فیشن انڈسٹری کو شہرت اور دولت کمانے کے لیے نہیں اپنایا نارویجن حسینہ صنم بخاری

مختصر عرصہ میں ’ ُسپر ماڈل‘ کا خطاب پانے والی نارویجن حسینہ صنم بخاری کا ایکسپریس کو خصوصی انٹرویو

مختصر عرصہ میں ’ ُسپر ماڈل‘ کا خطاب پانے والی نارویجن حسینہ صنم بخاری کا ایکسپریس کو خصوصی انٹرویو۔ فوٹو : فائل

دیارغیر میں بسنے والے پاکستانیوں نے ہمیشہ ہی پاک وطن کا نام روشن کیا ہے۔ کھیل کا میدان ہویا تعلیم کا شعبہ، میڈیکل سائنس ہویا فنون لطیفہ ، سبھی شعبوں میں پاکستانیوں نے بے مثل کامیابیاں حاصل کررکھی ہیں اوریہ سلسلہ بڑی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

بات کی جائے فیشن انڈسٹری کی تو ناروے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد سُپرماڈل صنم بخاری نے گزشتہ چند برسوں کے دوران بہت سی کامیابیاں اپنے نام کرلی ہیں۔ ان کا ناروے سے شروع ہونیوالا فنی سفربرطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے بعد اب نئی راہوں کی جانب گامزن ہے۔

صرف تین برس کے مختصر عرصہ کے دوران ''سُپر ماڈل'' کا خطاب پانے والی اس حسینہ نے فیشن کی دنیا میں اپنے شوق کوپورا کرنے کیلئے قدم رکھا ، لیکن اب وہ اس شعبے کو بطور پروفیشن اپنا چکی ہیں۔ یورپ میں ہونے والے فیشن شواب ان کے بناء ادھورے لگتے ہیں بلکہ پاکستان میں '' پی ایف ڈی سی '' کے بینر تلے ہونے والے فیشن ویک میں بھی ان کی شمولیت یقینی ہوتی جارہی ہے۔

دس روزقبل کراچی میں ہونے والے فیشن ویک میں خاص طور پر صنم بخاری کو ناروے سے مدعو کیا گیا اور اس دوران انہوں نے ریمپ پر واک کرتے ہوئے معروف ڈیزائنرز کے ملبوسات متعارف کروائے اور خوب داد حاصل کی۔ لاہور آمد پر صنم بخاری نے ''ایکسپریس'' کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے اپنی پروفیشنل اورنجی زندگی کے بارے میں دلچسپ گفتگو کی، جوقارئین کی نذرہے۔

صنم بخاری نے بتایا کہ ان کی پیدائش ناروے میں ہوئی ، ابتدائی اوراعلیٰ تعلیم اوسلو میں حاصل کی۔ لاء کی ڈگری حاصل کی لیکن قانون کوشعبے کو نہ اپنایا۔ فیشن انڈسٹری میں کام کرنے کا آغاز حادثاتی طور پر ہوا۔ چند قریبی سہیلیاں ناروے میں ہونے والے فیشن شوز میں حصہ لیا کرتی تھیں، ان کے ساتھ فیشن شو میں شرکت کی اوراسی دوران میری سہلیاں اور کچھ پروفیشنلز نے میری پرکشش شخصیت کو فیشن انڈسٹری کیلئے بہت موزوں قرار دیا۔




میں نے شوقیہ طورپرریمپ پر واک کرنے اور فوٹو شوٹ کرنے کی حامی بھرلی ، لیکن فیملی کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ میں اس پروفیشن میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کرونگی جس سے میں اور میری فیملی شرمندہ ہو۔ پہلی ریمپ واک پرملنے والی پذیرائی سے میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی اورمیں نے مزید کام کرنے کی ٹھان لی۔ چند ماہ کے دوران ہی مجھے بہت سے معروف برانڈز کی طرف سے فوٹوشوٹس کی آفرز کا سلسلہ شروع ہوگیا جن میں سے کچھ پراجیکٹس میں نے سائن کئے جبکہ بہت سے صرف اس لئے چھوڑ دیئے کہ ان برانڈز کیلئے فوٹوشوٹ کروانے پر پیسے توبہت مل رہے تھے لیکن اس کوکرنے سے میری فیملی کو شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑنا تھا۔

ویسے بھی میں نے فیشن انڈسٹری کو شہرت اوردولت کمانے کیلئے نہیں اپنایا تھا۔ اس لئے جب بھی کوئی پراجیکٹ آفر ہوتا ہے تواپنی فیملی کی مشاورت کے ساتھ ہی اسے سائن کرتی ہوں، ان کے بغیر کوئی بھی کام کرنا مجھے منظور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فیشن انڈسٹری تک رسائی اس وقت ہوئی جب متعدد پاکستانی فیشن ڈیزائنر برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں ہونے والے فیشن شوز میں شریک ہوئے۔ ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے میرا کام دیکھنے کے بعد مجھے پاکستان میں کام کرنے کی پیشکش کی اور انہی معروف ڈیزائنرز نے مجھے پاکستان میں ہونیوالے فیشن ویکس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ میں اب تک پاکستان کے معروف ڈریس ڈیزائنر دیپک پروانی، نومی انصاری، مہدی، عمرسعید، زینب چٹانی اور نعمان ترین سمیت دیگرکے ساتھ کام کرچکی ہوں۔

اس کے علاوہ انڈین فیشن انڈسٹری کے معروف ڈیزائنرمنیش ملہوترا کے ساتھ بھی کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میں اب تک پاکستان میں ہونیوالے تین فیشن ویک کا حصہ بن چکی ہوں۔ حال ہی میں کراچی میں منعقدہ فیشن ویک میں جہاں پاکستان کے بہترین ڈریس، جیولری ڈیزائنرز، ہیئر سٹائلسٹ اورمیک اپ آرٹسٹس نے اپنے ہُنرکا جادو دکھایا، وہیں پاکستان کی سُپر ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پرمختلف ڈیزائنرز کے ملبوسات، جیولری کے دیدہ زیب ڈیزائن کے ساتھ واک کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔



ایک سوال کے جواب میں صنم بخاری نے کہا کہ میری پسندیدہ ماڈل مہرین سید ہیں جبکہ نادیہ حسین سے حالیہ فیشن ویک کے دوران ملاقات ہوئی اوران کی شخصیت نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔ جہاں تک بات اداکاری کی ہے تو مجھے پاکستان میں فلم اورٹی وی سیریلزمیں کام کرنے کی پیشکش ہوچکی ہیں لیکن وقت نہ ہونے کی وجہ سے میں نے کام کرنے سے انکار کردیا، اسی طرح بھارت میں بھی فلموں میں کام کرنے کی آفرز ہیں، مگر اداکاری کا کوئی ارادہ نہیں۔ البتہ مستقبل میں ایک فیشن انسٹی ٹیوٹ بنانے کا ارادہ رکھتی ہوں جس کے پلیٹ فارم سے نوجوان ڈیزائنر، فوٹوگرافر، میک اپ آرٹسٹ اور ماڈلز بہتر اندازسے اپنا کیرئیرشروع کرسکیں۔

اپنی نجی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے صنم بخاری نے بتایاکہ انہیں سیروسیاحت کا بہت شوق ہے۔ میں دنیا کے خوبصورت مقامات دیکھنا چاہتی ہوں۔ مجھے مختلف ممالک کے کھانے اور ثقافت بہت پسند ہے ۔ خاص طور پر پاکستان کے چٹ پٹے کھانے بہت پسند ہیں ، لیکن کوکنگ کا کوئی شوق نہیں ہے۔ عام طور پر مغربی ملبوسات پسند ہیں لیکن '' جیسا دیس ویسا بھیس'' کے فارمولے پر عمل کرتی ہوں۔ سوئمنگ ، سائیکلنگ اورسپورٹس کار چلانا اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری خوبصورتی اورفٹنس کا راز ، صبح سویرے ورزش اورواک ہے جبکہ کھانے پینے میں بھی خاص احتیاط کرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہوں۔ پاکستان میں آنیوالے قیامت خیز زلزلہ اور سیلاب کے موقع پر ناروے میں اپنے قریبی دوست احباب سے فنڈ ریزنگ کرکے پاکستان میں متاثرین کی امداد کیلئے رقم اور سامان بھجوایا جبکہ پاکستان میں ایک بچے کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔ فلاحی کاموں میں حصہ لے کر دلی سکون ملتا ہے۔
Load Next Story