چند خوش کن خبریں
ابھی پھول کو جی بھر کر دیکھا ہی نہیں تھا کہ بہار ختم ہو گئی اور بہار کے ختم ہوتے ہی پھول بھی مُرجھا گیا۔
Abdulqhasan@hotmail.com
آج بروز جمعرات 15 مئی 2014ء کے اخبارات اس پاکستان کے نہیں تھے جو کل تک تھا یا پرسوں تک جو خبریں آج کے اخباروں میں موجود تھیں ایسی خبریں مدتوں بعد دیکھنی پڑھنی نصیب ہوئیں یا ایک ساتھ تو شاید یہ خبریں ہماری قسمت میں نہیں تھیں۔ اب میں ان خبروں کی صرف سرخیاں پیش خدمت کرتا ہوں حسب عادت ان پر تبصرے کی ضرورت نہیں یا گنجائش نہیں کہ یہ خبریں خود ہی سب کچھ ہیں۔ تبصرے تجزیے سب ان خبروں میں موجود ہیں۔
٭کراچی آپریشن کے فیصلہ کن مرحلے کی منظوری۔ وزیر اعظم نواز شرف کی صدارت میں سیاسی و عسکری قیادت کا اجلاس۔ آپریشن کی مشترکہ نگرانی اور کوئی دبائو قبول نہ کرنے کا فیصلہ۔ عسکری اور سیاسی قیادت کا ہر حال میں امن قائم کرنے کا فیصلہ۔ آپریشن کا ردعمل آ سکتا ہے اس کے لیے تیار رہنا ہو گا، وزیر اعظم۔ یہ خبر جاری ہے اور سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ وہ اس کے لیے وزارت داخلہ کی ہر مدد کے لیے تیار ہیں۔
٭ آرمی چیف نے کہا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا ہے سیاسی جماعتوں اور جمہوریت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، امن کے لیے حکومتوں سے مکمل تعاون اور ہر ممکن مدد کریں گے۔
٭سپریم کورٹ:اربوں روپے بے مصرف پڑے ہیں حکومت جگہ جگہ بھیک مانگ رہی ہے۔ لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں اور گندم چوہے کھا رہے ہیں۔ جمہوریت اس طرح نہیں چلتی۔
٭کراچی میں امن کے لیے فوج کا مورال کم نہیں ہونے دیں گے۔ آپریشن میں سیاسی دبائو قبول نہیں ہو گا۔
٭شیخ رشید احمد نے بتایا کہ دہشت گردوں نے اسلام آباد میں پہاڑوں سے اتر کر پارلیمنٹ ہائوس اور وزیر اعظم ہائوس تک آنے کی مشق کر لی ہے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز اس طرح کی غیر روایتی صورت حال کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔ طالبان کا کوئی مایوس گروپ کسی بڑی شخصیت کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
٭ ان تمام خبروں میں ایک بات مشترک ہے کہ حکومت اور فوج دونوں قومی ادارے ملک کے تحفظ اور سلامتی کے لیے متفق اور یک زبان ہیں۔
یہ تمام خبریں جو ایک دن میں ایک ساتھ چھپی ہیں اور دوسرے دن بھی کسی طرف سے کوئی وضاحت وغیرہ نہیں۔ قوم کے لیے بڑی خوش خبری ہیں اب قوم ان خبروں میں جو ارادے ظاہر کیے گئے ان کا انتظار کرے گی اور میڈیا کے خواتین و حضرات بھی فی الوقت خاموش رہیں گے کیونکہ یہ کاروباری نہیں قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
اب میں ایک ایسی خبر کا ذکر کرتا ہوں جو میری محرومی کی خبر ہے۔ قوم مذکورہ خبروں سے خوش رہے لیکن میں اس خبر سے غمزدہ ہوں خبر کی سرخی یہ ہے کہ وینا ملک پاکستان میں ایک پروگرام کرنے کے بعد اچانک غائب ہو گئی ہیں بمعہ اپنے شوہر کے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ وینا ملک جیو کے مارننگ شو میں اپنی شادی کی تقریب کے دوران گائی جانے والی ایک متنازعہ قوالی پر شدید عوامی ردعمل کے پیش نظر اپنے شوہر سمیت غائب ہو گئی ہیں۔ اس شو کے بعد سخت خطرناک حالات کی وجہ سے اپنے شوہر اسد کو لے کر غائب ہو گئی۔ اس خبر پر میرا تبصرہ صرف اتنا ہے جو ایک فارسی شاعر کے اس مصرعے میں بیان کیا گیا کہ
روئے گل سیر ندیدم کہ بہار آخر شد
ابھی پھول کو جی بھر کر دیکھا ہی نہیں تھا کہ بہار ختم ہو گئی اور بہار کے ختم ہوتے ہی پھول بھی مُرجھا گیا۔ وینا ملک نے اپنی مشہور زمانہ بے باکی سے بڑی شہرت حاصل کی اور اس شہرت میں ایک دولت مند نوجوان کو بھی اپنے جسم کے خدوخال کا شکار کر لیا لیکن وہ یہ اندازہ نہ کر سکی کہ وہ پاکستانی ہے جہاں بہت پابندیاں ہیں اور جسم کی یہاں وہ موج نہیں جو بھارت میں ہے۔ میں اپنی عمر کے دوستوں کے ہمراہ پروگرام بنا رہا تھا کہ اس پاکستانی حسینہ کا نظارہ کیا جائے یہ کیا بات ہوئی کہ حسینہ ہماری اور مزے کوئی اور لوٹے لیکن اپنی اپنی قسمت ہمارے ہاں ہمیں یہ نظارے نصیب نہ ہو سکے اور ہم دوسروں کا منہ دیکھتے رہ گئے۔
یہ تو ایک غیر اسلامی دنیا کی خبر تھی اب ایک خالص اسلامی خبر ملاحظہ فرمائیے اور اس کی تصویر بھی چھپی ہے۔ جناب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے جامعہ اشرفیہ کے فضلا کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی ہیں۔ کوئی چھ سات علماء یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کا ایک مشہور و معروف اور قابل احترام دینی تعلیم کا ادارہ ہے۔ یہاں لاہور میں اس ادارے کی بنیاد حضرت مفتی احمد حسن نے رکھی تھی جو امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور تشریف لائے تھے یہاں انھوں نے نیلا گنبد مسجد اور اس سے ملحقہ عمارت میں تعلیم و تدریس کا یہ ادارہ قائم کیا اور جو روایت ہم تک پہنچی ہے، اس میں چندہ لینے سے منع کیا گیا تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ دین کی تدریس دنیاوی خرخشوں سے پاک ہو اور اس بات کا ذکر کرنے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ علماء نے حکمرانوں اور دولت مندوں سے ہمیشہ دوری اختیار کی جس کی لا تعداد ایمان افروز مثالیں موجود ہیں مگر جس طرح آج جامعہ اشرفیہ چندہ وصول کرتی ہے اسی طرح وہ صاحبان اقتدار اور دولت مند لوگوں کی خدمت میں بھی حاضر ہوتی ہے۔ لگتا ہے ہماری قسمت میں بس یہی کچھ ہے جو مل رہا ہے۔
٭کراچی آپریشن کے فیصلہ کن مرحلے کی منظوری۔ وزیر اعظم نواز شرف کی صدارت میں سیاسی و عسکری قیادت کا اجلاس۔ آپریشن کی مشترکہ نگرانی اور کوئی دبائو قبول نہ کرنے کا فیصلہ۔ عسکری اور سیاسی قیادت کا ہر حال میں امن قائم کرنے کا فیصلہ۔ آپریشن کا ردعمل آ سکتا ہے اس کے لیے تیار رہنا ہو گا، وزیر اعظم۔ یہ خبر جاری ہے اور سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ وہ اس کے لیے وزارت داخلہ کی ہر مدد کے لیے تیار ہیں۔
٭ آرمی چیف نے کہا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا ہے سیاسی جماعتوں اور جمہوریت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، امن کے لیے حکومتوں سے مکمل تعاون اور ہر ممکن مدد کریں گے۔
٭سپریم کورٹ:اربوں روپے بے مصرف پڑے ہیں حکومت جگہ جگہ بھیک مانگ رہی ہے۔ لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں اور گندم چوہے کھا رہے ہیں۔ جمہوریت اس طرح نہیں چلتی۔
٭کراچی میں امن کے لیے فوج کا مورال کم نہیں ہونے دیں گے۔ آپریشن میں سیاسی دبائو قبول نہیں ہو گا۔
٭شیخ رشید احمد نے بتایا کہ دہشت گردوں نے اسلام آباد میں پہاڑوں سے اتر کر پارلیمنٹ ہائوس اور وزیر اعظم ہائوس تک آنے کی مشق کر لی ہے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز اس طرح کی غیر روایتی صورت حال کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔ طالبان کا کوئی مایوس گروپ کسی بڑی شخصیت کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
٭ ان تمام خبروں میں ایک بات مشترک ہے کہ حکومت اور فوج دونوں قومی ادارے ملک کے تحفظ اور سلامتی کے لیے متفق اور یک زبان ہیں۔
یہ تمام خبریں جو ایک دن میں ایک ساتھ چھپی ہیں اور دوسرے دن بھی کسی طرف سے کوئی وضاحت وغیرہ نہیں۔ قوم کے لیے بڑی خوش خبری ہیں اب قوم ان خبروں میں جو ارادے ظاہر کیے گئے ان کا انتظار کرے گی اور میڈیا کے خواتین و حضرات بھی فی الوقت خاموش رہیں گے کیونکہ یہ کاروباری نہیں قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
اب میں ایک ایسی خبر کا ذکر کرتا ہوں جو میری محرومی کی خبر ہے۔ قوم مذکورہ خبروں سے خوش رہے لیکن میں اس خبر سے غمزدہ ہوں خبر کی سرخی یہ ہے کہ وینا ملک پاکستان میں ایک پروگرام کرنے کے بعد اچانک غائب ہو گئی ہیں بمعہ اپنے شوہر کے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ وینا ملک جیو کے مارننگ شو میں اپنی شادی کی تقریب کے دوران گائی جانے والی ایک متنازعہ قوالی پر شدید عوامی ردعمل کے پیش نظر اپنے شوہر سمیت غائب ہو گئی ہیں۔ اس شو کے بعد سخت خطرناک حالات کی وجہ سے اپنے شوہر اسد کو لے کر غائب ہو گئی۔ اس خبر پر میرا تبصرہ صرف اتنا ہے جو ایک فارسی شاعر کے اس مصرعے میں بیان کیا گیا کہ
روئے گل سیر ندیدم کہ بہار آخر شد
ابھی پھول کو جی بھر کر دیکھا ہی نہیں تھا کہ بہار ختم ہو گئی اور بہار کے ختم ہوتے ہی پھول بھی مُرجھا گیا۔ وینا ملک نے اپنی مشہور زمانہ بے باکی سے بڑی شہرت حاصل کی اور اس شہرت میں ایک دولت مند نوجوان کو بھی اپنے جسم کے خدوخال کا شکار کر لیا لیکن وہ یہ اندازہ نہ کر سکی کہ وہ پاکستانی ہے جہاں بہت پابندیاں ہیں اور جسم کی یہاں وہ موج نہیں جو بھارت میں ہے۔ میں اپنی عمر کے دوستوں کے ہمراہ پروگرام بنا رہا تھا کہ اس پاکستانی حسینہ کا نظارہ کیا جائے یہ کیا بات ہوئی کہ حسینہ ہماری اور مزے کوئی اور لوٹے لیکن اپنی اپنی قسمت ہمارے ہاں ہمیں یہ نظارے نصیب نہ ہو سکے اور ہم دوسروں کا منہ دیکھتے رہ گئے۔
یہ تو ایک غیر اسلامی دنیا کی خبر تھی اب ایک خالص اسلامی خبر ملاحظہ فرمائیے اور اس کی تصویر بھی چھپی ہے۔ جناب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے جامعہ اشرفیہ کے فضلا کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی ہیں۔ کوئی چھ سات علماء یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کا ایک مشہور و معروف اور قابل احترام دینی تعلیم کا ادارہ ہے۔ یہاں لاہور میں اس ادارے کی بنیاد حضرت مفتی احمد حسن نے رکھی تھی جو امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور تشریف لائے تھے یہاں انھوں نے نیلا گنبد مسجد اور اس سے ملحقہ عمارت میں تعلیم و تدریس کا یہ ادارہ قائم کیا اور جو روایت ہم تک پہنچی ہے، اس میں چندہ لینے سے منع کیا گیا تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ دین کی تدریس دنیاوی خرخشوں سے پاک ہو اور اس بات کا ذکر کرنے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ علماء نے حکمرانوں اور دولت مندوں سے ہمیشہ دوری اختیار کی جس کی لا تعداد ایمان افروز مثالیں موجود ہیں مگر جس طرح آج جامعہ اشرفیہ چندہ وصول کرتی ہے اسی طرح وہ صاحبان اقتدار اور دولت مند لوگوں کی خدمت میں بھی حاضر ہوتی ہے۔ لگتا ہے ہماری قسمت میں بس یہی کچھ ہے جو مل رہا ہے۔