معاشی استحصال

جاگیر دارانہ نظام کے بعد اس استحصال کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام نے لی ۔۔۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد جب بجلی بحال ہوئی تو ٹی وی آن ہو گیا، ٹی وی پر صدر مملکت ممنون تقریر فرما رہے تھے،غالباً چنیوٹ کی ایک یونیورسٹی کیمپس کی کوئی تقریب تھی، موضوع علم کی اہمیت ہی ہو سکتا ہے، تقریر اختتام پر تھی، ہم اتفاق سے تقریر کے چند آخری جملے ہی سن سکے۔

لیکن یہ جملے اتنے اہم اور اپنے اندر اتنی معنویت رکھتے تھے کہ ہم ہمہ تن گوش ہوگئے صدر صاحب فرما رہے تھے کہ غربت اور امارت خدا کی عنایت کردہ ہوتی ہے وہ جس کو چاہے زیادہ دولت دے دیتا ہے، جس کو چاہے کم یہ سب خدا کے فیصلے ہوتے ہیں، جن میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اگر انسان قناعت پسند بن جائے اور جس کو جو مل رہا ہے اس پر قانع ہو جائے تو زندگی بڑی پرسکون ہو جاتی ہے اور دنیا امن کا گہوارہ بن جاتی ہے، ہو سکتا ہے صدر صاحب کی تقریر کے الفاظ میں تھوڑا بہت فرق ہو لیکن مفہوم بالکل وہی تھا جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔!

نواز شریف ہی نہیں بلکہ پارلیمانی جمہوریت کے ہر وزیر اعظم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے صدر کا انتخاب کرے جو محض نمائشی ہو کیونکہ پارلیمانی جمہوریت میں صدر کا عہدہ محض رسمی ہوتا ہے جس کا کام اہم قومی دنوں پر عوام سے خطاب (رسمی اور نان پولیٹیکل)، سفارت کاروں سے اسناد سفارت وصول کرنا اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ بلوں پر دستخط کرنے تک محدود ہوتا ہے وہ امور سلطنت سے دور رہتا ہے اور اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوتا۔

اس حوالے سے نواز شریف کے منتخب کردہ سابق صدر رفیق تارڑ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے محدود صدارتی اختیارات کا استعمال بھی بہت کنجوسی سے کرتے تھے، لیکن جب ہم موجودہ صدر ممنون حسین کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ممنون صاحب صدر کے نمائشی اختیارات اور فرائض سے ہٹ کر بہت زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں ملک کے اندر اور باہر اہم دورے کر رہے ہیں اور ملک کے اہم مسائل پر کھل کر اظہار خیال کر رہے ہیں جو ایک اچھی روایت ہے۔

ہم نے صدر کی غیر معمولی کارکردگی کا ذکر اس لیے برسبیل تذکرہ کر دیا کہ میاں صاحب کی دریا دلی کا اندازہ ہو سکے، صدر مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما رہے ہیں اور ان کے نظریات پر مسلم لیگ (ن) کی چھاپ ایک فطری بات ہے لیکن چنیوٹ کے یونیورسٹی کیمپ میں محترم نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ہم بڑی معذرت کے ساتھ اس سے اختلاف کرتے ہیں کہ غربت اور امارت خدا کی عنایت کردہ ہوتی ہے اور ہمیں اس پر قناعت کرتے ہوئے اپنی زندگی کو مطمئن اور دنیا کو پر امن بنانا چاہیے۔

ہمارے قومی کلچر کا یہ عجیب و غریب اعجاز ہے کہ ہم اپنی بہت ساری کمزوریوں کو چھپانے کے لیے خدا کا نام غلط طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی تفصیل اتنی لمبی چوڑی ہے کہ اس مختصر کالم میں اس کا احاطہ ممکن نہیں لیکن چونکہ صدر محترم نے ایک ایسی ہی بات کر دی ہے جو خدا کے اختیارات کی غلط تاویل ہے۔ لہٰذا ہم اس کا مختصراً جائزہ لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ اسے دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ کہنا غلط نہ ہو گا۔ کیوں کہ اس مسئلے کا براہ راست تعلق دنیا کے سات ارب انسانوں کی عذاب ناک زندگی سے ہے۔

دنیا میں غربت اور امارت اگرچہ ہزاروں سال پرانی ہے اور عوام کا معاشی استحصال کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ ہوتا رہا لیکن اس غربت اور امارت کو باضابطہ نظریاتی اور ادارتی شکل جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام میں دی گئی اور جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام خدا نے عوام پر مسلط نہیں کیے بلکہ یہ دونوں نظام ان ظالمانہ استحصالی قوتوں کے پیدا کردہ ہیں جو غریب کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتے ہیں۔ ماضی میں جب جاگیردارانہ نظام بہت مضبوط تھا اور پاکستان میں آج بھی مضبوط ہے جاگیردارانہ نظام بادشاہتوں کا متعارف کردہ ایک طفیلی نظام ہے، بادشاہی نظام میں انسانوں کو رعایا کے طور پر متعارف کرایا گیا۔


اس نظام میں رعایا کے کوئی حقوق نہیں ہوتے تھے، رعایا کا کام محض بادشاہ کی اطاعت اور وفاداری ہوتا تھا اس رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے بادشاہوں نے ایک زمینی اشرافیہ تخلیق کی جسے جاگیردار کا نام دیا گیا اور معاشرے میں اس طبقے کو اس قدر معزز بنا دیا گیا کہ ہاری اور کسان جو جاگیردار کی لاکھوں ایکڑ زمینوں کا سینہ چیر کر رات دن مشقت کر کے دولت کے انبار لگاتے ہیں اس دولت میں ان کا حصہ صرف غربت ہوتی ہے۔

بادشاہ، جاگیرداروں کو جو ہزاروں ایکڑ زمین از راہ عنایت عطا کیا کرتے تھے یہ ان کی خدمات کا معاوضہ ہوتی تھی اور وہ خدمات عوام سے بہ جبر ٹیکس وصول کرنا ضرورت کے وقت غریب عوام کو پکڑ کر فوج تیار کرنا اور رعایا پر بادشاہ کا کنٹرول برقرار رکھنا تھا اور اس کے لیے نظریاتی مدد مسجدوں سے فراہم کی جاتی تھی کہ غربت اور امارت خدا کی دین ہوتی ہے جس میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہوتا اس پُر فریب فلسفے کا اصل مقصد غربت کے معماروں کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنا اور انھیں عوام کے قہر و غضب سے بچانا ہوتا تھا۔ آج خود ہمارے ملک پر نظر ڈالیں آبادی کا 60 فی صد سے زیادہ حصہ غربت کے عذاب میں گرفتار نظر آئے گا کیونکہ ان کی محنت کا حاصل جاگیرداروں کی نذر ہو جاتا ہے، کیا اس غربت اور امارت کو خدا کا عطیہ کہا جا سکتا ہے۔

ایک مل یا کار خانے میں ہزاروں مزدور کام کرتے ہیں ان کی محنت سے اربوں روپے حاصل ہوتے ہیں لیکن ان محنت کشوں کو اتنا معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، ان کی محنت کا سارا حاصل سرمایہ دار صنعت کار اچک لیتا۔ کیا اس غربت اور امارت کو ہم خدا کا عطیہ کہہ سکتے ہیں؟ کھیتوں، کھلیانوں ملوں، کارخانوں میں محنت کشوں کی محنت سے جو دولت پیدا ہوتی ہے اگر اس کی تقسیم منصفانہ ہو تو پھر غربت کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ یعنی اصل مسئلہ غریب کی محنت سے حاصل ہونے والی دولت کی منصفانہ تقسیم کا ہے جسے اشرافیہ نے خدا اور قسمت کا نام دے کر عوام کو صبر و شکر کے ایسے دلدل میں دھکیل دیا جہاں سے وہ اس وقت تک باہر نہیں آ سکتا جب تک وہ اس سحر سے نہیں نکلتا۔

جاگیر دارانہ نظام کے بعد اس استحصال کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام نے لی۔ اس نظام میں غربت اور امارت کے درمیان فاصلہ اتنا بڑھا کہ دنیا 98/2 میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔ یہ طبقاتی تقسیم خواہ وہ جاگیردارانہ نظام کی پیدا کردہ ہو یا سرمایہ دارانہ نظام کی۔ دو فیصد استحصالی طبقات کے ہاتھوں میں قومی دولت کا 80 فی صد حصہ جمع کر دیتی ہے اور محض 20 فی صد دولت میں 80 فی صد عوام کو زندگی گزارنا پڑتی ہے جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ غربت ہی کی شکل میں نکلنا ہے۔

آج ترقی یافتہ ملکوں کے سروں کے مطابق ہر سال لاکھوں غریب بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں، لاکھوں بچے دودھ اور مناسب غذا کے فقدان کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں، لاکھوں خواتین زچگی کے دوران ناقص اور کم غذا کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہی ہیں، لاکھوں انسان علاج کی سہولتوں سے محرومی کی وجہ سے جان سے جا رہے ہیں، ابھی پچھلے دنوں تھر میں بھوک کی وجہ سے سیکڑوں بچے بڑے موت کا شکار ہو گئے۔ کیا ان المیوں کو ہم خدا کی مرضی اور قسمت کے کھیل کا نام دینے میں حق بجانب ہیں؟

ہمارے صدر مملکت ایک ذہین اور تعلیم یافتہ انسان ہیں۔ صدر محترم طبقاتی استحصال اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی غربت اور امارت کے فرق کے محرکات سے یقینا پوری طرح واقف ہوں گے۔ اگر وہ غربت اور امارت کو خدا کی مرضی اور قسمت کا کھیل کہیں تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔؟ غریب غربت کے خلاف جد و جہد سے لا علم رہے گا اور اس کی یہ لا علمی امارت کے استحکام کا ذریعہ بن جائے گی۔

ہو سکتا ہے عوام کی سادہ لوحی سے یہ طبقاتی استحصالی نظام جس کا خدا اور قسمت سے کوئی تعلق نہیں کچھ اور طول پکڑ جائے لیکن میڈیا اور اہل قلم کی کوششوں سے سادہ لوح عوام غربت اور امارت کے فرق اور وجوہات کو سمجھ رہے ہیں اگر انھیں ریاستی طاقت سے دبا کر رکھنے کی کوشش کی گئی تو ساری دنیا یا تو انقلاب فرانس کی اتباع کرنے پر مجبور ہو جائے گی یا پھر مشرق وسطیٰ کے راستے پر چل پڑے گی۔ یقینا صدر محترم ان تلخ حقائق کا ادراک رکھتے ہوں گے۔
Load Next Story