منی پاکستان میں امن کے لیے اہم فیصلے
یہ اعلان خوش آیند ہے کہ کراچی آپریشن ٹیم تبدیل نہیں کی جائے گی ...
یہ اعلان خوش آیند ہے کہ کراچی آپریشن ٹیم تبدیل نہیں کی جائے گی۔ فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے حتمی مرحلے کی منظوری دیدی ہے ۔گورنر ہاؤس کراچی میں امن وامان سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ٹارگٹڈ آپریشن بلاامتیاز اور بغیر کسی دباؤ کے جاری رکھاجائے گا اور ملزموں کی سیاسی سرپرستی کرنے والے افراد اور جماعتوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کی جائے گی۔
عسکری اور انٹیلی جنس ادارے کراچی پولیس اور رینجرز کو مکمل معاونت اور تعاون فراہم کریں گے ۔ اجلاس میں سابق صدر آصف زرداری،آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلی قائم علی شاہ، وزیر داخلہ چوہدری نثار، سربراہ آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام ،کورکمانڈر کراچی، ڈی جی آئی بی، وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ سندھ ، ڈی جی رینجرز اور قائم مقام آئی جی سندھ ، ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی ، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن ، اے این پی کے شاہی سید اور مسلم لیگ (ن) کے سلیم ضیا نے بھی شرکت کی ۔
بلاشبہ کراچی (منی پاکستان) میں قتل و غارت ، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری، سرکاری اراضی پر قبضہ گیری اور جرائم پیشہ مافیاز کا مکمل صفایا کرنے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت میں اتفاق رائے ایک اہم اور سنجیدہ پیش رفت ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ، اور اس فکری ہم آہنگی سے ان سر کش اور امن دشمن عناصر اور افواہ ساز حلقوں تک یہ واضح اور دو ٹوک پیغام اب پہنچنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے کہ سیاسی اور عسکری قیادت میں کوئی اختلاف اور کشیدگی نہیں، ان کی مشترکہ حکمت عملی سے منی پاکستان میں جاری بدامنی کا خاتمہ اب دنوں کی بات ہے ۔ یہ صائب انداز نظر ہے جس کے تحت کراچی آپریشن سے اختلاف رکھنے والی بعض جماعتوں کے تحفظات کو مد نظر رکھا گیا ، وزیراعظم سے متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے بر وقت ملاقات کرکے مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔
یہ اعلان خوش آیند ہے کہ کراچی آپریشن ٹیم تبدیل نہیں کی جائے گی ۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی تیز کریک ڈائون کیا جائے گا جب کہ وزیراعظم نے آپریشن کے دوران شکایات کے ازالے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اجلاس میں غیر قانونی سموں کی بندش کے لیے وفاقی سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی جو ایک ماہ میں غیر قانونی موبائل سموں کی بندش اور بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کرے گی ۔ وزیراعظم نے سندھ رینجرز میں میں مزید بھرتی، انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو 15 روز میں ملیر کینٹ منتقل، سندھ کے پانچوں ڈویژن میں ہائی سیکیورٹی جیلیں تعمیر کرنے، پولیس کو جدید وسائل فراہم کرنے اور سی سی ٹی وی کیمروں کا دائرہ کار بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں کارروائی کے دوران انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا کسی بھی قسم کا ردعمل سامنے آسکتا ہے ۔ اس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا اور امن وامان کے قیام کے لیے ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جو انفرادی خواہشات سے بالاتر ہو ۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ کراچی میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے لیے فوری مہم شروع کی جائے ۔ ان ہدایات پر عملدرآمد کے جس جرات، تدبر، جوش و جذبہ اور ایمان کی ضرورت ہے اس کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں کوئی کمی نہیں تاہم اسلحہ کی بازیابی بنیادی کام ہے۔کراچی کو مقتل محض اسلحہ کی بنیاد پر بنایا گیا ہے، غیرقانونی سمیں اور اسلحہ برآمد کیا گیا تو جرائم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھم سکتا ہے ۔حکومت کو ابھی نہیں تو کبھی نہیں ( Now or Never) کے راست اقدام جیسے کریک ڈائون سے جلد نتائج حاصل کرنا ہوں گے۔
کراچی آپریشن پر اعتراضات بلاجواز نہیں مگر کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ مسلسل کارروائی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ بدنام ترین جرائم پیشہ افراد اور کراچی کے معاشی مرکز کو دیدہ و دانستہ تباہ و برباد کرنے والے ماسٹر مائنڈز راہ فرار اختیار کرچکے ہیں یا اسی شہر میں روپوش ہیں، اس لیے وزیراعظم نے جرائم میں ملوث ہر قسم کی مافیاز کی تفصیلات طلب کرنے کے جو احکامات جاری کردیے ہیں ان کی ہدایت کے تحت گینگ وار کمانڈروں اور کارندوں کے ریڈ وارنٹ جلد جاری کروائے جائیں۔اس ضمن میں حساس ادارے منشیات کی تجارت، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ، گینگ وار ، اغوا برائے تاوان، اور سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی فہرستیں جلد وفاقی حکومت کے حوالے کردیں تاکہ ان کا قلع قمع کرنے کی کارروائی نتیجہ خیز ثابت ہو ۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ 2008 سے اب تک 8لاکھ غیر قانونی سمیں بند کی جاچکی ہیں۔
3جی ٹیکنالوجی کے لائسنس کے اجرأ کے بعد اب جلد اس حوالے سے سموں کی بندش کاکام تیز کردیا جائے گا ۔ بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے انسداد بھتہ سیل کو ضلعی سطح پر فعال کیا جائے گا ۔ نواز شریف نے قائم علی شاہ کو شگفتہ پیرائے میں یاد دلایا کہ وہ بطور ٹیم کپتان کراچی آپریشن کو ٹیسٹ میچ کے بجائے ٹی ٹونٹی میچ کی شکل دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی معاشی شہ رگ ہے یہاں امن کے لیے کسی اقدام سے دریغ نہیں کرنا چاہیے ۔ ڈی جی رینجرز نے اپنی غیر مبہم بریفنگ میں بتایا کہ کراچی میں نقص امن پیدا کرنے میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا، کالعدم تنظیموں اور بعض سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا بڑا ہاتھ ہے ۔
رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں سے کراچی میں جرائم کا گراف کرنے لگا ہے ، ضرورت اس ٹمپو کو قائم رکھنے کی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات نے کہا کہ غیر قانونی سمیں بند کرنے سے 50فیصد جرائم کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ سیاسی رہنمائوں سے ملاقات میں نواز شریف نے کہا کہ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کو سیاسی چھتری استعمال نہیں کرنے دینگے ۔ امن کے لیے ہر ایک سے ہاتھ ملانے کو تیار ہوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دیناچاہیے ۔ فوج کا مورال ہرگز کم نہیں ہونے دیا جائے گا اور کراچی کو برے وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
یہ کمٹمنٹ پوری ہونی چاہیے۔ منی پاکستان میں امن، ترقی، خوشحالی ، سرمایہ کاری، انصاف اور بھائی چارے کے سارے خوب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوسکتے ہیں جب ارباب اختیار منی پاکستان میں امن کے قیام کا اصل ہدف حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔دہشت گردوں نے شہر قائد سے بھرپور انتقام لیا ہے، واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار ٹم کریگ کی کراچی کی مخدوش صورتحال پر4 فروری2014 ء کی جامع رپورٹ چشم کشا تھی ،جس میں انھوں نے کہا کہ شہر پر خوف کا پہرہ ہے۔ لگژری اپارٹمنٹس کی کھڑکیوں کے شیشے تک بلٹ پروف ہوگئے ہیں،صحافی بھی اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ ساتھ رکھتے ہیں، ان کی رپورٹ کے مطابق 3251 افراد دہشت گردی کی نذر ہوگئے تھے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ منی پاکستان میں امن کا پرچم سر بلند اور بدامنی پر مامور گمراہ قوتوں کو سرنڈر کرنا پڑے گا۔
عسکری اور انٹیلی جنس ادارے کراچی پولیس اور رینجرز کو مکمل معاونت اور تعاون فراہم کریں گے ۔ اجلاس میں سابق صدر آصف زرداری،آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلی قائم علی شاہ، وزیر داخلہ چوہدری نثار، سربراہ آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام ،کورکمانڈر کراچی، ڈی جی آئی بی، وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ سندھ ، ڈی جی رینجرز اور قائم مقام آئی جی سندھ ، ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی ، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن ، اے این پی کے شاہی سید اور مسلم لیگ (ن) کے سلیم ضیا نے بھی شرکت کی ۔
بلاشبہ کراچی (منی پاکستان) میں قتل و غارت ، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری، سرکاری اراضی پر قبضہ گیری اور جرائم پیشہ مافیاز کا مکمل صفایا کرنے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت میں اتفاق رائے ایک اہم اور سنجیدہ پیش رفت ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ، اور اس فکری ہم آہنگی سے ان سر کش اور امن دشمن عناصر اور افواہ ساز حلقوں تک یہ واضح اور دو ٹوک پیغام اب پہنچنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے کہ سیاسی اور عسکری قیادت میں کوئی اختلاف اور کشیدگی نہیں، ان کی مشترکہ حکمت عملی سے منی پاکستان میں جاری بدامنی کا خاتمہ اب دنوں کی بات ہے ۔ یہ صائب انداز نظر ہے جس کے تحت کراچی آپریشن سے اختلاف رکھنے والی بعض جماعتوں کے تحفظات کو مد نظر رکھا گیا ، وزیراعظم سے متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے بر وقت ملاقات کرکے مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔
یہ اعلان خوش آیند ہے کہ کراچی آپریشن ٹیم تبدیل نہیں کی جائے گی ۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی تیز کریک ڈائون کیا جائے گا جب کہ وزیراعظم نے آپریشن کے دوران شکایات کے ازالے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اجلاس میں غیر قانونی سموں کی بندش کے لیے وفاقی سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی جو ایک ماہ میں غیر قانونی موبائل سموں کی بندش اور بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کرے گی ۔ وزیراعظم نے سندھ رینجرز میں میں مزید بھرتی، انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو 15 روز میں ملیر کینٹ منتقل، سندھ کے پانچوں ڈویژن میں ہائی سیکیورٹی جیلیں تعمیر کرنے، پولیس کو جدید وسائل فراہم کرنے اور سی سی ٹی وی کیمروں کا دائرہ کار بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں کارروائی کے دوران انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا کسی بھی قسم کا ردعمل سامنے آسکتا ہے ۔ اس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا اور امن وامان کے قیام کے لیے ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جو انفرادی خواہشات سے بالاتر ہو ۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ کراچی میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے لیے فوری مہم شروع کی جائے ۔ ان ہدایات پر عملدرآمد کے جس جرات، تدبر، جوش و جذبہ اور ایمان کی ضرورت ہے اس کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں کوئی کمی نہیں تاہم اسلحہ کی بازیابی بنیادی کام ہے۔کراچی کو مقتل محض اسلحہ کی بنیاد پر بنایا گیا ہے، غیرقانونی سمیں اور اسلحہ برآمد کیا گیا تو جرائم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھم سکتا ہے ۔حکومت کو ابھی نہیں تو کبھی نہیں ( Now or Never) کے راست اقدام جیسے کریک ڈائون سے جلد نتائج حاصل کرنا ہوں گے۔
کراچی آپریشن پر اعتراضات بلاجواز نہیں مگر کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ مسلسل کارروائی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ بدنام ترین جرائم پیشہ افراد اور کراچی کے معاشی مرکز کو دیدہ و دانستہ تباہ و برباد کرنے والے ماسٹر مائنڈز راہ فرار اختیار کرچکے ہیں یا اسی شہر میں روپوش ہیں، اس لیے وزیراعظم نے جرائم میں ملوث ہر قسم کی مافیاز کی تفصیلات طلب کرنے کے جو احکامات جاری کردیے ہیں ان کی ہدایت کے تحت گینگ وار کمانڈروں اور کارندوں کے ریڈ وارنٹ جلد جاری کروائے جائیں۔اس ضمن میں حساس ادارے منشیات کی تجارت، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ، گینگ وار ، اغوا برائے تاوان، اور سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی فہرستیں جلد وفاقی حکومت کے حوالے کردیں تاکہ ان کا قلع قمع کرنے کی کارروائی نتیجہ خیز ثابت ہو ۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ 2008 سے اب تک 8لاکھ غیر قانونی سمیں بند کی جاچکی ہیں۔
3جی ٹیکنالوجی کے لائسنس کے اجرأ کے بعد اب جلد اس حوالے سے سموں کی بندش کاکام تیز کردیا جائے گا ۔ بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے انسداد بھتہ سیل کو ضلعی سطح پر فعال کیا جائے گا ۔ نواز شریف نے قائم علی شاہ کو شگفتہ پیرائے میں یاد دلایا کہ وہ بطور ٹیم کپتان کراچی آپریشن کو ٹیسٹ میچ کے بجائے ٹی ٹونٹی میچ کی شکل دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی معاشی شہ رگ ہے یہاں امن کے لیے کسی اقدام سے دریغ نہیں کرنا چاہیے ۔ ڈی جی رینجرز نے اپنی غیر مبہم بریفنگ میں بتایا کہ کراچی میں نقص امن پیدا کرنے میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا، کالعدم تنظیموں اور بعض سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا بڑا ہاتھ ہے ۔
رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں سے کراچی میں جرائم کا گراف کرنے لگا ہے ، ضرورت اس ٹمپو کو قائم رکھنے کی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات نے کہا کہ غیر قانونی سمیں بند کرنے سے 50فیصد جرائم کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ سیاسی رہنمائوں سے ملاقات میں نواز شریف نے کہا کہ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کو سیاسی چھتری استعمال نہیں کرنے دینگے ۔ امن کے لیے ہر ایک سے ہاتھ ملانے کو تیار ہوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دیناچاہیے ۔ فوج کا مورال ہرگز کم نہیں ہونے دیا جائے گا اور کراچی کو برے وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
یہ کمٹمنٹ پوری ہونی چاہیے۔ منی پاکستان میں امن، ترقی، خوشحالی ، سرمایہ کاری، انصاف اور بھائی چارے کے سارے خوب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوسکتے ہیں جب ارباب اختیار منی پاکستان میں امن کے قیام کا اصل ہدف حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔دہشت گردوں نے شہر قائد سے بھرپور انتقام لیا ہے، واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار ٹم کریگ کی کراچی کی مخدوش صورتحال پر4 فروری2014 ء کی جامع رپورٹ چشم کشا تھی ،جس میں انھوں نے کہا کہ شہر پر خوف کا پہرہ ہے۔ لگژری اپارٹمنٹس کی کھڑکیوں کے شیشے تک بلٹ پروف ہوگئے ہیں،صحافی بھی اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ ساتھ رکھتے ہیں، ان کی رپورٹ کے مطابق 3251 افراد دہشت گردی کی نذر ہوگئے تھے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ منی پاکستان میں امن کا پرچم سر بلند اور بدامنی پر مامور گمراہ قوتوں کو سرنڈر کرنا پڑے گا۔