کراچی حصص مارکیٹ تیزی کی بڑی لہر 315 پوائنٹس کا اضافہ

ڈسکاؤنٹ ریٹ نہ بڑھنے کی توقع پرزبردست خریداری،انڈیکس3حدیں پھلانگ کر 28 ہزار 843 پوائنٹس پر جاپہنچا

ڈسکاؤنٹ ریٹ نہ بڑھنے کی توقع پرزبردست خریداری،انڈیکس3حدیں پھلانگ کر 28 ہزار 843 پوائنٹس پر جاپہنچا۔ فوٹو: اے ایف پی

ایم ایس سی آئی انڈیکس میں مزید4 پاکستانی کمپنیوں کی شمولیت اور نئی مانیٹری پالیسی میں ڈسکائونٹ ریٹ نہ بڑھنے کی توقعات کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کوتیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 28600 ،28700 اور28800 پوائنٹس کی 3 حدیں بیک وقت بحال ہوگئیں۔


تیزی کے سبب 63 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میںمزید74 ارب39 کروڑ12 لاکھ42 ہزار370 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ قبل ازبجٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری رحجان محدود ہوگیا ہے اور مختصرمدتی سرمایہ کاری بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اچانک تیزی اور مندی آ جاتی ہے اور انہی عوامل کی وجہ سے چھوٹے سرمایہ کار مارکیٹ سے غائب ہوگئے ہیں، کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر415.88 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی28900 کی حد بھی عبور ہوگئی تھی کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے73 لاکھ39 ہزار813 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 1لاکھ50 ہزارڈالرکی تازہ سرمایہ کاری کی گئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر74 لاکھ89 ہزار824 ڈالرمالیت کے سرمائے کے انخلاسے تیزی کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 314.83 پوائنٹس کے اضافے سے28843.02 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس111.21 پوائنٹس کے اضافے سے19933.86 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 495.17 پوائنٹس کے اضافے سے 45878.36 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 96.19 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر21 کروڑ 37 لاکھ44 ہزار520 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 372 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں234 کے بھائو میں اضافہ، 120 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story