بوگس ووٹ ڈالنے والوں کا احتساب

الیکشن نتائج پرعدم اطمینان اوراس کے فری اینڈ فیئرنہ ہونے کے الزامات ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بھی اٹھتے رہتے ہیں ۔۔۔

الیکشن نتائج پرعدم اطمینان اوراس کے فری اینڈ فیئرنہ ہونے کے الزامات ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بھی اٹھتے رہتے ہیں فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں ایک سے زائد ووٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس ناصر الملک کی زیر صدارت کمیشن ارکان کا اجلاس ہوا جس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری شیر افگن نے بتایا کہ الیکشن ٹریبونلز ایک سے زائد ووٹ ڈالنے والوں کا ریکارڈ الیکشن کمیشن کو پیش کریں گے اور جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 3 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹنگ فراڈ کی روک تھام اور گزشتہ انتخابات میں بوگس ووٹ ڈالنے والوں کے احتساب و سزا کا فیصلہ شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کی جانب ایک خوش آیند پیش رفت ہے جسے پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی ، پاکستان عوامی تحریک اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ان مطالبات کا منطقی اور مثبت نتیجہ کہا جاسکتا ہے جن میں الیکشن 2013 کے نتائج پر شدید اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

تاہم یہ امر خوش آیند ہونے کے ساتھ ساتھ شفاف انتخابات اور جمہوری عمل کی جانب سیاسی جماعتوں کی بلوغت ، سنجیدگی اور پارلیمانی روایات کے فروغ و استحکام کے لیے ایک کلیدی اہمیت کا حامل ہے جس پر گامزن رہتے ہوئے ملک میں منصفانہ، آزادانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا خواب شرمندہ تعبیر بنایا جا سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہر گز نہیں ہے کہ ادھر ایک سے زائد ووٹ ڈالنے والوں کا احتساب شروع ہوگا اور ادھر الزامات ، کمزوریوں ، خامیوں سے آلودہ اور متناقص جمہوریت کی تکمیل اور اس کے انتخابی نظام کی شفافیت اور فول پروف ہونے کا طویل عمل راتوں رات اختتام کو پہنچ جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ الیکشن نتائج پر عدم اطمینان اور اس کے فیئر اور فری نہ ہونے کے الزامات انتہائی ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بھی اٹھتے رہتے ہیں، لیکن وہاں جمہوری رائے اور ووٹنگ کے تقدس کو ہر کوئی مجروح کرنے پر تلا نہیں ہوتا۔ جب کہ ہماری سیاست جعلی ووٹنگ ، جھرلو اور انجینئرڈ انتخابات کی ایک الم ناک تاریخ رکھتی ہے ۔تاہم 70 کے بعد 2008 اور 2013 کو منعقد ہونے والے الیکشن اس سنجیدہ انتظام کے ساتھ ضرور ہوئے جس میں ٹرن آئوٹ امید افزا تھا اور الیکشن کمیشن نے نگراں حکومت کی مانیٹرنگ میں پر امن پولنگ کرائی ۔


بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور دیگر جماعتیںانتخابی نتائج کے خلاف احتجاجی مہم پر ہیں تاہم عمران خان انتخابی نتائج اور میکنزم پر مکمل خط تنسیخ نہیں پھیرنا چاہتے، ان کے مطالبات قابل غور ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے پنڈی بھٹیاں سے پی پی 107 کے ضمنی الیکشن کے لیے نگہت انتصار بھٹی کو پارٹی ٹکٹ دیدیا۔اس حلقے میں ضمنی الیکشن29 مئی کو ہوگا ۔ ادھر سندھ سے سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی خالی ہونے والی نشست پر پیپلز پارٹی نے تاج حیدر کو ٹکٹ دے دیا ہے ۔ یوں الیکشن میں دھاندلی پر احتجاج کو بھی جمہوری حق کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے جاری شیڈول کے مطابق اس نشست پر 5 جون کو الیکشن ہو گا۔ یہ نشست سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے استعفیٰ سے خالی ہوئی تھی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نارووال کے حلقہ پی پی 136میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے سلسلہ میں اپنے امیدوار کے لیے خطاب بھی کیا ۔ بلاشبہ انتخابی طریقہ کار میں مضمر خرابیوں کی جڑ جعلی ووٹنگ کا ناسور ہے جس کا علاج شیڈول کے تحت پابندی سے ہونے والے آزادانہ انتخابات کا انعقاد ہے ۔ انتخابی اصلاحات بندوق کے زور پر نہیں لائی جاسکتیں ، اس کے لیے پر امن سماجی اور سیاسی تحریکوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت 281 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جن میں نئی11سیاسی جماعتوں کا اضافہ ہوا ہے جنھیں انتخابی نشانات بھی الاٹ کردیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ملک بھر سے الیکشن ٹربیونلز سے ایک سے زیادہ ووٹ ڈالنے سمیت دیگر نمٹائے گئے اور التواء کا شکار الیکشن پٹیشنز کی تمام تفصیلات طلب کرلی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس وقت 405الیکشن پٹیشنز فائل ہوئی ہیں جن پر کام جاری ہے ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کو ویب سائٹ پر ڈالنے کے لیے کام جاری ہے ۔

اس ضمن میں سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنوردلشاد نے فکر انگیز نکات اٹھائے ہیں، انھوں نے کہا کہ نشان انگوٹھا کی تصدیق انتہائی مشکل کام ہے جوصرف نادرا کر سکتا تھا لیکن اس وقت نادراکی مشینری بھی غیرفعال ہے ۔ تاہم پریذائیڈنگ افسر ہی یہ بتا سکتا ہے کہ انگوٹھے کے نشان کے بغیر کتنے ووٹ ڈالے گئے اور جعلی ووٹ ڈالنے پر سزا ہوسکتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ کام انتخابات کے 3 ماہ کے اندر کرلینا چاہیے تھا ۔ اب ٹربیونلزمیں جو مقدمات ہیں انھی پرفیصلے آجائیں اورانھی حلقوں میں تصدیق کرالی جائے تو بہتر ہے ۔اس سے ثابت ہوا کہ انتخابی شفافیت اور جعلی ووٹنگ کا راستہ روکنے کا عمل خالص تکنیکی ہے اس لیے ارباب اختیار الیکشن کمیشن کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے میں بخل سے کام نہ لیں۔ انتخابی اصلاحات وقت کا تقاضہ ہیں ۔
Load Next Story