افریقی ملکوں کا بوکو حرام کے خلاف مشترکہ کارروائی پر غور
نائیجیریا اور اس کے پڑوسی ممالک نے بوکوحرام کے دہشتگردوں کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان کر دیا
نائیجیریا اور اس کے پڑوسی ممالک نے بوکوحرام کے دہشتگردوں کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان کر دیا فوٹو اے ایف پی /فائل
نائیجیریا اور اس کے پڑوسی ممالک نے بوکوحرام کے دہشتگردوں کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ افریقی ملک کیمرون کے صدر پال بیا نے کہا ہے کہ ان عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی کارروائی ضروری ہے اس سلسلے میں پیرس میں نائیجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن کی نائیجیریا کے پڑوسی ممالک ' چاڈ 'کیمرون بینن اور نائیجیریا کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات ہوئی جنہوں نے بوکوحرام نامی تنظیم کو کچلنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پر صلاح مشورہ کیا۔
واضح رہے بوکوحرام نے حال ہی میں دو سو سے زائد طالبات کو اغوا کر کے یرغمال بنا رکھا ہے جب کہ اس تنظیم کی دہشتگردانہ وارداتوں میں صرف اس ایک سال میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر پیرس میں افریقی ممالک کی سربراہ کانفرنس جاری تھی'ادھر بوکوحرام کے جنگجوئوں نے کیمرون میں ترقیاتی سرگرمیوں میں مصروف چینی کارکنوں پر حملہ کر کے ایک کارکن کو ہلاک جب کہ دس کو اغوا کر لیا۔ اس کارروائی سے کئی افریقی ممالک کے لیے اس تنظیم کی طرف سے خطرے میں اضافہ ہو گیا ہے۔
افریقی ممالک کی سربراہ کانفرنس میں فرانس کے صدر نے بھی شرکت کی جن کا کہنا تھا کہ متذکرہ تنظیم کی کارروائیوں سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ اس خطے میں کتنی خرابی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرانسیسی صدر نے کہا ان دہشتگردوں نے عام شہریوں پر حملے کیے' اسکولوں کو نشانہ بنایا اور انھوں نے کئی ملکوں کے شہریوں کو اغوا کر لیا ہے جب کہ فرانس ان کی سرگرمیوں کا خصوصی طور پر نشانہ ہے۔ ان کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا جا رہا ہے جس کے لیے ان کے ٹھکانوں کی جاسوسی بھی کی جائے گی جو عمومی طور پر گھنے جنگلات میں قائم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس علاقے کے ممالک کی سرحدیں عمومی طور پر غیر محفوظ ہیں جہاں داخل ہونے یا نکلنے میں کوئی خاص رکاوٹیں موجود نہیں ہیں اس لیے خطے کے تمام ممالک کی طرف سے مشترکہ کارروائی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ موجودہ صورت حال سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نائیجیریا اور اس کے ارد گرد کے ممالک کس قدر خطرے میں ہیں' آنے والے دنوں میں نائیجیریا میں بڑے پیمانے پر خون ریزی ہوگی۔
واضح رہے بوکوحرام نے حال ہی میں دو سو سے زائد طالبات کو اغوا کر کے یرغمال بنا رکھا ہے جب کہ اس تنظیم کی دہشتگردانہ وارداتوں میں صرف اس ایک سال میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر پیرس میں افریقی ممالک کی سربراہ کانفرنس جاری تھی'ادھر بوکوحرام کے جنگجوئوں نے کیمرون میں ترقیاتی سرگرمیوں میں مصروف چینی کارکنوں پر حملہ کر کے ایک کارکن کو ہلاک جب کہ دس کو اغوا کر لیا۔ اس کارروائی سے کئی افریقی ممالک کے لیے اس تنظیم کی طرف سے خطرے میں اضافہ ہو گیا ہے۔
افریقی ممالک کی سربراہ کانفرنس میں فرانس کے صدر نے بھی شرکت کی جن کا کہنا تھا کہ متذکرہ تنظیم کی کارروائیوں سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ اس خطے میں کتنی خرابی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرانسیسی صدر نے کہا ان دہشتگردوں نے عام شہریوں پر حملے کیے' اسکولوں کو نشانہ بنایا اور انھوں نے کئی ملکوں کے شہریوں کو اغوا کر لیا ہے جب کہ فرانس ان کی سرگرمیوں کا خصوصی طور پر نشانہ ہے۔ ان کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا جا رہا ہے جس کے لیے ان کے ٹھکانوں کی جاسوسی بھی کی جائے گی جو عمومی طور پر گھنے جنگلات میں قائم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس علاقے کے ممالک کی سرحدیں عمومی طور پر غیر محفوظ ہیں جہاں داخل ہونے یا نکلنے میں کوئی خاص رکاوٹیں موجود نہیں ہیں اس لیے خطے کے تمام ممالک کی طرف سے مشترکہ کارروائی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ موجودہ صورت حال سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نائیجیریا اور اس کے ارد گرد کے ممالک کس قدر خطرے میں ہیں' آنے والے دنوں میں نائیجیریا میں بڑے پیمانے پر خون ریزی ہوگی۔