جیو نے دانستہ گستاخی کی اس کے اینکر مسخرے ہیںعباس کمیلی
جیو انعام گھر، رمضان فلاں فلاں کے نام پر ریٹنگ بڑھانے کیلئے پورے رمضان گستاخیاں اور توہین کرتے ہیں، عباس کمیلی
جیو انعام گھر، رمضان فلاں فلاں کے نام پر ریٹنگ بڑھانے کیلئے پورے رمضان گستاخیاں اور توہین کرتے ہیں، عباس کمیلی فوٹو: پی آئی ڈی/فائل
جعفریہ الائنس کے رہنما علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ جیو نے دانستہ گستاخی کی۔
جیو، جنگ گروپ اسی گستاخیاں کرنے کا عادی مجرم ہے۔ وہ یوم علیؓ پرایسے واہیات پروگرام کی بجائے کوئی اور پروگرام نہیں کرسکتے تھے ۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہرجرم کی معافی نہیں ہوتی، بعض جرائم پر مظلوم معاف کردیتا ہے تاہم جہاں تک شان رسالتؐ اوراہل بیتؓ کے حوالے سے گستاخی کامعاملہ ہے تواس پر معافی صرف وہی دے سکتے ہیں کوئی اور نہیں۔ جیو نے مسخرے اینکر رکھے ہوئے ہیں، جوانعام گھر، رمضان فلاں فلاں کے نام پر ریٹنگ بڑھانے کیلئے پورے رمضان میں گستاخیاں اور توہین کرتے ہیں۔ پیمرا تازہ گستاخی پرفوری کارروائی کرے، اس نے کچھ دن قبل ایک اور چینل کو5روزتک اس پاداش میں بند رکھاکیونکہ اس کے پروگرام میں شریک ایک مہمان نے غلط جملہ بولاتھاجبکہ جیونے تواتنی بڑی گستاخی کی ہے،جس پرمالکان اورانتظامیہ ذمہ دارہے۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ جیو نے اس سے پہلے بھی سرخ لائن عبورکی۔
مارننگ شو میں توہین آمیز مواد کی شمولیت کی ذمہ داری جنگ گروپ کے مالکان اور انتظامیہ پرعائد ہوتی ہے۔ شعائر اسلام کی گستاخی پر اس چینل کو بند ہوجانا چاہئے، اس کے علاوہ اورکوئی حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا گروپ معافی مانگنے میں سنجیدہ ہوتا تو پروگرام نشرہونے کے فوری بعد اس کے منتظمین کوفوری نکال دیا جاتا اور ادارہ وضاحت جاری کرتا کہ اس پروگرام کا ادارے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ مگر شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کے بعد وہ ادارہ رات گئے تک مجرمانہ طور پر خاموش رہا، انہیں قرار واقعی سزادی جانا چاہئے۔ تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے کہا کہ جیوکے توہین آمیز پروگرام کے ذمہ دار یقیناًاس کے مالکان ہیں۔ انھوں نے پروگرام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے 8 نکات پیش کئے۔1،عوام کی عدالت جیوکا بائیکاٹ کرے۔2، اس چینل پراشتہارات چلوانے والی مصنوعات کا بھی بائیکاٹ کیا جائے۔3،ضابطہ اخلاق مرتب ہوناچاہیئے۔4،خودمختار ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے۔
5،معاملہ عدالت میں جاناچاہیئے۔6،ایف آئی آرکاٹی جائے۔7،پیمراکارروائی کرے ورنہ عوام مشتعل ہونگے۔8،حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہاکہ سیاستدانوں کے کارٹون وغیرہ بننا تومعمول کی کارروائی ہے جو قابل معافی ہے تاہم ایک ادارے کے حوالے سے اس چینل نے پچھلے دنوں جوکچھ دکھایا،اس پرحکومت خاموش نہیں بلکہ قانونی تقاضے پورے کئے جارہے ہیں۔اس کی معافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے جیو ٹی وی پربدھ کو چلنے والے پروگرام کے متعلق کارروائی کے حوالے سے سوال پر کہا کہ تمام اہل مذاہب کو یہ پروگرام دیکھ کر شرمندگی ہوئی ہوگی۔
جیو، جنگ گروپ اسی گستاخیاں کرنے کا عادی مجرم ہے۔ وہ یوم علیؓ پرایسے واہیات پروگرام کی بجائے کوئی اور پروگرام نہیں کرسکتے تھے ۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہرجرم کی معافی نہیں ہوتی، بعض جرائم پر مظلوم معاف کردیتا ہے تاہم جہاں تک شان رسالتؐ اوراہل بیتؓ کے حوالے سے گستاخی کامعاملہ ہے تواس پر معافی صرف وہی دے سکتے ہیں کوئی اور نہیں۔ جیو نے مسخرے اینکر رکھے ہوئے ہیں، جوانعام گھر، رمضان فلاں فلاں کے نام پر ریٹنگ بڑھانے کیلئے پورے رمضان میں گستاخیاں اور توہین کرتے ہیں۔ پیمرا تازہ گستاخی پرفوری کارروائی کرے، اس نے کچھ دن قبل ایک اور چینل کو5روزتک اس پاداش میں بند رکھاکیونکہ اس کے پروگرام میں شریک ایک مہمان نے غلط جملہ بولاتھاجبکہ جیونے تواتنی بڑی گستاخی کی ہے،جس پرمالکان اورانتظامیہ ذمہ دارہے۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ جیو نے اس سے پہلے بھی سرخ لائن عبورکی۔
مارننگ شو میں توہین آمیز مواد کی شمولیت کی ذمہ داری جنگ گروپ کے مالکان اور انتظامیہ پرعائد ہوتی ہے۔ شعائر اسلام کی گستاخی پر اس چینل کو بند ہوجانا چاہئے، اس کے علاوہ اورکوئی حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا گروپ معافی مانگنے میں سنجیدہ ہوتا تو پروگرام نشرہونے کے فوری بعد اس کے منتظمین کوفوری نکال دیا جاتا اور ادارہ وضاحت جاری کرتا کہ اس پروگرام کا ادارے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ مگر شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کے بعد وہ ادارہ رات گئے تک مجرمانہ طور پر خاموش رہا، انہیں قرار واقعی سزادی جانا چاہئے۔ تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے کہا کہ جیوکے توہین آمیز پروگرام کے ذمہ دار یقیناًاس کے مالکان ہیں۔ انھوں نے پروگرام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے 8 نکات پیش کئے۔1،عوام کی عدالت جیوکا بائیکاٹ کرے۔2، اس چینل پراشتہارات چلوانے والی مصنوعات کا بھی بائیکاٹ کیا جائے۔3،ضابطہ اخلاق مرتب ہوناچاہیئے۔4،خودمختار ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے۔
5،معاملہ عدالت میں جاناچاہیئے۔6،ایف آئی آرکاٹی جائے۔7،پیمراکارروائی کرے ورنہ عوام مشتعل ہونگے۔8،حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہاکہ سیاستدانوں کے کارٹون وغیرہ بننا تومعمول کی کارروائی ہے جو قابل معافی ہے تاہم ایک ادارے کے حوالے سے اس چینل نے پچھلے دنوں جوکچھ دکھایا،اس پرحکومت خاموش نہیں بلکہ قانونی تقاضے پورے کئے جارہے ہیں۔اس کی معافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے جیو ٹی وی پربدھ کو چلنے والے پروگرام کے متعلق کارروائی کے حوالے سے سوال پر کہا کہ تمام اہل مذاہب کو یہ پروگرام دیکھ کر شرمندگی ہوئی ہوگی۔