بی جے پی کی جیت

اٹل بہاری واجپائی کے انتقال کے بعد بتدریج اس کی لیڈر شپ کا زوال شروع ہوا اور نریندر مودی آگے بڑھنا شروع ہو گئے ...

اٹل بہاری واجپائی کے انتقال کے بعد بتدریج اس کی لیڈر شپ کا زوال شروع ہوا اور نریندر مودی آگے بڑھنا شروع ہو گئے۔ فوٹو فائل

بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے واضح برتری حاصل کر لی جب کہ حکمران کانگریس نے عبرتناک شکست کے بعد اپنی ناکامی تسلیم کر لی ہے۔ حکمران کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ہارجیت جمہوریت کا حصہ ہے، ہم عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن (آئی ای سی) نے سرکاری طور پر انتخابی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ لوک سبھا کی543 نشستوں میں سے بی جے پی نے282 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

بی جے پی کی قیادت میں قائم ہونے والا اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) مجموعی طور پر 337 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران مختلف سروے رپورٹوں میں بی جے پی کی جیت کی پیش گوئی کی جا رہی تھی لیکن جس بڑے مارجن سے اسے فتح ملی ہے اس کی توقع نہیں کی گئی تھی۔ بی جے پی نے دس ریاستوں میں کلین سویپ کیا ہے جن میں دہلی، گجرات، راجستھان، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش وغیرہ شامل ہیں البتہ وہ مقبوضہ کشمیر سے کوئی نشست نہ جیت پائی۔

سابق حکمران جماعت کانگریس کو، جس نے تقسیم سے لے کر اب تک متعدد مرتبہ حکومت کی ہے، صرف 44 نشستیں مل سکیں۔ عام آدمی پارٹی (عاپ) سے بعض تجزیہ نگاروں کو حیرت انگیز کامیابی کی توقع تھی مگر اس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور اس کے ہاتھ صرف چار نشستیں ہی لگ سکیں جب کہ اس جماعت کے سربراہ اروند کیجریوال خود ہار گئے۔ نریندر مودی خود دو حلقوں سے کھڑے ہوئے تھے اور دونوں حلقوں سے جیت گئے۔ بی جے پی کے دوسرے اہم لیڈر جن میں ایل کے ایڈوانی اور راج ناتھ سنگھ شامل ہیں وہ بھی جیت گئے ہیں۔ کانگریس کی سربراہ سونیاگاندھی اور ان کے صاحبزادے راہول گاندھی بھی جیتنے والوں میں شامل ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس ڈبلیو پی) سیاسی منظر سے ہی غائب ہوگئیں۔

متوقع وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے شہر وڈودرا میں جیت کے بعد عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب خالص غیرکانگریسی حکومت آئی ہے۔ اب ملک آزاد ہندوستان میں پیدا ہونے والے افراد کی قیادت میں چلے گا۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے نریندر مودی کو فون کر کے مبارکباد دی اور ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پاک بھارت تعلقات اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کیلیے کام کریگی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ لوک سبھا کے انتحابات میں مسلمان امیدواروں نے چوبیس نشستوں میں کامیابی حاصل کی۔


نریندر مودی 21 مئی کو بھارتی وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ آر ایس ایس کے نظریات کی حامل کسی جماعت نے اس قدر بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہو۔ یوں اب پہلی بار بھارت پر ان افراد کی مضبوط ترین حکومت قائم ہو گی جو اکھنڈ بھارت کے پرچارک اور بھارت کو ایک ہندو دیش بنانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی عرصے سے ایک مضبوط لیڈر کی خواہش مند تھی جو اسے نریندر مودی کی شکل میں ملا ہے۔ نریندر مودی کا بی جے پی کی سیاست میں عروج کا آغاز ان کی ریاست گجرات کی وزارت اعلیٰ سے شروع ہوتا ہے۔

بی جے پی میں ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور جسونت سنگھ جیسے قدآور لیڈر موجود تھے۔ اٹل بہاری واجپائی کے انتقال کے بعد بتدریج اس کی لیڈر شپ کا زوال شروع ہوا اور نریندر مودی آگے بڑھنا شروع ہو گئے۔ نریندر مودی پاکستان اور مسلمانوں کے سخت مخالف کے طور پر سامنے آئے۔ گجرات میں گودھرا ٹرین حادثے کے بعد مسلمانوں کا قتل عام ہوا اس میں نریندر مودی اور ان کی حکومت پیش پیش تھے۔ بی جے پی نے ان کے اس کردار پر شرمندگی کے بجائے انھیں آگے بڑھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کے اقتصادی اور معاشی نظریات نے انھیں بھارت کی ابھرتی ہوئی کاروباوری اشرافیہ کا بھی منظورنظر بنا دیا۔

عجیب بات ہے کہ نریندر مودی گجرات کے انتہائی غریب خاندان اور نچلی ذات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اپنے نظریات اور فکر کے اعتبار سے سرمایہ دارانہ نظام اور فری مارکیٹ اکانومی کے حامل ہیں۔ ان کی غربت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے والد ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچا کرتے تھے اور نریندر مودی بھی ان کا ہاتھ بٹاتے تھے جب کہ ان کی والدہ امراء کے گھروں میں کام کرتی تھیں لیکن اس پسماندہ پس منظر کے باوجود وہ کیپٹل ازم کے حامی اور ہندوتا کے زبردست پرچارک ہیں۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے ساتھ کیسے تعلقات بناتے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے تو انھیں دورۂ پاکستان کی دعوت بھی دے دی ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے حامی ہیں۔ اس حوالے سے ان کے نظریات واضح ہیں لیکن نریندر مودی کیسے آگے بڑھتے ہیں، یہ سوال جواب طلب ہے۔ ویسے ماضی میں جب بھی بی جے پی اقتدار میں آئی، اس کی قیادت نے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ آنجہانی اٹل بہاری واجبائی تو مینار پاکستان پر بھی حاضر ہوئے تھے۔ یوں ماضی کے پس منظر کو سامنے رکھیں تو یہی لگتا ہے کہ نریندر مودی بھی روایت شکن ثابت ہوں گے۔
Load Next Story