خسرہ سے بچاؤ کی مہم 19 مئی سے شروع کرنے کا اعلان 31 مئی تک جاری رہے گی
6ماہ سے10سال تک کے بچوں کوٹیکے لگائے جائینگے، رضاکاروں کیساتھ پولیس کے حفاظتی دستے بھی تعینات کیے جائیں گے
ایک کروڑ40لاکھ حفاظتی ٹیکے فراہم کردیے گئے، مہم میں 32ہزاررضاکارحصہ لیں گے،ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کرلی،ڈاکٹر ظفر اعجاز۔ فوٹو : فائل
صوبائی محکمہ صحت نے کراچی سمیت اندرون سندھ میں خسرہ سے بچاؤکیلیے حفاظتی ٹیکہ جات مہم شروع کرنے کااعلان کیا ہے،12روزہ مہم 19مئی سے شروع کی جائیگی جو31مئی تک جاری رہے گی۔
مہم کے دوران 6 ماہ سے10سال تک کے لڑکوں اورلڑکیوں کوخسرہ وائرس سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے لگائیں جائیں گے،کراچی سمیت سندھ میں ایک کروڑ30لاکھ بچوںکوخسرہ وائرس سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے لگائیں جائیں گے،مہم کے دوران رضاکاروں کومکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی غرض سے پولیس کے دستے بھی تعینات کیے جائیں گے، تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ صحت نے اندرون سندھ کے بعض اضلاع میں خسرہ کی بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظرہنگامی بنیادوں پر بچوں کو خسرہ وائرس سے بچاؤکیلیے حفاظتی ٹیکہ جات مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مہم وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے، بچوں کے توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر مظہر خمیسانی نے کراچی سمیت اندرون سندھ کے 9ماہ سے10سال تک کی عمرکے بچوں کو خسرہ وائرس سے محفوظ رکھنے کیلیے تمام اضلاع میں حفاظتی ٹیکے فراہم کردیے گئے،ای پی آئی نے کراچی میں مذکورہ عمر تک کے 44لاکھ سمیت اندرون سندھ کے بچوں کیلیے ایک کروڑ 40 لاکھ حفاطتی ٹیکے فراہم کردیے۔
ای ڈی او ہیلتھ کراچی ڈاکٹر ظفر اعجاز نے بتایاکہ کراچی سمیت سندھ کے بچوںکوخسرہ وائرس سے بچاؤکی مہم کے دوران نوزائیدہ بچوںکوانجکشن لگانے کیلیے تربیت یافتہ ڈسپنسرز اور لیڈی ہیلتھ ورکروں کو شامل کیا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ مجموعی طورپر 8 ہزار رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں اورایک ٹیم 4ارکان پر مشتمل ہوگی اس طرح مہم میں 32ہزاررضاکارحصہ لیںگے انھوں نے کہاکہ خسرہ مہم میں رضاکاروں کی ٹیمیں پہلے مرحلے میں اسکولوں اورمدرسوں میں جاکرزیر تعلیم بچوںکوخسرہ وائرس سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے لگائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ رضاکاروں کی ٹیمیں گھرگھر جانے کی بجائے ہرعلاقے میں ایک مخصوص پوائنٹ قائم کریں گے جہاں رضاکاروںکے ساتھ شامل سوشل موبلائزیشن اراکان بچوںکے والدین کوخسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کیلیے راغب کریںگے،انھوں نے بتایاکہ خسرہ سے بچاؤ کا ایک ہی حفاظتی ٹیکہ لگایاجائیگا،انھوں نے بتایا کہ خسرہ مہم کے دوران رضاکاروں کومکمل سیکیورٹی فراہم کی جائیگی اور تمام ٹیموںکومکمل تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے پولیس اہلکاروں کے دستے بھی تعینات کیے جائیںگے اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ کوبھی مطلع کیاجاچکا ہے۔
مہم کے دوران 6 ماہ سے10سال تک کے لڑکوں اورلڑکیوں کوخسرہ وائرس سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے لگائیں جائیں گے،کراچی سمیت سندھ میں ایک کروڑ30لاکھ بچوںکوخسرہ وائرس سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے لگائیں جائیں گے،مہم کے دوران رضاکاروں کومکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی غرض سے پولیس کے دستے بھی تعینات کیے جائیں گے، تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ صحت نے اندرون سندھ کے بعض اضلاع میں خسرہ کی بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظرہنگامی بنیادوں پر بچوں کو خسرہ وائرس سے بچاؤکیلیے حفاظتی ٹیکہ جات مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مہم وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے، بچوں کے توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر مظہر خمیسانی نے کراچی سمیت اندرون سندھ کے 9ماہ سے10سال تک کی عمرکے بچوں کو خسرہ وائرس سے محفوظ رکھنے کیلیے تمام اضلاع میں حفاظتی ٹیکے فراہم کردیے گئے،ای پی آئی نے کراچی میں مذکورہ عمر تک کے 44لاکھ سمیت اندرون سندھ کے بچوں کیلیے ایک کروڑ 40 لاکھ حفاطتی ٹیکے فراہم کردیے۔
ای ڈی او ہیلتھ کراچی ڈاکٹر ظفر اعجاز نے بتایاکہ کراچی سمیت سندھ کے بچوںکوخسرہ وائرس سے بچاؤکی مہم کے دوران نوزائیدہ بچوںکوانجکشن لگانے کیلیے تربیت یافتہ ڈسپنسرز اور لیڈی ہیلتھ ورکروں کو شامل کیا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ مجموعی طورپر 8 ہزار رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں اورایک ٹیم 4ارکان پر مشتمل ہوگی اس طرح مہم میں 32ہزاررضاکارحصہ لیںگے انھوں نے کہاکہ خسرہ مہم میں رضاکاروں کی ٹیمیں پہلے مرحلے میں اسکولوں اورمدرسوں میں جاکرزیر تعلیم بچوںکوخسرہ وائرس سے بچاؤکے حفاظتی ٹیکے لگائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ رضاکاروں کی ٹیمیں گھرگھر جانے کی بجائے ہرعلاقے میں ایک مخصوص پوائنٹ قائم کریں گے جہاں رضاکاروںکے ساتھ شامل سوشل موبلائزیشن اراکان بچوںکے والدین کوخسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کیلیے راغب کریںگے،انھوں نے بتایاکہ خسرہ سے بچاؤ کا ایک ہی حفاظتی ٹیکہ لگایاجائیگا،انھوں نے بتایا کہ خسرہ مہم کے دوران رضاکاروں کومکمل سیکیورٹی فراہم کی جائیگی اور تمام ٹیموںکومکمل تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے پولیس اہلکاروں کے دستے بھی تعینات کیے جائیںگے اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ کوبھی مطلع کیاجاچکا ہے۔