ہائیکورٹ نے لوڈ شیڈنگ کی تفصیلات طلب کر لیں

کے الیکٹرک کتنی بجلی پیدا کررہا ہے اور دیگراداروں سے کتنی حاصل کر رہا ہے رپورٹ پیش کی جائے

ادارے کی پیداواری صلاحیت2338میگاواٹ ہے،وفاق سے بھی بجلی حاصل کی جارہی ہے،کراچی میں طلب 2778میگاواٹ ہے،لوڈ شیڈنگ کا جواز نہیں، درخواست گزار فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کی ہے کہ کے الیکٹرک کتنی بجلی پیدا کررہا ہے اوردیگراداروں سے کتنی بجلی حاصل کر رہا ہے۔

جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے رانا فیض الحسن کی جانب سے شہر میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور اووربلنگ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کے الیکٹرک( سابقہ کے ای ایس سی)سے3ہفتے میں جواب طلب کرلیا جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی وجوہات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں، عدالت نے کے الیکٹرک کو جواب داخل کرنے کیلیے تین ہفتے کی مہلت دیدی، درخواست میں وفاقی وزارت برائے نجکاری،اوگرا،نیپرا اور کے الیکٹرک کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت2338میگاواٹ ہے اور وفاق سے بھی بجلی حاصل کی جارہی ہے۔

کراچی میں بجلی کی طلب 2778میگاواٹ ہے اس لیے لوڈ شیڈنگ کا کوئی جواز نہیں،کے ای ایس سی جو ایک سرکاری ادارہ تھا لیکن ایک کمپنی نے نجکاری کے عمل کے ذریعے 16ارب روپے میں خریدا اور کمپنی کو گِروی رکھ کر 100ارب روپے قرضہ حاصل کرلیا، نجکاری کے بعد کے الیکٹرک کی کارکردگی انتہائی مایوس کن اورخراب رہی ہے، مالی بوجھ کا بہانہ بنا کربڑی تعداد میں مزدوروں کو ملازمت سے فارغ کیا گیا مگر ادارے کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہوسکی اس لیے مزدوروں سمیت مختلف حلقوں نے ادارے کو دوباری سرکاری تحویل میں لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے، فاضل بینچ کے استفسار پر درخواست گزار نے بتایاکہ کورنگی، گڈاپ ، ملیر، کیماڑی ، گلشن اقبال ، بن قاسم اور لیاقت آباد ٹاؤن جیسے شہر کے 70فیصد علاقوں میں 10سے 12گھنٹے کی غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس سے لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔


شہری ذہنی اذیت کے باعث ذہنی امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں، ایسے حالات میں شہریوں کے باعث سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں، شہر میں نارتھ ناظم آباد، گلبرگ ،صدر ٹاؤن جیسے علاقے ہیں جہاں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی جو کہ امتیازی سلوک ہے،د رخواست میں کہا گیا ہے کہ غریب صارفین کو زائد بل بھیجے جارہے ہیں جس سے شہری سخت پریشان ہیں جبکہ صارفین جب کے الیکٹرک سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے ساتھ تعاون نہیں کیاجاتا۔

ایسی صورت حال میں صارفین کنڈا استعمال کرنے پر مجبور ہیں، پیر کو سماعت کے موقع پرکے الیکٹرک کے وکیل محمد علی لاکھانی نے جواب داخل کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک نجی ادارہ ہے، آئین کی دفعہ199کے تحت غیرسرکاری ادارے کے خلاف آئینی درخواست دائر کرنے کا اختیار نہیں تھا، درخواست ناقابل سماعت ہے، مسترد کی جائے،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک سے پوچھا جائے کہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت کتنی ہے اور کتنی بجلی پیداکی جارہی ہے۔

انھوں نے موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت 2338میگاواٹ ہے اور وفاق سے بھی بجلی حاصل کی جارہی ہے جبکہ کراچی میں بجلی کی طلب 2778میگاواٹ ہے اور اس طرح شارٹ فال صرف437میگاواٹ کا ہے لہٰذالوڈ شیڈنگ کا کوئی جواز نہیں، عدالت نے کے الیکٹرک کو جواب داخل کرنے کیلیے تین ہفتے کی مہلت دیدی۔
Load Next Story