پیپلز پارٹی کے ایک سینئر کارکن کی کتھا
آج میں پیپلز پارٹی کے ایک ایسے ہی سیاسی کارکن کا ذکر کر رہا ہوں جس کا شمار بھٹو مرحوم کے قریبی کارکنوں میں ہوتا تھا
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
سیاسی کارکن ہر سیاسی جماعت کی ریڑھ کی ہڈی اور سرمایہ ہوتے ہیں لیکن پسماندہ ملکوں میں سیاسی کارکنوں کی بحیثیت سیاسی ہاریوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔
آج میں پیپلز پارٹی کے ایک ایسے ہی سیاسی کارکن کا ذکر کر رہا ہوں جس کا شمار بھٹو مرحوم کے قریبی کارکنوں میں ہوتا تھا اور جسے 1970 میں پارٹی کی تنظیم کے لیے میرپورخاص بھیجا گیا تھا اس سینئرکارکن کا نام کامریڈ محبوب علی ہے جو اپنی جوانی کے ایام میں مرحوم بھٹو کا خاص کارکن تھا اور میرپور میں پیپلز پارٹی کا پہلا بڑا جلسہ اسی گمنام کارکن نے کرایا تھا۔ محبوب علی کی عمر اب لگ بھگ 80 سال بتائی جاتی ہے محبوب علی کا کوئی والی وارث نہیں وہ کئی سال سے میرپورخاص کے سول اسپتال میں زیر علاج ہے۔
زیر علاج کیا ہے اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے محبوب علی بھی اسی سلوک کا شکار ہے۔ اس زنداں میں کوئی اس کا پرسان حال نہیں وہ یہاں اپنی معمولی معمولی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ایک انتہائی کربناک زندگی گزار رہا ہے۔ بیماریوں اور مجبوریوں کے ہجوم میں وہ میرپور کے سول اسپتال کے ایک بیڈ پر لیٹا ہوا اپنے ان رہنماؤں کو یاد کر رہا ہے۔عام طور پر سیاسی رہنما اپنے کارکنوں کے مسائل ان کے دکھ درد سے اس لیے لاعلم رہتے ہیں کہ الیکشن کے بعد ان کا کارکنوں سے رابطہ ختم ہوجاتا ہے لیکن اگر کسی طرح سیاسی رہنماؤں کے علم میں کارکنوں کے المناک مسائل لائے بھی جاتے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ اس لیے نہیں ہوتا کہ کارکنوں سے قیادت کی نیازمندیاں الیکشن کے بعد ختم ہوجاتی ہیں۔
ہم جس سینئر کارکن کا ذکر کر رہے ہیں ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کی بیماری ان کی کسمپرسی ان کی لاچاری کالموں کے ذریعے بیانوں کے ذریعے اور قیادت سے براہ راست ملاقاتوں کے ذریعے ذمے دار رہنماؤں کے علم میں لائی گئی ہے۔ ہمارے عزیز دوست اور ریلوے ورکرز یونین کے چیئرمین منظور رضی ریلوے کے ورکرز سے ملاقاتوں کے لیے عموماً پاکستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے رہتے ہیں انھیں جب یہ علم ہوا کہ کامریڈ محبوب علی میرپورخاص کے سول اسپتال میں برسوں سے بے یارو مددگار پڑے ہوئے ہیں تو انھوں نے فوری کامریڈ سے ملاقات کی اور سول اسپتال میرپور سے موبائل پر ہم سے تفصیلی بات بھی کرائی جو کچھ محبوب علی نے بتایا وہ بڑا دردناک تھا۔ چنانچہ ہم نے منظور رضی کے ساتھ پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدر سے ملاقات کرکے کامریڈ محبوب علی کے حالات سے انھیں آگاہ کیا منظور رضی نے پیپلز پارٹی کے بعض اور ذمے دار رہنماؤں سے بھی ملاقات کرکے انھیں یاد دلایا کہ ان کی پارٹی کا ایک سینئر کارکن انتہائی کسمپرسی کی حالت میں میرپور خاص کے سول اسپتال میں برسوں سے زیر علاج ہے لیکن ساری کوششیں اس لیے بے کار ثابت ہوئیں کہ محبوب علی کا تعلق اس طبقے سے ہے ۔
جس کا ہمارے معاشرے میں نہ کوئی مقام ہے نہ کوئی پرسان حال ہے۔کامریڈ محبوب علی کا مسئلہ بہ ظاہر ایک سیاسی کارکن کا انفرادی مسئلہ ہے لیکن اس کی جڑیں ہمارے اس سیاسی نظام میں گڑھی ہوئی ہیں جو خاندانی جمہوریت پر مشتمل ہے اور سیاسی کارکنوں کو ہاریوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ ہماری آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد زرعی معیشت سے جڑا ہوا ہے اور زرعی معیشت پر مٹھی بھر جاگیردار خاندانوں کا قبضہ ہے یہ حضرات ہاریوں اور کسانوں کی محنت اور مشقت ہی سے معاشرے کے محترم لوگ بن جاتے ہیں لیکن محترم بنانے والوں کو ہمیشہ محتاج رکھتے ہیں ان کے دکھ درد ان کی محرومیوں سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ چونکہ یہ وڈیرے اپنی جون بدل کر اب سیاستدان بن گئے ہیں لہٰذا اس میدان میں بھی وہ اقتدار کی مسند تک پہنچانے والے سیاسی کارکنوں کو ہاری کسان ہی سمجھتے ہیں ۔
پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ جیالوں (کارکنوں) کی پارٹی ہے اور جیالے اپنی قیادت اور پارٹی کے لیے ہر وقت جان دینے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن جب ان جیالوں کی جان پر بن جاتی ہے تو یہ محترم قائدین اندھے بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں۔ کامریڈ محبوب علی 1970 سے پیپلز پارٹی کے لیے کام کر رہا ہے اس شخص نے اپنی ساری جوانی ساری زندگی پیپلز پارٹی کی نذر کردی جو ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی کارکنوں میں سے ایک رہا ہے آج وہ میرپورخاص کے سول اسپتال میں بے یار و مددگار پڑا ہوا ہے مجھے حیرت اور افسوس یہ ہے کہ اس مجبور سیاسی کارکن کی حالت زار پر کئی دوستوں نے کالم لکھے اخباری بیانات جاری کیے اور ذاتی طور پر پیپلز پارٹی کے قائدین سے مل کر محبوب کے حالات سے انھیں آگاہ کیا اور میرپور خاص میں موجود پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروائی لیکن نتیجہ ایک پراسرار روایتی خاموشی اور لاتعلقی کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔
یہ ہمارا وہ جمہوری کلچر ہے جس کے دفاع کے لیے ہمارے معزز دوست قلموں کی تلواریں ہاتھوں میں لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ پیپلز پارٹی کے نوجوان رہنما کو اپنے کارکنوں کے حالات ان کے مسائل ان کے دکھ درد کا علم رہتا ہے یا نہیں لیکن بلاول بھٹو کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ایسے سیاسی کارکنوں کے مسائل سے آگاہ رہیں جو ان کے محترم نانا ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ رہے ہیں اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ پیپلزپارٹی کی نذر کرچکے ہیں کامریڈ محبوب علی نہ بنگلہ مانگ رہا ہے نہ کوئی کار، نہ دولت کے انبار۔۔۔۔وہ رہنے کے لیے ایک کمرہ، گزر اوقات کے لیے تھوڑی سی رقم اور علاج معالجے کی بہتر سہولت۔ کیا محبوب علی کی یہ ڈیمانڈ غیر منصفانہ ہے؟ نچلے درجے کی قیادت کے رویوں سے تنگ آیا ہوا بستر پر لیٹا ہوا یہ سینئر جیالا اب بلاول بھٹو کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔
کیا اس سیاسی کارکن کی آواز پر ہمارا نوجوان سیاسی وڈیرہ توجہ دے گا؟ کیا پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے رجوع کرنا چاہیے؟ بے نظیر انکم سپورٹ ہی کے ذریعے محبوب علی کی مدد کی جاسکتی ہے۔ مجھے ایک فرد ایک سیاسی کارکن کے معمولی مسائل پر یہ کالم لکھتے ہوئے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے لیکن میں یہ کالم اس لیے لکھ رہا ہوں کہ نہ جانے کتنے ہزار محبوب علی اپنی قیادت کی نظروں سے دور بستر مرگ پر پڑے اپنے رہنماؤں کا انتظار کر رہے ہوں گے۔
آج میں پیپلز پارٹی کے ایک ایسے ہی سیاسی کارکن کا ذکر کر رہا ہوں جس کا شمار بھٹو مرحوم کے قریبی کارکنوں میں ہوتا تھا اور جسے 1970 میں پارٹی کی تنظیم کے لیے میرپورخاص بھیجا گیا تھا اس سینئرکارکن کا نام کامریڈ محبوب علی ہے جو اپنی جوانی کے ایام میں مرحوم بھٹو کا خاص کارکن تھا اور میرپور میں پیپلز پارٹی کا پہلا بڑا جلسہ اسی گمنام کارکن نے کرایا تھا۔ محبوب علی کی عمر اب لگ بھگ 80 سال بتائی جاتی ہے محبوب علی کا کوئی والی وارث نہیں وہ کئی سال سے میرپورخاص کے سول اسپتال میں زیر علاج ہے۔
زیر علاج کیا ہے اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے محبوب علی بھی اسی سلوک کا شکار ہے۔ اس زنداں میں کوئی اس کا پرسان حال نہیں وہ یہاں اپنی معمولی معمولی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ایک انتہائی کربناک زندگی گزار رہا ہے۔ بیماریوں اور مجبوریوں کے ہجوم میں وہ میرپور کے سول اسپتال کے ایک بیڈ پر لیٹا ہوا اپنے ان رہنماؤں کو یاد کر رہا ہے۔عام طور پر سیاسی رہنما اپنے کارکنوں کے مسائل ان کے دکھ درد سے اس لیے لاعلم رہتے ہیں کہ الیکشن کے بعد ان کا کارکنوں سے رابطہ ختم ہوجاتا ہے لیکن اگر کسی طرح سیاسی رہنماؤں کے علم میں کارکنوں کے المناک مسائل لائے بھی جاتے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ اس لیے نہیں ہوتا کہ کارکنوں سے قیادت کی نیازمندیاں الیکشن کے بعد ختم ہوجاتی ہیں۔
ہم جس سینئر کارکن کا ذکر کر رہے ہیں ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کی بیماری ان کی کسمپرسی ان کی لاچاری کالموں کے ذریعے بیانوں کے ذریعے اور قیادت سے براہ راست ملاقاتوں کے ذریعے ذمے دار رہنماؤں کے علم میں لائی گئی ہے۔ ہمارے عزیز دوست اور ریلوے ورکرز یونین کے چیئرمین منظور رضی ریلوے کے ورکرز سے ملاقاتوں کے لیے عموماً پاکستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے رہتے ہیں انھیں جب یہ علم ہوا کہ کامریڈ محبوب علی میرپورخاص کے سول اسپتال میں برسوں سے بے یارو مددگار پڑے ہوئے ہیں تو انھوں نے فوری کامریڈ سے ملاقات کی اور سول اسپتال میرپور سے موبائل پر ہم سے تفصیلی بات بھی کرائی جو کچھ محبوب علی نے بتایا وہ بڑا دردناک تھا۔ چنانچہ ہم نے منظور رضی کے ساتھ پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدر سے ملاقات کرکے کامریڈ محبوب علی کے حالات سے انھیں آگاہ کیا منظور رضی نے پیپلز پارٹی کے بعض اور ذمے دار رہنماؤں سے بھی ملاقات کرکے انھیں یاد دلایا کہ ان کی پارٹی کا ایک سینئر کارکن انتہائی کسمپرسی کی حالت میں میرپور خاص کے سول اسپتال میں برسوں سے زیر علاج ہے لیکن ساری کوششیں اس لیے بے کار ثابت ہوئیں کہ محبوب علی کا تعلق اس طبقے سے ہے ۔
جس کا ہمارے معاشرے میں نہ کوئی مقام ہے نہ کوئی پرسان حال ہے۔کامریڈ محبوب علی کا مسئلہ بہ ظاہر ایک سیاسی کارکن کا انفرادی مسئلہ ہے لیکن اس کی جڑیں ہمارے اس سیاسی نظام میں گڑھی ہوئی ہیں جو خاندانی جمہوریت پر مشتمل ہے اور سیاسی کارکنوں کو ہاریوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ ہماری آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد زرعی معیشت سے جڑا ہوا ہے اور زرعی معیشت پر مٹھی بھر جاگیردار خاندانوں کا قبضہ ہے یہ حضرات ہاریوں اور کسانوں کی محنت اور مشقت ہی سے معاشرے کے محترم لوگ بن جاتے ہیں لیکن محترم بنانے والوں کو ہمیشہ محتاج رکھتے ہیں ان کے دکھ درد ان کی محرومیوں سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ چونکہ یہ وڈیرے اپنی جون بدل کر اب سیاستدان بن گئے ہیں لہٰذا اس میدان میں بھی وہ اقتدار کی مسند تک پہنچانے والے سیاسی کارکنوں کو ہاری کسان ہی سمجھتے ہیں ۔
پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ جیالوں (کارکنوں) کی پارٹی ہے اور جیالے اپنی قیادت اور پارٹی کے لیے ہر وقت جان دینے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن جب ان جیالوں کی جان پر بن جاتی ہے تو یہ محترم قائدین اندھے بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں۔ کامریڈ محبوب علی 1970 سے پیپلز پارٹی کے لیے کام کر رہا ہے اس شخص نے اپنی ساری جوانی ساری زندگی پیپلز پارٹی کی نذر کردی جو ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی کارکنوں میں سے ایک رہا ہے آج وہ میرپورخاص کے سول اسپتال میں بے یار و مددگار پڑا ہوا ہے مجھے حیرت اور افسوس یہ ہے کہ اس مجبور سیاسی کارکن کی حالت زار پر کئی دوستوں نے کالم لکھے اخباری بیانات جاری کیے اور ذاتی طور پر پیپلز پارٹی کے قائدین سے مل کر محبوب کے حالات سے انھیں آگاہ کیا اور میرپور خاص میں موجود پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروائی لیکن نتیجہ ایک پراسرار روایتی خاموشی اور لاتعلقی کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔
یہ ہمارا وہ جمہوری کلچر ہے جس کے دفاع کے لیے ہمارے معزز دوست قلموں کی تلواریں ہاتھوں میں لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ پیپلز پارٹی کے نوجوان رہنما کو اپنے کارکنوں کے حالات ان کے مسائل ان کے دکھ درد کا علم رہتا ہے یا نہیں لیکن بلاول بھٹو کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ایسے سیاسی کارکنوں کے مسائل سے آگاہ رہیں جو ان کے محترم نانا ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ رہے ہیں اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ پیپلزپارٹی کی نذر کرچکے ہیں کامریڈ محبوب علی نہ بنگلہ مانگ رہا ہے نہ کوئی کار، نہ دولت کے انبار۔۔۔۔وہ رہنے کے لیے ایک کمرہ، گزر اوقات کے لیے تھوڑی سی رقم اور علاج معالجے کی بہتر سہولت۔ کیا محبوب علی کی یہ ڈیمانڈ غیر منصفانہ ہے؟ نچلے درجے کی قیادت کے رویوں سے تنگ آیا ہوا بستر پر لیٹا ہوا یہ سینئر جیالا اب بلاول بھٹو کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔
کیا اس سیاسی کارکن کی آواز پر ہمارا نوجوان سیاسی وڈیرہ توجہ دے گا؟ کیا پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے رجوع کرنا چاہیے؟ بے نظیر انکم سپورٹ ہی کے ذریعے محبوب علی کی مدد کی جاسکتی ہے۔ مجھے ایک فرد ایک سیاسی کارکن کے معمولی مسائل پر یہ کالم لکھتے ہوئے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے لیکن میں یہ کالم اس لیے لکھ رہا ہوں کہ نہ جانے کتنے ہزار محبوب علی اپنی قیادت کی نظروں سے دور بستر مرگ پر پڑے اپنے رہنماؤں کا انتظار کر رہے ہوں گے۔