کراچی حصص مارکیٹ میں تیزی 68 پوائنٹس کا اضافہ

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 15.87فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر11 کروڑ15 لاکھ29 ہزار710 حصص کے سودے ہوئے۔

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 15.87فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر11 کروڑ15 لاکھ29 ہزار710 حصص کے سودے ہوئے۔ فوٹو : آن لائن

کراچی اسٹاک ایکس چینج میں نئے بجٹ سے متعلق مختلف ابہام اور افواہوں سے متاثر سرمایہ کاروں کی دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی کے باعث پیر کو اتار چڑھاؤ اور ملے جلے رحجان کا تاثر قائم رہا تاہم 100 انڈیکس بڑھنے سے55.36 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں لیکن آل شیئر انڈیکس15.44 پوائنٹس کم ہونے سے حصص کی مالیت میں4 ارب94 کروڑ 76 لاکھ34 ہزار320 روپے کی کمی واقع ہوئی.

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں ڈسکاؤنٹ ریٹ 10 فیصد پر مستحکم رکھنے کے مثبت اثرات بھی مارکیٹ پر مرتب نہ ہوسکے کیونکہ سرمایہ کاری کے بیشتر شعبے نئے بجٹ اقدامات سے خوفزہ ہیں اور وہ مارکیٹ میں پوزیشن لینے سے گریز کررہے ہیں, یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی انتہائی محدود ہوگئی ہے اور کاروباری حجم بھی کم رہا ہے، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر40.29 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر55 لاکھ40 ہزار731 ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔


کاروباری دورانیے میں میوچل فنڈز کی جانب سے21 لاکھ52 ہزار28 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے1 لاکھ36 ہزار125 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے32 لاکھ52 ہزار578 ڈالرکا انخلا بھی کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس68.05 پوائنٹس کے اضافے سے28951.38 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈٰیکس79.67 پوائنٹس بڑھ کر19962.42 اور کے ایم آئی30 انڈیکس181.35 پوائنٹس کے اضافے سے 46101.45 ہوگیا۔

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 15.87فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر11 کروڑ15 لاکھ29 ہزار710 حصص کے سودے ہوئے ،کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 354 کمپنیوں تک محدود رہا،196کے بھاؤ میں اضافہ، 136 کے داموں میں کمی اور22 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story