recommended Stories

Load Next Story