سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود او پی ایس افسران کو نہیں ہٹایا گیا
سپریم کورٹ نے 9مئی2014 کوسندھ حکومت کو تمام اوپی ایس افسران ایک ہفتے کے اندرہٹانے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے 9مئی2014 کوسندھ حکومت کو تمام اوپی ایس افسران ایک ہفتے کے اندرہٹانے کا حکم دیا تھا۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکام کے باوجود جمعرات تک او پی ایس افسران کو عملاًنہیں ہٹایاگیا۔
باخبر ذرائع سے معلوم ہواہے کہ مختلف محکموں نے800سے زائداو پی ایس افسران کوہٹانے کے نوٹیفکیشنزجاری کردیے گئے ہیں لیکن اب تک یہ افسران اپنے عہدوں پرموجودہیں اور کسی کوبھی انفرادی طورپر عہدہ چھوڑنے کیلیے نہیں کہاگیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے9مئی2014کوسندھ حکومت کویہ حکم دیا تھا کہ تمام اوپی ایس افسران ایک ہفتے کے اندرہٹادیے جائیں،12مئی کو چیف سیکریٹری سندھ کی طرف سے تمام محکموں کویہ خط لکھاگیا تھا کہ15 مئی تک تمام او پی ایس افسران اور ملازمین کو ہٹادیا جائے اور گریڈ 19 اور 20 کے افسران کی فہرست محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (ایس اینڈ جی اے ڈی) کو ارسال کردی جائے تاکہ ایس اینڈ جی اے ڈی انہیں ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کرسکے۔
حکومت سندھ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دو تین محکموں کے سوا باقی تمام محکموں اور اداروں نے او پی ایس افسران اور ملازمین کو ہٹانے کے نوٹیفکیشنز جاری کردیئے ہیں اور ان کی کاپیاں ایس اینڈ جی اے ڈی کو ارسال کردی ہیں جبکہ گریڈ19 اور 20 کے افسران کی فہرستیں بھی ایس اینڈ جی اے ڈی کو مل گئی ہیں لیکن رات گئے تک انہیں ہٹانے کانوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا،ذرائع نے بتایا ہے کہ محکموں نے اپنے طور پر جن او پی ایس افسروں اور ملازمین کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
وہ بھی ابھی تک اپنے عہدوں پر موجود ہیں،ذرائع نے بتایا کہ حکومت سندھ نے جمعرات تک سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف نظرثانی کی بھی کوئی درخواست دائر نہیں کی اور نہ ہی بعض او پی ایس افسران کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کو کوئی جواز پیش کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت سندھ جمعہ کو سپریم کورٹ کو اس کے احکام پر عملدرآمد کے حوالے سے رپورٹ پیش کرسکتی ہے۔ دریں اثنامحکمہ داخلہ سندھ نے رات گئے صوبے کے5ڈویژن کی جیلوں میں تعینات تمام او پی ایس افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹاکر سینئر افسران کو تعینات کردیاہے ۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکام کے باوجود جمعرات تک او پی ایس افسران کو عملاًنہیں ہٹایاگیا۔
باخبر ذرائع سے معلوم ہواہے کہ مختلف محکموں نے800سے زائداو پی ایس افسران کوہٹانے کے نوٹیفکیشنزجاری کردیے گئے ہیں لیکن اب تک یہ افسران اپنے عہدوں پرموجودہیں اور کسی کوبھی انفرادی طورپر عہدہ چھوڑنے کیلیے نہیں کہاگیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے9مئی2014کوسندھ حکومت کویہ حکم دیا تھا کہ تمام اوپی ایس افسران ایک ہفتے کے اندرہٹادیے جائیں،12مئی کو چیف سیکریٹری سندھ کی طرف سے تمام محکموں کویہ خط لکھاگیا تھا کہ15 مئی تک تمام او پی ایس افسران اور ملازمین کو ہٹادیا جائے اور گریڈ 19 اور 20 کے افسران کی فہرست محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (ایس اینڈ جی اے ڈی) کو ارسال کردی جائے تاکہ ایس اینڈ جی اے ڈی انہیں ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کرسکے۔
حکومت سندھ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دو تین محکموں کے سوا باقی تمام محکموں اور اداروں نے او پی ایس افسران اور ملازمین کو ہٹانے کے نوٹیفکیشنز جاری کردیئے ہیں اور ان کی کاپیاں ایس اینڈ جی اے ڈی کو ارسال کردی ہیں جبکہ گریڈ19 اور 20 کے افسران کی فہرستیں بھی ایس اینڈ جی اے ڈی کو مل گئی ہیں لیکن رات گئے تک انہیں ہٹانے کانوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا،ذرائع نے بتایا ہے کہ محکموں نے اپنے طور پر جن او پی ایس افسروں اور ملازمین کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
وہ بھی ابھی تک اپنے عہدوں پر موجود ہیں،ذرائع نے بتایا کہ حکومت سندھ نے جمعرات تک سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف نظرثانی کی بھی کوئی درخواست دائر نہیں کی اور نہ ہی بعض او پی ایس افسران کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کو کوئی جواز پیش کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت سندھ جمعہ کو سپریم کورٹ کو اس کے احکام پر عملدرآمد کے حوالے سے رپورٹ پیش کرسکتی ہے۔ دریں اثنامحکمہ داخلہ سندھ نے رات گئے صوبے کے5ڈویژن کی جیلوں میں تعینات تمام او پی ایس افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹاکر سینئر افسران کو تعینات کردیاہے ۔