ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوشش
حکومت کے پاس اپنے اخراجات کی کفالت کے لیے پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا آسان رستہ موجود ہے
حکومت کے پاس اپنے اخراجات کی کفالت کے لیے پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا آسان رستہ موجود ہے فوٹو: فائل
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آیندہ مالی سال 2014-15کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے اور نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر کی تجاویز کی منظوری دیدی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کرنے کے اعلانات تقریباً ہر بجٹ سے پہلے تمام حکومتوں کے وزرائے خزانہ کی طرف سے کیے جاتے رہے ہیں لیکن ان اعلانات پر عملدرامد کم ہی نظر آیا ہے تاآنکہ اگلے بجٹ سے پہلے پھر اسی مضمون کا اعلان اخبارات کی زینت بنا دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا اس حوالے سے عمومی تجزیہ یہ ہوتا ہے کہ چونکہ حکومت کے پاس اپنے اخراجات کی کفالت کے لیے پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا آسان رستہ موجود ہے اس لیے وہ بااثر افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے تردد کی زحمت سے گریزاں رہنے میں عافیت محسوس کرتی ہے البتہ زبانی کلامی اعلانات پر چونکہ کوئی خاص خرچ نہیں آتا اس لیے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ پیر کو بجٹ سازی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیر خزانہ نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ایف بی آر کی تجاویز کی منظوری دیتے ہوئے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی تجاویز کو حتمی شکل دے کر فنانس بل میں شامل کیا جائے اور آیندہ بجٹ میں ٹیکس کی وصولی کے عمل کو آسان بنا کر ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم ٹیکس نیٹ بڑھانے کی تجاویز پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی۔
وزیر خزانہ نے منصوبہ بندی کمیشن اور دیگر وزارتوں کے حکام کے اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں انھوں نے کہا کہ آیندہ مالی سال کا بجٹ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا عکاس ہو گا جس میں ٹیکس دھندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ سازی کے لیے تمام چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور اسٹیک ہولڈرز کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کی خواہش پرانی ہے' اگر موجودہ حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا اس حوالے سے عمومی تجزیہ یہ ہوتا ہے کہ چونکہ حکومت کے پاس اپنے اخراجات کی کفالت کے لیے پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا آسان رستہ موجود ہے اس لیے وہ بااثر افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے تردد کی زحمت سے گریزاں رہنے میں عافیت محسوس کرتی ہے البتہ زبانی کلامی اعلانات پر چونکہ کوئی خاص خرچ نہیں آتا اس لیے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ پیر کو بجٹ سازی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیر خزانہ نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ایف بی آر کی تجاویز کی منظوری دیتے ہوئے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی تجاویز کو حتمی شکل دے کر فنانس بل میں شامل کیا جائے اور آیندہ بجٹ میں ٹیکس کی وصولی کے عمل کو آسان بنا کر ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم ٹیکس نیٹ بڑھانے کی تجاویز پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی۔
وزیر خزانہ نے منصوبہ بندی کمیشن اور دیگر وزارتوں کے حکام کے اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں انھوں نے کہا کہ آیندہ مالی سال کا بجٹ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا عکاس ہو گا جس میں ٹیکس دھندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ سازی کے لیے تمام چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور اسٹیک ہولڈرز کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کی خواہش پرانی ہے' اگر موجودہ حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔